ہماراپانچ نکاتی فارمولہ بھارت کیساتھ کسی بھی مذاکراتی عمل کے لیے بنیاد فراہم کرتاہے، حریت کانفرنس

کشمیری عوام نے بیش بہا قربانیاں اقتدار کیلئے نہیں ،حقِ خود ارادیت کے حصول کے لیے پیش کی ہیں، ترجمان

بدھ جون 20:53

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کے لیے حریت کانفرنس کا پانچ نکاتی فارمولہ بھارت کے ساتھ کسی بھی مذاکراتی عمل کے لیے بنیاد فراہم کرتاہے جس کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ بھارت کو جموںو کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ غلام احمد گلزارنے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میںتنازعہ کشمیر کا بھارتی آئین کے اندر کوئی دیرپا حل ممکن نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کی موجودہ فرقہ پرست حکومت اقتدار کے نشے میں مست ہوکر کشمیری عوام کو دھمکیاں دے کر مرعوب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

ترجمان نے کہا کشمیری عوام گزشتہ 70سال سے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا مقابلہ کررہے ہیں جس کے نتیجے میں اب تک جلیاں والا باغ جیسے قتل عام کے درجنوں واقعات پیش آئے ہیں اور چھ لاکھ سے زائد کشمیریوں کو انتہائی بے دردی کے ساتھ شہید کیا جا چُکا ہے،ہزاروں حریت پسندوںکو قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور کیا گیا ہے، ہزاروںنوجوانوں کو زیرِ حراست قتل اورعفت مآب خواتین کے دامن عصمت کو تار تار کیا گیا جبکہ کھربوں روپے مالیت کی املاک کوتباہ کیا جاچکا ہے۔ حریت ترجمان نے کہا کہ یہ بیش بہا قربانیاں بھارتی آئین کے تحت مسند اقتدار پر براجمان ہونے کے لیے نہیں بلکہ کشمیری عوام کے پیدائشی حق یعنی حقِ خود ارادیت کے حصول کے لیے پیش کی گئی ہیں۔