مسرت عالم بٹ سرینگر کی عدالت میں پیشی کے بعد دوبارہ کوٹ بھلوال جیل جموںمنتقل

منگل جون 11:36

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء اور مسلم لیگ جموںوکشمیر کے غیر قانونی طورپر نظربند مسرت عالم بٹ کو گزشتہ روز ان کے خلاف درج ایک جھوٹے مقدمات کی سماعت کے سلسلے میں سرینگر کی ایک عدالت میں پیش کیاگیا ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مسرت عالم بٹ کو سرینگر کی عدالت میں پیش کرنے کیلئے جموںکی کوٹ بھلوال جیل سے سرینگر منتقل کیاگیا۔

عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد مقدمے کی سماعت 23جون تک ملتوی کردی جس کے بعد مسرت عالم بٹ کو پولیس کے حصار میں دوبارہ جموں کی جیل منتقل کردیاگیا۔ ادھر مسلم لیگ کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں مسرت عالم بٹ کی مسلسل غیر قانونی نظربندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بدترین سیاسی انتقام کانشانہ بنایا جارہا ہے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ مسرت عالم بٹ پر کٹھ پتلی انتظامیہ کی طرف سے عائد کئے گئے تمام کالے قوانین پبلک سیفٹی ایکٹ عدالتیں کالعدم قررادیتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم جاری کیا ہے اور ان پر عائد 36ویں پی ایس اے کی معیاد بھی 15مئی کو مکمل ہوچکی ہے ۔ تاہم اسکے باوجود انہیں رہا نہیں کیا جارہا ہے جو کہ انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے اور جس کی نظیر کسی انصاف پسند معاشرے میں نہیں ملتی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ایک طرف تونام نہاد مزاکرات کے بلند وبانگ دعوے کئے جاتے ہیں اور دوسری طرف مسرت عالم بٹ جیسے سیاسی رہنمائوںکو بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔انہوںنے مسرت عالم بٹ سمیت تمام غیر قانونی طورپر نظربند حریت رہنمائوں اور کارکنوں کی عید الفطر سے قبل فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر بھارت اور اسکی کٹھ پتلی انتظامیہ مذاکرات کے اپنے دعوے میں سچے ہیں تو انہیں اپنی سنجیدگی ظاہر کرنے کیلئے سیاسی نظربندوں کوفوری طورپر رہا کردینا چاہیے ۔