نیب اختیارات سے تجاوز کر رہا ہے، فیصلے کا وقت ہے کہ آمروں کے قوانین جتنی جلدی ختم کر دیں ملک کے لیے بہتر ہوگا۔نوازشریف

ٹائی ٹینک ڈوبنے کی وجہ سامنے آگئی اور ٹائی ٹینک ڈوبنے پر نواز شریف کو نوٹس کا امکان ہے‘یہ صرف چہرے ہیں، جو تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں، اصل عوام تو ہمارے ساتھ ہیں۔احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات مئی 11:30

نیب اختیارات سے تجاوز کر رہا ہے، فیصلے کا وقت ہے کہ آمروں کے قوانین ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔10 مئی۔2018ء) سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ نیب بہت سے معاملات میں اختیارات سے تجاوز کر رہا ہے، اب فیصلے کا وقت ہے کہ آمروں کے قوانین جتنی جلدی ختم کر دیں ملک کے لیے بہتر ہوگا۔اسلام آباد کی احتساب عدالت میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران نواز شریف نے کہا کہ نیب بہت سے معاملات میں اختیارات سے تجاوز کر رہا ہے جب کہ چیئرمین نیب سے متعلق وزیراعظم کی پارلیمنٹ میں گفتگو خوش آئند ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ ملک میں جمہوری حکومتوں کے قانون چلیں گے یا آمروں کے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ نیب کی طرف سے کوئی چیز سامنے آنی ہوتی تو پہلے 10 روز میں آجاتی، جب تک نیب کو ثبوت نہ مل جائے یہ ٹرائل آگے بڑھتا رہے گا۔

(جاری ہے)

نواز شریف نے کہا کہ پنجاب ہاﺅس میں آج ہنگامی پریس کانفرنس کی جائے گی جس میں منی لانڈرنگ کے حالیہ الزامات پر بات ہوگی۔

سابق وزیراعظم نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر چل رہا ہے کہ ٹائی ٹینک ڈوبنے کی وجہ سامنے آگئی اور ٹائی ٹینک ڈوبنے پر نواز شریف کو نوٹس کا امکان ہے۔گوجرانوالہ سے رانا نذیر کی تحریک انصاف میں شمولیت پر نواز شریف نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بھی سنا ہے کہ وہ تحریک انصاف میں جا رہے ہیں، ان کے بیٹے نے پارٹی صدارت کے لیے مجھے ووٹ نہیں دیا تھا۔

نواز شریف نے کہا کہ عمران خان کی کسی بات پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا، وہ سیاستدان ہی کیا جس کی بات پر اعتبار نہ کیا جائے۔عمران خان کی بریت سے متعلق سوال پر نواز شریف نے کہا کہ اللہ نہ کرے ہماری قسمت عمران خان کی طرح ہو۔ ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے چیئرمین نیب کو پارلیمان میں طلب کرنے کی بات خوش آئند ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب آرڈیننس ایک ٹیلر میڈ قانون ہے، جو مشرف کے مکروہ عزائم کو پورا کرنے کے لیے بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ نیب کا قانون ایک آمر کا قانون ہے لیکن ابھی بھی وقت ہے کہ ہم جلدی سے فیصلے کرلیں تو ہم اس سے بچ سکتے ہیں، ہمارے لیے یہ چیزیں توجہ کی مستحق تھیں لیکن ہماری ترجیح ترقی تھی۔سابق وزیر اعظم کی جانب سے منی لانڈرنگ سے متعلق پریس ریلیز پر سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹائی ٹینک ڈوبنے کی اصل وجہ سامنے آگئی ہے اور نواز شریف کو نوٹس جاری ہونے کا امکان ہے۔

جنوبی پنجاب صوبہ محاذ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو لوگ تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں، ان میں سے کئی لوگوں کو میں نہیں پہچانتا، گزشتہ 5 سال میں خسرو بختیار نے جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے مجھ سے کوئی بات نہیں کی تھی۔ نواز شریف کی جانب سے کہا گیا کہ یہ صرف چہرے ہیں، جو تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں، اصل عوام تو ہمارے ساتھ ہیں۔

صحافیوں سے گفتگو کے دوران نواز شریف سے جب پوچھا گیا کہ آپ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کو الگ صوبہ بنانے کے حق میں ہیں یا خیبرپختووا میں ضم کرنے کے؟ تو اس پر نواز شریف کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔دوسری جانب  مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملزریفرنس کی سماعت کل تک ملتوی ہوگئی۔ اسلام آباد میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔

مسلم لیگ نون کے قائد نوازشریف احتساب عدالت میں پیش ہوئے جبکہ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءکا بیان قلمبند کیا گیا۔احتساب عدالت میں سماعت کے آغاز پر جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءنے بتایا کہ 20اپریل کوایڈیشنل ڈائریکٹرایف آئی اے کے طورپرکام کررہا تھا۔واجد ضیاءنے کہا کہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ سنایا، عدالت عظمیٰ نے گلف اسٹیل کے قیام، فروخت، واجبات سے متعلق سوالات پوچھے۔

جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ سرمایہ قطرسے کیسے برطانیہ، سعودی عرب گیا؟ یہ بھی سوال شامل تھا، سپریم کورٹ نے پوچھا قطری شہزادے حماد بن جاسم کا خط افسانہ تھا یا حقیقت اور حسین نوازکی جانب سے والد کوکروڑوں کے تحائف سے متعلق سوال کیے گئے۔واجد ضیاءنے نے عدالت کو بتایا کہ یہ وہ سوال ہیں جن سے متعلق تفتیش کرنی تھی جبکہ لندن فلیٹس سے متعلق بھی سوالات پوچھے گئے، برطانیہ میں کمپنی کا سوال پوچھا گیا جوریفرنس سے متعلق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ تفتیش کرنی تھی نوازشریف اثاثوں کے مالک ہیں یابے نامی دار،جے آئی ٹی کو60 دنوں میں حتمی رپورٹ کی ہدایات دی گئیں۔جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ عدالتی حکم پرجے آئی ٹی کے ناموں کوحتمی شکل دی گئی، مجھے جے آئی ٹی سربراہ اور دیگر5 افراد کوبطورممبرشامل کیا، 10جولائی2017 کوجے آئی ٹی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں جمع کرائی۔احتساب عدالت میں سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہرفقرے پراعتراض نہ اٹھائیں، ہم بھی جواب دیں گے بیان بہت لمبا ہوجائے گا، اپنا اعتراض لکھ لیں بعد میں اس پربحث کرلیں، درست ہو یاغلط آپ نے ہربات پراعتراض کرنا ہے۔نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میری قانونی ذمہ داری ہے اعتراض بنتا ہے تو اٹھاﺅں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ اس طرح سے بیان ریکارڈ نہیں ہوسکتا۔

واجد ضیاءنے عدالت کو بتایا کہ جےآئی ٹی نے یواے ای اورسعودی عرب کوایم ایل ایزبھجوائے، صرف یواے ای نے ایم ایل ایزکا جواب دیا جبکہ سعودی عرب سے ایم ایل ایزکا کوئی جواب نہیں آیا۔جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں جمع درخواستوں کے تجزیے سے کام شروع کیا، درخواست گزارکی درخواست اورملزمان کی متفرق درخواستوں کا جائزہ لیا۔انہوں نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے ایف بی آر، ایس ای سی پی سے ریکارڈ جمع کیا، جے آئی ٹی نے متعلقہ افراد کے بیانات بھی قلمبند کیے، طارق شفیع، نوازشریف، شہبازشریف، حسن اورحسین نوازکے بیانات قلمبند کیے۔

واجد ضیاءنے عدالت میں الدارآڈٹ بیورورپورٹ کی کاپی پیش کرتے ہوئے کہا کہ آڈٹ بیورو کی رپورٹ 2010 سے 2014 تک ہے جبکہ رپورٹ کی کاپی سی ایم اے 432 کے ساتھ منسلک ہے۔نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ کاپیاں گواہ نے خود تیارنہیں کیں، واجد ضیاءنے کہا کہ حسین نوازکی طرف سے رپورٹ 2010 سے 2015 تک کی تھی۔خواجہ حارث نے کہا کہ حسین نوازاس عدالت میں پیش ہی نہیں ہوئے، استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ حسین نوازسے منسوب بیان اس عدالت میں قابل قبول شہادت نہیں ہے، حسین نوازکی فراہم کردہ کاپی والیم 6 میں شامل ہے۔

کیویوای ہولڈنگ لمیٹڈ کی تصدیق شدہ کاپیاں مارچ 2008کی اسٹیٹمنٹ اور13 مئی 2017 کوسیکرٹری خارجہ کولکھا گیا خط عدالت میں پیش کیا گیا۔سابق وزیراعظم کے وکیل نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اصل خط نہیں پیش کیا گیا، یہ کاپی ہے، واجد ضیاءنے جواب دیا کہ 15مئی 2017 کوخط سے بتایا گیا آپ کا خط پہنچا دیا گیا۔جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ وزارت خارجہ کے افسرآفاق احمد نے خط پہنچ جانے کا بتایا، آفاق احمد نے عدالت میں اس سے متعلق بیان نہیں دیا، سیکرٹری خارجہ سے خط کی باقاعدہ ڈیلیوری رپورٹ مانگی۔

واجد ضیاءنے کہا کہ 18مئی 2017 کوآفاق احمد نے مجھے دوسراخط بھیجا، 18مئی کے خط کی تصدیق شدہ کاپی پیش کردی ہے۔خواجہ حارث نے کہا کہ آفاق احمد گواہ کے طورپرپیش ہوئے خط کا ذکرنہیں کیا جبکہ پیش کی گئی کاپی سے یہ واضح نہیں ہوتا یہ آفس کاپی ہے۔جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ 24 مئی 2017 کو ہی سیکرٹری خارجہ کو بھی خط لکھا جبکہ 30 مئی 2017 کے خط کی کاپی پہلے پیش کرچکا ہوں۔

احتساب عدالت میں سماعت کے دوران قطری شہزادے کا11جون 2017 اور 26 جون 2017 کا خط عدالتی ریکارڈ کاحصہ بنا دیا گیا۔واجد ضیاءنے کہا کہ کوریئرسروس کا اصل لفافہ بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے، 6 جولائی2017 کا قطری شہزادے کا خط عدالتی ریکارڈ کاحصہ بنا دیا گیا۔جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءنے کہا کہ 4 جولائی کا خط رپورٹ کا حصہ نہیں مگراصل موجود ہے۔احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف اور مسلم لیگ (ن )کے قائد کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کل تک ملتوی ہوگئی۔