راجہ فاروق حیدر خان بحیثیت وزیراعظم اپنے بقیہ 3سال بھی پورے کرینگے‘ہمیں جہاں ان سے اختلاف کرنا ہوتا ہے وہ پارلیمانی پارٹی کے اندر اور پارلیمانی پارٹی کے باہر بھی کردیتے ہیں مگر کوئی اس غلط فہمی میںنہ رہے کہ ہم کسی کا کوئی مقصد پورا کرینگے ‘جب تک ہم خودکلہاڑا مار کر اپنے پائوں نہ کاٹیں تو کوئی دوسرا نہیں کاٹ سکتا

آزاد کشمیر حکومت کے سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق کی بات چیت

اتوار جون 18:10

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) آزاد کشمیر حکومت کے سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق نے کہا ہے کہ راجہ فاروق حیدر خان بحیثیت وزیراعظم اپنے بقیہ 3سال بھی پورے کرینگے۔ہمیں جہاں ان سے اختلاف کرنا ہوتا ہے وہ پارلیمانی پارٹی کے اندر اور پارلیمانی پارٹی کے باہر بھی کردیتے ہیں مگر کوئی اس غلط فہمی میںنہ رہے کہ ہم کسی کا کوئی مقصد پورا کرینگے جب تک ہم خودکلہاڑا مار کر اپنے پائوں نہ کاٹیں تو کوئی دوسرا نہیں کاٹ سکتا۔

ہم میں سے کسی کو بھی جلدی نہیں ہے اور موجودہ آئینی ترامیم کے بعد تو ہمیں مزید سنجیدہ ہوکرکام کرنا ہوگا۔ ہمیں کرپشن کے اوپر افہام و تفہیم نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس کے حوالہ سے سخت اقدامات کی ضرورت ہے ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ سردار خالد ابراہیم نے گزشتہ دنوں اسمبلی میں جو بات کی وہ توہین عدالت کے زمرہ میں نہیں آتی وہ ایک زیرک اور انتہائی سنجیدہ سیاستدان ہیں ۔

(جاری ہے)

راجہ فاروق حیدر خان کا نام آئینی ترامیم کے حوالے سے تو اوپر ہی رہے گا اس کا کوئی علاج نہیں کیونکہ راجہ فاروق حیدر خان نے نہ اپنے عہدے اور نہ ہی حکومت کی پرواہ کی اور وہ ہر موقع پر آزاد کشمیر کو بااختیار بنانے کیلئے بھرپور آواز اٹھاتے رہے ۔ اپنی رہائش گاہ پر دارلحکومت کے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بات کا شدید تاسف رہے گا کہ اپوزیشن نے آئینی ترامیم میں حصہ نہیں لیا اور اس کا بائیکاٹ کیا ۔

اپوزیشن کو چاہیے تھا کہ اس کو جن شقوں پر اعتراض تھا وہ اسمبلی میں کرتی اور جہاں اعتراض نہیں تھا اس کی حمایت کرتے ۔ متفقہ بجٹ بھی پاس ہوگیا اسی طرح متفقہ آئینی ترامیم بھی پاس ہوسکتیں تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اندر آئینی ترامیم کے بعد آزاد کشمیر ، فاٹا اور گلگت بلتستان کے بجٹ شدید متاثر ہوئے اور صوبے مالی طور پر خود مختار ہوگئے جس کے بعد اس بات کی اشد ضرورت تھی کہ یہاں بھی آئینی ترامیم کرکے آزاد کشمیر کو بااختیار بنایاجائے ۔

ہمارے تین چار سال جس میں چوہدری عبدالمجید کی حکومت شامل ہے شدید مشکلات میں گزرے ۔ اس دور میں ایک آئینی مسودہ تیار ہوا جس کو تیار کرنے میں موجودہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان اور مسلم لیگ ن نے بھرپور کردار ادا کیا اور ہر فورم پر بات کی ۔ اس وقت کی حکومت نے ایک مرتبہ کونسل کی نشستیں ضلعی بنیادپر بنانے کی بھی کوشش کی جس کو مسترد کردیا گیا اس کے بعد جب مسلم لیگ ن کی حکومت آئی تو ایک مرتبہ پھر آئین میں تبدیلی کے حوالہ سے کام شروع کیا گیا اور تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی گئی ۔

یہ تاثر بالکل درست نہیں کہ اپوزیشن سے مشاورت نہیں کی گئی میں ، افتخار گیلانی ، نجیب نقی ہم سب اپوزیشن کے پاس جاتے رہے اور ان سے بات کی اور ہم نے ہمیشہ اپوزیشن کو اعتماد میںلیا ۔ میں سردار عتیق احمد خان سے یہ کہنا چاہتا ہوں اور واضح کرتا ہوں کہ جس کونسل کو سردار ابراہیم خان اور سردار محمد عبدالقیوم خان نے بنایا تھا وہ ایکٹ 1974ء میں ترامیم سے پہلی کی تھی اور ہم نے بھی انہی کی کونسل دوبارہ بحال کی ہے ہم نے آزاد کشمیر کا کوئی بھی اختیار کسی دوسرے کو نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی یہ خواہش تھی کہ کوئی معجزہ ہوجائے اور انہیں وقت ملے مگر یہ معجزہ ہمارے حق میں ہوگیا ۔ وفاقی کابینہ نے منظوری بھی دی اور آئین میں ترامیم کو تسلیم بھی کیا جس کیوجہ سے خاصی تکلیف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب آزاد کشمیر کی اسمبلی مکمل طور پر بااختیار ہوگئی اور آئین کے تحت حاصل اختیارات کے مطابق ہی کارروائی ہوگی ۔

آزاد کشمیر میں آئین نافذ ہوچکا ہے اور اب یہاں زیادہ ذمہ داری کی ضرورت ہے ۔ جس سے آزاد کشمیر کے عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم سابق وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی ، سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے آزاد کشمیر کو بااختیار بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے آئین میں وقتاً فوقتاً بہتری کی گنجائش موجود ہے اور یہ جاری رہے گی ۔

آزاد کشمیر کا کوئی بھی شہری اگر چاہے تو اس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی منصوبے سکیم ، کیخلاف کسی بھی فورم پر جاسکے ۔ وہ خواہ کونسل کے متعلق ہو یا کسی دوسرے محکمے کے ۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے اندر بہتری کا آغاز ہوچکا ہے اور اس کے دور رس نتاج دنیا کے سامنے آئیں گے ۔