حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈلاک ختم ، سابق چیف جسٹس ناصر الملک متفقہ طورپر نگراں وزیر اعظم مقرر

پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں جمہوریت کا عرصہ کم رہا ، کوشش تھی کہ نگران وزیراعظم کیلئے کسی ایسے شخص کا نام سامنے لایا جائے جس پر عوام اور تمام جماعتوں کا اتفاق رائے ہو اور وہ غیر سیاسی ہو،نواز شریف نے کبھی نہیں کہا کہ نگران وزیراعظم عدلیہ سے نہ ہو،نگران وزیراعظم کے متفق فیصلے پر تمام قوم مبارکباد کی مستحق ہے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی فخر ہے کہ ہم نے مل بیٹھ کر نگران وزیراعظم کا معاملہ حل کرلیا ہے اورآج کے دن سیاستدان عوام کے سامنے سرخرو ہوئے ،عوام جن کو اپنا ووٹ دیتی ہے وہ اپنا آئینی کردار نبھانا جانتے ہیں، 2014میں دھرنوں کے دوران بھی پیپلز پارٹی نے بھرپور آئینی کردار ادا کیا تھا اور آج 2018میں بھی پیپلز پارٹی نے اپنے مفاد کو پیچھے رکھتے ہوئے پاکستان کے بہتر مستقبل کیلئے بھرپور آئینی کردار ادا کیا ، ناصر الملک کی پاکستان کی عدلیہ کی بہتری کیلئے عظیم خدمات ہیں، یہ انتخابات پاکستان کی تاریخ کیلئے بہت اہم ہو ں گے،اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ

پیر مئی 18:23

حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈلاک ختم ، سابق چیف جسٹس ناصر الملک متفقہ طورپر ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نگراں وزیر اعظم پر موجود ڈیڈلاک ختم ہو گیا اور دونوں نے متفقہ طور پر نگراں وزیراعظم کیلئے سابق چیف جسٹس جسٹس (ر))ناصر الملک کے نام کا اعلان کردیا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں جمہوریت کا عرصہ کم رہا ، کوشش تھی کہ نگران وزیراعظم کیلئے کسی ایسے شخص کا نام سامنے لایا جائے جس پر عوام اور تمام جماعتوں کا اتفاق رائے ہو اور وہ غیر سیاسی ہو،،نواز شریف نے کبھی نہیں کہا کہ نگران وزیراعظم عدلیہ سے نہ ہو،نگران وزیراعظم کے متفق فیصلے پر تمام قوم مبارکباد کی مستحق ہے،اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ فخر ہے کہ ہم نے مل بیٹھ کر نگران وزیراعظم کا معاملہ حل کرلیا ہے اورآج کے دن سیاستدان عوام کے سامنے سرخرو ہوئے ،عوام جن کو اپنا ووٹ دیتی ہے وہ اپنا آئینی کردار نبھانا جانتے ہیں، 2014میں دھرنوں کے دوران بھی پیپلز پارٹی نے بھرپور آئینی کردار ادا کیا تھا اور آج 2018میں بھی پیپلز پارٹی نے اپنے مفاد کو پیچھے رکھتے ہوئے پاکستان کے بہتر مستقبل کیلئے بھرپور آئینی کردار ادا کیا ، ناصر الملک کی پاکستان کی عدلیہ کی بہتری کیلئے عظیم خدمات ہیں، یہ انتخابات پاکستان کی تاریخ کیلئے بہت اہم ہو ں گے۔

(جاری ہے)

پیر کونگراں وزیراعظم کے نام پر مشاورت کے لیے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان 6 ملاقاتیں ہوئیں اور چھٹی ملاقات میں جسٹس (ر))ناصر الملک کے نام پر اتفاق کیا گیا،جس پروزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور قومی اسمبلی میںقائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران نگراں وزیراعظم کے نام کا اعلان کیا، اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بھی موجود تھے۔

اس موقع پر سپیکرقومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ آج کا دن پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں ایک اہم دن ہے، نگران وزیراعظم کا معاملہ کافی دنوں سے گردش کررہا تھا اور اپوزیشن و حکومتی جماعتوں نے نگران وزیراعظم کیلئے 6امیدواروں کا نام پیش کیا تھا، اس سلسلے میں وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے مابین چار سے پانچ ملاقاتیں ہوئیں، جس میں تمام امیدواروں کے ناموں پر مشاورت کی گئی،مجھے خوشی ہے کہ آخر کار فتح جمہوریت اور پارلیمان کی ہوئی اور حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نگران وزیراعظم کے معاملے پر ایک نام اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا ہے، یہ فیصلہ پاکستان اور جمہوریت کے حق میں بہترین ہو گا۔

اس موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں جمہوریت کا عرصہ کم رہا ہے اور آج کا دن اس جمہوری سفر کا اہم سنگ میل ثابت ہو گا،میں نے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے نگران وزیراعظم کیلئے تجویز کئے گئے ناموں پر تفصیلی بحث کی اور باقی تمام اپوزیشن کی جماعتوں سے بھی رابطے کئے گئے ، ہم تمام جماعتوں کے مشکور ہیں کہ انہوں نے اس عمل میں ہمارا بھرپور ساتھ دیا، جس کے باعث آج ہم نگران وزیراعظم کے نام پر اتفاق کر چکے ہیں، ہماری پوری کوشش تھی کہ نگران وزیراعظم کیلئے کسی ایسے شخص کا نام سامنے لایا جائے جس پر عوام اور تمام جماعتوں کا اتفاق رائے ہو اور وہ غیر سیاسی ہو، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے نگران وزیراعظم کے چنائو کے عمل میں ہماری بھرپور مدد کی، جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں،میں اپنے قائد نواز شریف کا بھی مشکور ہوں، جنہوں نے اس معاملے پر میرا بھرپور ساتھ دیا، نواز شریف نے کبھی نہیں کہا تھا کہ نگران وزیراعظم عدلیہ سے نہ ہو،نگران وزیراعظم کے متفق فیصلے پر تمام قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔

اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا کہ آج کا دن جمہوریت کی فتح ہے، وزیراعظم سے میری ملاقاتیں فائدہ مند رہیں اور انہوں نے میری بات کو ٹھنڈے دل سے سنا، اس معاملے پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بھی اپنا آئینی کردار بھرپور طریقے سے نبھایا، نگران وزیراعظم کے معاملے پر سیاستدانوں میں میڈیا پر خوب تبصرے ہو رہے تھے اور کہا جا رہا تھا کہ سیاستدان نگران وزیراعظم کے معاملے پر بھی اتفاق نہیں کر سکیں گے اور فیصلہ الیکشن کمیشن کو کرنا پڑے گا، مجھے فخر ہے کہ ہم نے مل بیٹھ کر نگران وزیراعظم کا معاملہ حل کرلیا ہے اورآج کے دن سیاستدان عوام کے سامنے سرخرو ہوئے ہیں کہ عوام جن کو اپنا ووٹ دیتی ہے وہ اپنا آئینی کردار نبھانا جانتے ہیں، نگران وزیراعظم کیلئے 6نام مشاورت کیلئے سامنے آئے تھے جن پر وزیراعظم کے ساتھ مشاورت ہوئی، تمام امیدوار اچھے اور قابل احترام ہیں لیکن آخر میں فیصلہ کسی ایک پر ہی ہونا تھا، میں پیپلز پارٹی کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے میرے اس معاملے پر رہنمائی کی اور میرے ساتھ کھڑے رہے،2014میں دھرنوں کے دوران بھی پیپلز پارٹی نے بھرپور آئینی کردار ادا کیا تھا اور آج 2018میں بھی پیپلز پارٹی نے اپنے مفاد کو پیچھے رکھتے ہوئے پاکستان کے بہتر مستقبل کیلئے بھرپور آئینی کردار ادا کیا ہے، وزیراعظم کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد ہم نے نگران وزیراعظم کیلئے جسٹس(ر) ناصر الملک کے نام پر اتفاق کیا ہے، ناصر الملک کی پاکستان کی عدلیہ کی بہتری کیلئے عظیم خدمات ہیں، امید ہے کہ وہ اسی جذبے کے ساتھ آئندہ بھی خدمات سرانجام دیں گے اور 2018کے انتخابات غیر جانبدار اور شفاف طریقے سے کروائیں گے، یہ انتخابات پاکستان کی تاریخ کیلئے بہت اہم ہو ں گے کیونکہ پاکستان اس وقت ایک اہم موڑ سے گزر رہا ہے اور اس موقع پر جمہوریت کا تسلسل بھی بہت ضروری ہے، مجھے خوشی ہے کہ پاکستان میں آئینی حکومت دوسری بار اپنی پانچ سالہ مدت پوری کر رہی ہے، اس سفر کے دوران بہت سی مشکلات بھی پیش آئیں لیکن جمہوری عمل کسی نہ کسی طریقے سے چلتا رہا اور امید ہے کہ آئندہ بھی یہ سفر جاری رہے گا، تمام سیاستدانوں سے اپیل ہے کہ وہ پارٹی مفاد سے ہٹ کر پاکستان کیلئے بہترین پروگرام دیں اور آخر کار فیصلہ عوام کو ہی کرنا ہے، ہم نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ نگران وزیراعظم کیلئے بہترین نام پیش کر کے اچھی نگران حکومت کے قیام کی بنیاد ڈالیں،نگران وزیراعظم کا چنائو وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے کیا جاتا ہے اور یہ ان کا آئینی اختیار ہے، نگران وزیراعظم کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف سے مشاورت نہیں کی گئی۔

یاد رہے کہ نگراں وزیراعظم کی تعیناتی کے لیے پیپلز پارٹی کی جانب سے ذکا اشرف اور جلیل عباس جیلانی کے نام سامنے آئے تھے جب کہ حکومت نے جسٹس (ر))تصدق حسین جیلانی،، جسٹس (ر)ناصرالملک اور ڈاکٹر عشرت حسین کے نام تجویز کیے تھے۔