مقبوضہ کشمیر، بھارتی پولیس کی گاڑی نے سرینگر میں ایک نوجوان کو دانستہ طور پر کچل ڈالا ،ْایک نو جوان زخمی

ہفتہ جون 13:15

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس( سی آر پی ایف) کی گاڑی نے سرینگر کے علاقے نوہٹہ میں میں ایک کشمیری نوجوان کو دانستہ طور پر کچل ڈالاجبکہ گاڑی کے نیچے آنے کی وجہ سے ایک او ر نوجوان زخمی ہو گیا۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سرینگر کے علاقے نوہٹہ میں تاریخی جامع مسجد کے باہر جمعہ کو لوگ نماز جمعہ کے بعدقابض بھارتی فورسز کی طرف سے مسجد کی بے حرمتی کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہے تھے کہ اس دورن خانیار کی طرف سے آنے والی سی آر پی ایف کی ایک تیز رفتار گاڑی مظاہرین پر چڑھ دوڑی ۔

عینی شاہدین کے مطابق یونس احمد اور قیصر بٹ نامی دو نوجوان گاڑی کے نیچے آنے کے باعث زخمی ہو گئے جنہیں لوگوں نے فوری طور پر ہسپتال پہنچا یا جہاں قیصر بٹ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

(جاری ہے)

المناک واقعے کا نشانہ بننے والے دونوں نوجوانوں کی تصاویر سماجی رابطوں کی سائٹوں پر فوری طور پر وائرل ہو گئیں جس کے بعد علاقے میں زبردست احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ۔

قابض اہلکاروں اورمظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور اس دوران متعدد نوجوان زخمی ہو گئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق شہید ہونے والے نوجوان کے والدین فوت ہو چکے ہیں اور وہ دوکم سن بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ یہ المناک واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب کٹھ پتلی انتظامیہ نے جامع کی انتظامیہ کے ساتھ چند روز قبل یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ مسجد کے اطراف میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروںکو تعینات نہیں کر ے گی جبکہ مسجد کے داخلی اور خارجی راستوں پر انجمن اوقات جامع مسجد کے رضا کار بطور سیکورٹی گارڈ کھڑے ہونگے۔

یا درہے کہ جمعہ کو قابض اہلکاروں نے جامع مسجد کے احاطے میںنمازیوں پر پیلٹ چلائے تھے اور آنسو گیس کی شیلنگ کی تھی جس کے نتیجے میں پچاس سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے۔