’نواز شریف کی حکمت عملی سے توانائی بحران، دہشت گردی سے نجات ملی ،ْ مشاہد اللہ خان

دبائو میں آکر نوازشریف مستعفی ہو جاتے تو دہشتگردی اور بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ کیخلاف جاری طویل جدوجہد ادھوری رہ جاتی نوازشریف کو وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی ،ْ سپریم کورٹ نے پاناما پیپرز کیس میں گھر بھیج دیا ،ْ وفاقی وزیر کچھ موقع پرستوں کی غداری کے باوجود پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے گڑھ پر کوئی اثر نہیں پڑے ،ْانٹرویو

پیر مئی 15:03

’نواز شریف کی حکمت عملی سے توانائی بحران، دہشت گردی سے نجات ملی ،ْ ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ پارٹی کے تاحیات قائد نواز شریف کے فیصلوں اور حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان کو توانائی بحران اور دہشت گردی کی لعنت سے نجات ملی اور اسی نے 25 جولائی کے انتخابات کی جانب جانے کیلئے درست پلیٹ فارم فراہم کیا۔ایک انٹرویومیںمشاہد اللہ خان نے کہاکہ اگر 2014 میں عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف اور طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے دیئے گئے دھرنے کے دوران اور 2016 میں نیوز لیکس معاملے پر دباؤ میں آکر نواز شریف اپنے عہدے سے دستبردار ہوجاتے تو مسلم لیگ (ن) کی دہشت گردی اور بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف جاری طویل جدوجہد درمیان میں ہی ادھوری رہ جاتی۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ اب ہم نے یہ دونوں مسائل مکمل طور پر حل کر لیے ہیں لہٰذا عمران خان کی تحریک انصاف کو آئندہ انتخابات کیلئے ایک حکمت عملی کے تحت فیوریٹ بنانے کے باوجود مسلم لیگ (ن) کامیاب رہی ہے اور اگر کسی کو اس بات پر شبہ ہے تو وہ آزادانہ طور پر اس حوالے سے ایک سروے کروالے۔انہوں نے کہاکہ نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر اپنی آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی اور سپریم کورٹ نے انہیں پاناما پیپرز کیس میں گھر بھیج دیا، لیکن مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے متعدد چیلنجز کے باوجود اپنی مدت پوری کی ہے اور بالآخر مسلم لیگ (ن) نے ملک کو درپیش مسائل کو حل کیا۔

سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہاکہ نواز شریف نے اپنے کیس کو عوام کے سامنے پیش کرکے اپنا کام پورا کیا اور بتایا کہ ان کے اور ان کی جماعت کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔انہوں نے اس بات کو واضح کیا کہ کچھ موقع پرستوں کی غداری کے باوجود پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے گڑھ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔لیگی سینیٹر نے کہا کہ غداری کے اس مسئلے پر اس انداز میں پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اپنے منتخب نمائندے گنوا رہی ہے، تاہم یہ واضح ہے کہ جن لوگوں نے حکمراں جماعت کو چھوڑا اور پی ٹی ا?ئی میں شمولیت اختیار کی وہ نہ ہی مسلم لیگ (ن) کے پرانے محافظ ہیں اور نہ ہی وہ حقیقی منتخب نمائندے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی زیرِ صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں 121 اراکینِ قومی اسمبلی نے شرکت کی جس سے یہ واضح ہے کہ پارٹی آج کہاں کھڑی ہے اور اراکینِ اسمبلی کی جانب سے پارٹی چھوڑنے کے باوجود پارٹی میں عہدوں کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں ہے۔انہوںنے کہا کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب سے کلین سویپ کرے گی اور خیبرپختونخوا سے بھی نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوگی جبکہ کراچی اور بلوچستان میں بھی سیاسی حریفوں کو ٹف ٹائم دیگی۔