تنازعہ کشمیر کو سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے‘مصدق عادل

جب تک پاکستان مذاکراتی عمل میں ایک فریق کی حیثیت سے شامل نہ ہو تب تک اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا

اتوار جون 13:10

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میں جموںوکشمیرپیپلز پولیٹیکل فرنٹ کے چیئرمین محمد مصدق عادل نے کہا ہے کہ تنازعہ کشمیر کو پاکستان ، بھارت اور کشمیری عوام کے درمیان سہ فریقی مذاکراتی عمل کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق محمد مصدق عادل نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ جب تک پاکستان مذاکراتی عمل میں ایک فریق کی حیثیت سے شامل نہ ہو تب تک اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔

انہوںنے بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی طر ف سے مقبوضہ علاقے کے حالیہ دورے کے دوران دیے گئے بیانات جن میں انہوں نے کشمیریوں کے ساتھ مذاکرات کی بات کی ہے کے رد عمل میں کہا کہ مذاکرات میں تنازعہ کشمیرکے تینوں فریقوں کا شامل ہونا ضروری ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ مذاکرات کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ دو طرفہ مذاکرات کا آج تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا ہے۔

محمد مصدق عادل نے کہا کہ بھارتی وزیر داخلہ کو شدید تباہی و بربادی کے بعد اگر کشمیر میں امن اور یہاں کے نوجوانوں کے مستقبل کی فکر ہوئی ہے اور وہ مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو انہیں پہلے مذاکرات کی سابقہ تاریخ کا جائزہ لینا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ سہ فریقی مذاکرات کے علاوہ کوئی اور عمل ہرگز کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتا خواہ بھارت اسے کتنے ہی دلکش انداز میں کشمیریوں اور عالمی برادری کے سامنے پیش کرے۔