ہائر ایجوکیشن کمیشن میں زرعی جامعات اور صوبائی زرعی اداروں کے مابین زرعی تحقیق میں تعاون پر غور و خوض

پیر جون 20:08

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2018ء) ہائر ایجوکیشن کمیشن میں زرعی جامعات اور صوبائی زرعی اداروں میں زرعی تحقیق کے حوالے سے موجودہ حالات، درپیش مسائل اور مواقع سے متعلق اداروں کے مابین تعاون پر اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس کی سربراہی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ارشد علی نے کی ۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ارشد علی کا کہنا تھا کہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بنیادی اہداف میں سے ہے۔

کمیشن کے قیام سے ہی اعلی تعلیمی اداروں میں ریسرچ کے کلچر کو پروان چڑھانے کے لیے اقدامات کیے گئے جس کی وجہ سے ریسرچ کی کوالٹی میں بدتدریج بہتری آ رہی ہے اور اسے ملکی اور غیر ملکی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس بات کو یقینی بناناہو گا کہ تحقیق سے عام عوام کے حالات زندگی میں بہتری آئے ۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن زرعی جامعات کے شعبہ تحقیق کی ترقی میں معاونت کر رہا ہے ۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ زراعت کے میدان میں بین الصوبائی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ انھوں نے کہا کہ صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کی طرح صوبہ خیبر پختونخواہ، صوبہ بلوچستان اور آزاد جموں کشمیر میں بھی اگریکلچرریسرچ بورڈ کا قیام عمل میں لانا چاہیے ۔ ڈاکٹر ارشد علی نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر شعبہ زراعت میں بہت تبدیلی آئی ہے اور پاکستان کو نت نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے درپیش چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا ۔

مزید براں ڈاکٹر ارشد علی نے صوبائی زرعی اداروں کو ڈیجیٹل لائبریری کی رسائی فراہم کرنے کا بھی عندیہ دیا۔ انھوں نے زرعی ریسرچ پراجیکٹس کی تکمیل کے لیے مکمل معاونت کی یقین دہانی کروائی ۔ ایڈوائزر ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ، ہائر ایجوکیشن کمیشن، ڈاکٹر محمد لطیف، تمام صوبائی زرعی سیکرٹری ، ڈائریکٹر جنرلز اور زرعی جامعات کے وائس چانسلرز نے اس ملاقات میں شرکت کی ۔۔