متحدہ مجلس عمل نے انتخابات 2018ء کے لیے اپنے 12نکاتی منشورکا اعلان کردیا

آزادخارجہ پالیسی ،ختم نبوت و اسلامی دفعات کے تحفظ،ڈیمز کی تعمیر،تعلیم و علاج کی مفت فراہمی،روزگار کی فراہمی کا وعدہ ن لیگ کی حکومت سے علیحدگی نہیں کی حکومت ختم ہوگئی ہے، عمران خان سے نظریاتی اور سیاسی اختلاف ہے ذاتی نہیں ،تین ریٹائرڈ جرنیلوں نے کتاب لکھی کہ ملک کیسے بیچا،ملک میں نظام مصطفی کانفاذ اورآئین پاکستان میں موجوداسلامی دفعات کا تحفظ ہمارے منشور کی پہلی ترجیح ہے ،باوقار اور آزاد خارجہ پالیسی اور تمام ممالک سے برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کریں گے ن لیگ کی حکومت سے علیحدگی نہیں کی حکومت ختم ہوگئی ہے، عمران خان سے نظریاتی اور سیاسی اختلاف ہے ذاتی نہیں ،تین ریٹائرڈ جرنیلوں نے کتاب لکھی کہ ملک کیسے بیچا، مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمان کی دیگررہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس

منگل جون 23:06

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) متحدہ مجلس عمل نے انتخابات 2018ء کے لیے اپنے 12نکاتی منشورکا اعلان کردیا ۔۔ایم ایم اے کے صدر مولانا فضل الرحمن نے سینیٹر سراج الحق ،،لیاقت بلوچ،،علامہ ساجد علی نقوی ،شاہ اویس نورانی،پیر اعجاز ہاشمی،علامہ عارف واحدی،عبدالغفور حیدری،اکرم درانی،میاں محمد اسلم و دیگر قائدین کے ہمراہ اسلام آباد میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس میں ایم ایم اے کا منشور پیش کیا۔

منشور کے اہم نکات بیا ن کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ملک میں نظام مصطفی کانفاذ اورآئین پاکستان میں موجوداسلامی دفعات کا تحفظ ہمارے منشور کی پہلی ترجیح ہے۔باوقار اور آزاد خارجہ پالیسی اور تمام ممالک سے برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کریں گے۔

(جاری ہے)

تعلیم اور علاج کی سہولتیں سب کے لیے یکساں ہونگی۔۔تعلیم اور علاج سہولتیں سب کے لیے یکساں ہونگی۔

اتفاق رائے سے نئے ڈیموں کی تعمیر کریں گے اور بجلی کی ترسیل کا موثر نظام بنایا جائے گا اور بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کا موثر تدراک کیاجائے گا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک سے مقامی آبادی کے لیے روزگار مہیا کیا جائے گا۔چھوٹی صنعتوں اور دستکاریوں کا اجراء ہوگا اور قومی صنعتوں کو بحال کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی میں بیرون ملک پاکستانیوں کاکردار نہایت اہم ہے۔

ایم ایم اے اوورسیز پاکستانیوں کے بھجوائے گئے زرمبادلہ کی حفاظت کرے گی ان کو ووٹ کاحق دیا جائے گا اور بیرون ملک درپیش مسائل کے حل کی طرف خصوصی توجہ دی جائے گی۔۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ایم ایم اے اقلیتوں کو مکمل تحفظ دے گی۔ ان کے لیے تعلیم علاج روزگار اورشرعی حقوق کے تحفظ کا پورا خیال رکھاجائے گا اور اقلیتوں کی عبادت گاہو ں کے احترام اور تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 38ایف کے مطابق ملک سے سود اور سودی معیشت کاخاتمہ کرکے زکوة اور عشر کا پاکیزہ معاشی نظام قائم کیاجائے گا۔ بااختیار عدلیہ اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنائیں گے انصاف سب کے لیے کے نعرہ کو عملی جامہ پہنائیں گے اور غریب اور امیر کے لیے ایک قانون ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے کا منشور ملکی ترقی و خوشحالی اور عالمی برداری میں پاکستان کے عزت و وقار کاضامن ہوگا۔

مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی سترسال سے آزادنہیں رہی۔۔ایم ایم اے اسے آزاد بنائے گی ،مولانافضل الرحمن کا کہنا تھا کہ نے صوبوں کا قیام زبان اور علاقہ کی بنیادپرنہیں ہونا چاہیے۔کالا باغ اورنے صوبے ایک سنجیدہ ایشو ہے اس پر طویل غوروخوض کے بعدہی فیصلہ ہونا چاہیے۔ پانی کا بحران اپنی جگہ مگر اس کا حل صرف کالا باغ ڈیم کوبنا کر پیش کرنا ایک اور بحران کو جنم دے سکتا ہے ، چیف جسٹس کی طرف سے مولانا فضل الرحمن کے پاس حفاظتی سکواڈکے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وی آئی پی پروٹوکول اور سیکورٹی میں فرق ہوتا ہے چیف جسٹس اپنی سیکورٹی کا ان کی سیکورٹی سے تبادلہ کرلیں۔

ساٹ مولانا فضل الرحمن نے فاٹاکی صورتحال پرآیا آئی ایس پی آرکے موقف کوتنقیدکا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آئی ایس پی آرکے موقف کو ہی درست سمجھ لینا درست نہیں اگرآپریشن کامیاب ہوچکے تھے توپھر بتایا جائے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں کونسا بارود رہ گیاتھا جو اب بھڑک رہا ہے۔۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ عمران خان سے نظریاتی اور سیاسی اختلاف ہے ذاتی نہیں ،تین ریٹائرڈ جرنیلوں نے کتاب لکھی کہ ملک کیسے بیچا۔۔مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ ن لیگ کی حکومت سے علیحدگی نہیں کی حکومت ختم ہوگئی ہے۔