عبدالرحیم مندوخیل سماجی علوم وفنون کے بلند پایا کے عالم ودانشور اور عظیم سماجی سائنسدان تھے ، عثمان خان کاکڑ

اتوار مئی 22:00

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین اور پشتون افغان غیور ملت کی قومی سیاسی تحریک کے عظیم رہنماء عبدالرحیم خان مندوخیل مرحوم کی پہلی برسی کا مرکزی جلسہ عام کوئٹہ کے میٹروپولیٹن کارپوریشن کے سبزہ زار پر پارٹی کے صوبائی صدر سنیٹر عثمان خان کاکڑ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

جس میں پارٹی کارکنوں اور وطن پال اور باشعور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جلسے سے پارٹی کے مرکزی وصوبائی رہنمائوں عثمان خان کاکڑ ، رضا محمد رضا ، عبدالرحیم زیارتوال ، عبدالرئوف لالا ، عبید اللہ جان بابت ، ڈاکٹر حامد خان اچکزئی ، عبدالقیوم ایڈووکیٹ نے خطاب کیا ۔ جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض نصراللہ خان زیرے نے سرانجام دیئے اور تلاوت کلام پاک کی سعادت حافظ عید محمد نے حاصل کی۔

(جاری ہے)

پارٹی رہنمائوں نے مرحوم عبدالرحیم مندوخیل کو پشتون قومی سیاسی تحریک کا عظیم رہنماء قرار دیتے ہوئے ان کے تاریخی رول ،ناقابل بیان قربانیوں اور عظیم قومی خدمات وکارناموں پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا ۔ مقررین نے کہا کہ عبدالرحیم خان مندوخیل ایک نابیغہ شخصیت اورخدائیداد صلاحیتوں کے مالک تھے ۔ انہوں نے طالب علمی کے زمانے میں پشتون افغان ملت پر مسلط استعماری نظام کے تحت اس غیور ملت کی قومی معاشی اور ثقافتی محکومی اور سماجی سطح پر تباہ حالی اور پسماندگی کا ادراک حاصل کیا اور خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی اور باچاخان کی قیادت میں جاری پشتون قومی تحریک میں فعال کارکن کی حیثیت سے حصہ لیا ۔

انہوں نے تاریخی نیشنل عوامی پارٹی کی پلیٹ فارم سے پنجاب کی مسلط کردہ ون یونٹ کے استعماری نظام کے خاتمے اور تاریخی ،قومی ،لسانی اور ثقافتی بنیاد پر قوموں کے خودمختیار اور مقتدر صوبوں کے قیام اور ملک میں قوموں کی برابری اور جمہوری کی حکمرانی پر مبنی رضاکارانہ فیڈریشن کی تشکیل ، منتخب پارلیمنٹ کی بالادستی اور آئین وقانون کی حکمرانی کیلئے جمہوری تحریکوں میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔

لیکن جب نیشنل عوامی پارٹی کی قیادت نے قومی طبقاتی اور جمہوری مسئلوں پر نیشنل عوامی پارٹی کے منشور سے انحراف کرتے ہوئے پشتون ملت کو بولان تر چترال متحدہ قومی صوبہ کی قیام ، ملی تشخص اور ملی وحدت کے حق سے محروم کیا تو عبدالرحیم خان مندوخیل نے پشتون افغان ملت کو قومی ، سیاسی ، معاشی اور ثقافتی غلامی سے نجات دلانے اور پشتونخوا وطن پر اپنے غیور ملت اور بہادر عوام کی قومی اور جمہوری اقتدار قائم کرنے کیلئے قومی اور وطنی بنیادوں پر پشتونوں کی قومی جمہوری اور انقلابی پارٹی کی تشکیل کا نظریہ پیش کیا اور پشتونخواملی عوامی پارٹی کی صورت میں علمی سائنسی اور نظریاتی بنیادوں پر ایک منظم اور ناقابل تسخیر قومی پارٹی وجود میں لانے میں رہنماء اور تاریخی کردار ادا کیا ۔

مرحوم عبدالرحیم مندوخیل نے پشتونخوا وطن کی تمام جمہوری قوتوں ،محنت کش وطن پال عوام کو قومی پارٹی میں متحد کرنے کے لیئے پشتون رہبر کمیٹی ، پشتونخوا ڈیموکریٹک الائنس جیسے قومی محاذوں کی تشکیل کے علاوہ پشتون ، بلوچ ، سندھی ، سرائیکی محکوم قوموں اور ملک کے تمام عوام کی جمہوری تحریکوں ایم آر ڈی اور اے پی ڈی ایم جیسے جمہوری محاذوں کی تشکیل میں بھی تاریخی کردار ادا کیا۔

مقررین نے کہا کہ مرحوم عبدالرحیم مندوخیل سماجی علوم وفنون کے بلند پایا کے عالم ودانشور اور عظیم سماجی سائنسدان تھے ان کو افغان غیور ملت کی پر افتخار تاریخ اور اقوام عالم کی تاریخ پر اپنے وسیع مطالعے کے باعث مکمل دسترس حاصل تھی۔ یہی وجہ تھی کہ پشتون قومی تحریک کو ان کی وضع کردہ حکمت عملی اور تدابیر سے تاریخی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ۔

افغان غیور ملت کی تاریخ وجغرافیہ پر مرحوم عبدالرحیم مندوخیل کی تاریخی تصانیف انگریزی استعمار وافغانستان ،افغان اور افغانستان اور پشتونخوامیپ کے علمی سیاسی لٹریچر پشتون قومی تحریک کیلئے ایک عظیم علمی اثاثہ ہے۔مقررین نے کہا کہ مرحوم عبدالرحیم مندوخیل دو بار سنیٹر ، اور رکن صوبائی وقومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے پارلیمانی محاذ پر پشتونوں کے حقوق واختیارات کی دفاع کے ساتھ ساتھ محکوم قوموں اور ملک کے مظلوم عوام کے حق میں بھی پرافتخار کردار ادا کیا ہے ۔

قومی وحدتوں کی صوبائی خودمختیار، قومی وسائل پر حق ملکیت ، وفاقی جمہوری فیڈریشن اور ملک میں پارلیمنٹ کی بالادستی اور آئین وقانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کیلئے اٹھارویں ترمیم کی منظوری میں عبدالرحیم مندوخیل نے کلیدی کردار ادا کیا ۔عبدالرحیم خان مندوخیل نے ملکی سیاست میں فوج اور جاسوسی اداروں کی مداخلت اور آزاد وجمہوری افغانستان پر پاکستان کی استعماری حکمرانوں کی جارحیت ومداخلت کے تباہ کن نتائج سے ملک کے جمہوری قوتوں کو بروقت خبردار کیا تھا اور ان کے تمام تجزیہ اورسیاسی افکار درست ثابت ہوئے ہیں۔

مقررین نے کہا کہ کوئٹہ میں جب پشتون قومی اکثریت کے خاتمے کے غرض سے ناروا بلدیاتی حلقے مسلط کیئے گئے تو عبدالرحیم مندوخیل نے اپنے قومی اور وطنی مفادات کی دفاع کیلئے تادم مرگ تاریخی بھوک ہڑتال کی اور اپنے عظیم قربانی سے اس پشتون دشمن منصوبے کو ناکام کیا۔ وہ پشتونخوامیپ جیسی قومی جمہوری اور انقلابی پارٹی کی وجود کو پشتون افغان ملت کی نجات کا واحد وسیلہ تصور کرتے تھے ۔

مقررین نے کہا کہ پارٹی کارکنوں نے مرحوم عبدالرحیم مندوخیل کی افکار اور ان کے مثالی کردار کو مشعل راہ بناکر ان کے متعین کردہ قومی اہداف کی حصول اور ان کے قومی ارمانوں کی تکمیل کیلئے متحد ومنظم ہو کر ہر قربانی کیلئے تیار رہنا ہوگا۔ مقررین نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی حلقہ بندیوں کو تعصب اور پشتون دشمنی پر مبنی قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن نے شیرانی ، موسیٰ خیل ، ہرنائی کی صوبائی اسمبلی کی نشستوں کو ختم کرنے اور نصیر آباد ڈویژن کے تحصیل لہڑی کو سبی میں ضم کرنے اور کوئٹہ میں پشتونوں کی غالب اکثریت کے خلاف پشتون دشمن حلقہ بندیوں کے ذریعے جنوبی پشتونخوا کے پشتونوں کو نمائندگی کے آئینی وجمہوری حق سے محروم کیا ہے ۔

پشتونخوامیپ اور پشتون عوام ناانصافی پر مبنی غیر آئینی اور غیر قانونی انتخابی حلقوں کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کریگی اور ہر محاذ پر الیکشن کمیشن کے ناروا فیصلوں کے خلاف پرزور آواز اٹھائیگی۔ انہوں نے جنوبی پشتونخوا کے تمام جمہوری سیاسی پارٹیوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ پشتونوں کے انتخابی حلقوں اور قومی ووطنی مفادات کے دفاع کیلئے مشترکہ جدوجہد کریں اور اپنے عوام کی حقوق واختیارات کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

مقررین نے کہا کہ پشتون تحفظ موومنٹ PTMکے تمام مطالبات آئینی اور برحق ہے پشتونخوامیپ نے ان قومی مطالبات کی پرزور حمایت کرتی رہیگی۔ مقررین نے کہا کہ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار کو اس ملک میں پشتونوں کے ساتھ جاری بڑے بڑے قومی ناانصافیوں کے خلاف بھی سوموٹو نوٹس لینا چاہیے اور پشتونوں کی آئینی جمہور ی اور شہری حقوق کی تحفظ کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

مقررین نے کہا کہ ملک میں حکمرانی کا حق فوج اور جاسوسی اداروں کو نہیں بلکہ عوام کے منتخب نمائندوں کو حاصل ہے اور ملک کے تمام پالیسیوں کی تشکیل کا اختیار عوام کے منتخب پارلیمنٹ کو حاصل ہے ۔ ملک کے جمہوری پارٹیوں کو اسٹیبلیشمنٹ اور اداروں کا آلہ کار بننے کی بجائے منتخب پارلیمنٹ کی بالادستی اور ملک میں آئین وقانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنی چاہیے۔

مقررین نے کہا کہ جب تک ہمارے حکمران افغانستان میں مداخلت اور جارحیت کی پالیسی کا خاتمہ نہیں کرتے اس وقت تک اس ملک میں دہشتگردی ، بدامنی اور تباہ حالی کی تباہ کن صورتحال کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔ مقررین نے پارٹی کے سابق صوبائی صدر پشتون قومی تحریک کے ممتاز رہنماء محمد جان مندوخیل کی وفات پر قومی تحریک میں ان کے پرافتخار رول اور قربانیوں پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور کہاکہ محمد جان مندوخیل نے خان شہید ، کمال خان شیرانی اور عبدالرحیم مندوخیل کے رفیق کار کی حیثیت سے قومی تحریک کو منظم ومتحد کرنے میں جو پر افتخار کردار ادا کیا ہے ۔

اس پر قومی تحریک ان کی یاد کو ہمیشہ تازہ رکھے گی۔ مقررین نے گزشتہ روز پی ایم ڈی سی کول مائنز میں 23مزدوروں کے جاں بحق ہونے کے المناک واقعہ پر دلی رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت وہمدردی کا اظہار کیا ہے ۔ مقررین نے کہا کہ مائنز ومنرل ڈیپارٹمنٹ کی ناقص اور حفاظتی اقدامات کی فقدان کی وجہ سے آئے روز اس قسم کے المناک حادثات پیش آتے ہیں جس میں غریب مزدور لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

مقررین نے صوبائی حکومت ، مائنز اینڈ منرل ڈیپارٹمنٹ اور پی ایم ڈی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس حادثے میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنیوالے افیسران کے خلاف مقدمات درج کیئے جائیں اور جاں بحق ہونیوالے مزدوروں کے لواحقین کو فی الفور معاوضہ ادا کیا جائے ان کے بچوں کی تعلیم کا بندوبست کیا جائے اور انہیں ملازمتیں دی جائیں۔