کبھی کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہی،

میرا قصور یہ ہے کہ نواز شریف کی بیٹی ہوں، بہادر اور قابل فخر بیٹیوں کی طرح ڈٹ کر اپنے باپ کے ساتھ کھڑی ہوں، مجھے ریفرنسز میں الجھانے کی ایک وجہ میرے والد کے اعصاب پر دبائو ڈالنا ہے پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں وطن عزیز کی کسی خاتون‘ کسی ماں‘ کسی بہن اور کسی بیٹی کو اس طرح اتنی پیشیاں نہیں بھگتنا پڑیں، منصوبے بنانے والو یاد رکھو نواز شریف کی بیٹی اس کی کمزوری نہیں اس کی طاقت ہے مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی والد کے ہمراہ پریس کانفرنس

منگل مئی 13:49

کبھی کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہی،
اسلام آباد۔ 29 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ میرا قصور یہ ہے کہ میں نواز شریف کی بیٹی ہوں‘ نواز شریف کو پریشان کرنے کے لئے مجھے تنگ کیا جارہا ہے‘ میں نواز شریف کی طاقت اور قوم کی بیٹی ہوں‘ پاکستان کا سر نہیں جھکنے دوں گی۔ منگل کو پنجاب ہائوس میں اپنے والد سابق وزیراعظم نواز شریف کے ہمراہ پریس کانفرنس میں احتساب عدالت میں دیا گیا بیان پڑھ کر سناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دن میرے جوابات احتساب عدالت میں ریکارڈ کئے گئے۔

مجھ پر ایک سوال یہ تھا کہ یہ مقدمہ آپ پر کیوں بنایا گیا۔ اس سوال اور جواب کو عوام کے سامنے رکھوں گی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا جو فیصلہ آیا تب بھی سوالات اور ثبوت وہی تھے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں وطن عزیز کی کسی خاتون‘ کسی ماں‘ کسی بہن اور کسی بیٹی کو اس طرح اتنی پیشیاں نہیں بھگتنا پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا یہ قصور نہیں کہ میں نے بدعنوانی کی‘ کسی کرپشن میں ملوث ہوئی‘ کوئی چوری کی‘ کوئی ڈاکہ مارا‘ میں تو کسی سرکاری عہدے پر کبھی فائز ہی نہیں رہی۔

میرا قصور یہ ہے کہ میں نواز شریف کی بیٹی ہوں اور میرا قصور یہ بھی ہے کہ میری رگوں میں محمد نواز شریف کا لہو دوڑتا ہے۔ میرا قصور یہ بھی ہے کہ پاکستان کی بہادر اور قابل فخر بیٹیوں کی طرح ڈٹ کر اپنے باپ کے ساتھ کھڑی ہوں۔ میرا قصور یہ ہے کہ میں اپنے باپ کو حق پر سمجھتی ہوں اور میرا قصور یہ ہے کہ میں اپنے باپ کے بیانیے کے ساتھ کھڑی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ اس مقدمے اور ان ریفرنسز میں الجھانے کی ایک وجہ یہ ہے کہ میرے والد کے اعصاب پر دبائو ڈالا جائے‘ منصوبہ ساز جانتے ہیں کہ باپ بیٹی کا رشتہ کتنا نازک ہوتا ہے۔

ان کا خیال تھا کہ کسی دبائو میں نہ آنے والا نواز شریف ہر جبر کے سامنے سینا تان کر کھڑا ہونے والا نواز شریف‘ تنی ہوئی بندوق کے سائے میں اعلان کرنے والا نواز شریف‘ کہ مارو گولی میں استعفیٰ نہیں دوں گا۔ دنیا بھر کی دھمکیوں اور لالچ کو ٹھکرا کر ایٹمی دھماکے کرنے والا نواز شریف اور پوری جرات سے پرویز مشرف کے ظلم سہنے والا نواز شریف ، سوچا گیا اور منصوبہ بنایا گیا کہ فولاد کا دل رکھنے والے نواز شریف کو صرف ایک ہی طریقے سے جھکایا جاسکتا ہے کہ اس کی بیٹی پر مقدمے بنائو اور اس کی بیٹی کو جے آئی ٹی کے سامنے لائو اور اس کی بیٹی کو عدالتوں اور کچہریوں میں گھسیٹو۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف ایک محبت کرنے والا روایتی باپ ہے‘ بیٹی کو کٹہرے میں دیکھے گا تو اس کے اعصاب جواب دے جائیں گے۔ وہ گردن جھکا دے گا لیکن ایسا سوچنے والے نواز شریف کو نہیں جانتے‘ ایسا سوچنے والے نواز شریف کی بیٹی کو بھی نہیں جانتے۔ انہوں نے کہا کہ میرا باپ 70 سال کی بیماریوں کے خلاف جہاد کا پرچم لے کر میدان میں نکلا ہے۔ وہ عوام کی حاکمیت کا پرچم لے کر نکلا ہے ‘ وہ عوام کے حقوق کا پرچم لے کر نکلا ہے‘ وہ کسی کرسی یا اقتدار کے لئے نہیں‘ ووٹ کو عزت دو کا پرچم لے کر نکلا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک بڑے انقلاب ‘ ایک بڑی تبدیلی کے لئے میدان میں نکلا ہے۔ پاکستان میں ووٹ کی عزت پر یقین رکھنے والا ہر شخص نواز شریف کے ساتھ ہے۔ میں اس جہاد میں ان کے ساتھ کھڑی ہوں۔ اس لئے بھی کہ ان کی بیٹی ہوں اور اس لئے بھی کہ پاکستان کی بیٹی ہوں جسے دنیا میں تماشا بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دین ‘ تہذیب ‘ اقدار اور روایات میں بیٹیوں کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔

ہمارے معاشرے میں صدیوں سے کہا جارہا ہے کہ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں لیکن آج سب کچھ بغض‘ عناد اور عداوت کی نظر ہو گیا ہے اور سب کچھ انتقام کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بیٹیاں سانجھی نہیں رہیں۔ آج کا دستور یہ ہے کہ بیٹی کو باپ کے سامنے کمزوری بنا کر استعمال کرو۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے بنانے والو یاد رکھو نواز شریف کی بیٹی اس کی کمزوری نہیں اس کی طاقت ہے۔

اللہ کے فضل و کرم سے سر اٹھا کر اس کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر آزمائش اور امتحان میں اس کے ساتھ رہے گی ‘ میں نواز شریف کی بیٹی ہوں‘ میں پاکستان کی بیٹی ہوں‘ میں پاکستان سے محبت کرنے والے ہر غیرت مند باپ کی بیٹی ہوں۔ میں نہ اپنے باپ کا سر جھکنے دوں گی نہ غیرت مند پاکستانیوں کا سر جھکنے دوں گی اور نہ پاکستان کا سر جھکنے دوں گی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے بہت سے جرائم ہوں گے‘ بہت سے گناہ ہوں گے‘ اس نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا۔

اس نے پاکستان کو جدید ترین انفراسٹرکچر دیا۔ اس نے پاکستان میں جدید شاہراہوں اور موٹرویز کا جال بچھایا۔ اس نے بلوچستان کو بدامنی سے نکال کر امن و سکون دیا۔ اس نے شہر قائد‘ کراچی کی رونقیں بحال کیں۔ اس نے دیوالیہ ہو جانے والی معیشت کو بحال کیا۔ اس نے نوجوانوں اور بیروزگاروں کے لئے روزگار کے مواقع کھولے۔ اس نے 19 سال بعد مردم شماری کرائی۔

اس نے 70 سال بعد فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کیا۔ اس نے وطن کے اندھیرے دور کئے اور بجلی کی پیداوار میں دس ہزار میگاواٹ کا اضافہ کیا۔ اس نے دہشت گردی کا خاتمہ کیا۔ اس نے سی پیک کی شکل میں پاکستان کو اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری دی۔ اس نے پاکستانی قوم کو امید اور یقین کی روشنی دی اور وہ پہلی بار ایک ڈکٹیٹر کو قانون کے شکنجے میں لایا۔ یہ سب اس کے جرائم ہیں۔

سب اس کے گناہ ہیں۔ اسی لئے وہ پیشیاں بھگت رہا ہے‘ اسی لئے اسے مقدموں میں الجھایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا واحد قصور یہ ہے کہ میں نواز شریف کی بیٹی ہوں‘ میں اس کی بیٹی اور پاکستان کی بیٹی کی حیثیت سے ہر سزا کے لئے تیار ہوں۔ میرا ایمان ہے کہ سب سے بڑی عدالت صرف اللہ کی عدالت ہے وہ عدالت جہاں کوئی وٹس ایپ کالز نہیں ہوتیں‘ جہاں کوئی جے آئی ٹی نہیں بنتی‘ جہاں کسی گواہ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی عدالت فیصلہ دیتے وقت اس بڑی عدالت کو ضرور یاد رکھے گی۔