عام انتخابات 2018ء ; مسلم لیگ ن اور پی پی پی کے علاوہ 6 مزید شخصیات نشانے پر

الیکشن کے دوران نشانہ بنایا جا سکتا ہے، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں نیکٹا نے تنبیہہ کر دی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ جولائی 12:17

عام انتخابات 2018ء ; مسلم لیگ ن اور پی پی پی کے علاوہ 6 مزید شخصیات نشانے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 04 جولائی 2018ء) : عام انتخابات 2018ء کی آمد کے پیش نظر ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ انتخابی مہم چلانے والے کئی اُمیدواروں کو دھمکیاں بھی موصول ہوئیں اور ان کی جان خطرے میں ہونے کی خبریں گردش کرنے لگیں تاہم اب نیکٹا (نیشنل کاؤنٹر ٹیرارزم اتھارٹی) نے سینیٹ کی قائمہ کے اجلاس میں الیکشن میں نشانہ بنائے جانے والی سیاسی شخصیات سے متعلق تنبیہہ کر دی ہے۔

قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا ، گذشتہ روز سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی سب کمیٹی کا اجلاس کنوینرسینیٹر محمد جاوید عباسی کی صدارت ہو ا۔ اجلاس میں سیکرٹری وزارت داخلہ ،نیکٹا کے حکام ،آئی جی اسلام آباد پولیس ،جبکہ پنجاب اور سندھ سے آئی جی کے بجائے ان کے نمائندے نے شرکت کی ۔

(جاری ہے)

آئی جی بلوچستان اور کے پی کے اور نہ ہی ان کی طرف سے کسی نمائندے نے اجلاس میں شرکت کی۔ ڈی آئی جی سیکیورٹی اسلام آباد وقار چوہان نے کمیٹی کوبتایا کہ اسلام آباد میں کوئی مخصوص سیکورٹی الرٹ نہیں آیا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کو سکیورٹی دی جبکہ باقی نمائندوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔

جس امیدوار کی جان کو خطرہ ہوا اس کا جائزہ لینے کے بعد سکیورٹی فراہم کریں گے۔ نیکٹا حکام نے سینیٹ کے داخلہ کی سب کمیٹی کو بتایا کہ الیکشن کے حوالے سے نیکٹا نے 12خطرات سے آگاہی کے مراسلے صوبوں اوردیگرمتعلقہ حکام کو ارسال کیے ہیں۔ یہ مراسلے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے حوالے سے ہیں جبکہ 6 مراسلے مختلف شخصیات کے حوالے سے جاری کیے گئے ہیں۔

نیکٹا کی جانب سے جاری انتباہ میں کہا گیا کہ الیکشن کے دوران سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنائے جانے کا امکان ہے۔ مراسلوں میں متعلقہ حکام کو ان کی حفاظت کے لیے بہترین اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ کسی قسم کا نا خوشگوار واقعہ پیش آنے سے روکا جا سکے۔رپورٹ کے مطابق نیکٹا کو سیکورٹی الرٹ آئی ایس آئی اور آئی بی بھیجتی ہے۔ اجلاس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی سب کمیٹی کے کنوینر جاوید عباسی نے صوبوں کے آئی جیز کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ سیکرٹری داخلہ اور آئی جیز اس کمیٹی کو اہمیت نہیں دیتے ۔

اگر کسی افسر کے خلاف تحریک استحقاق لائیں تو پھر معافی مانگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ کمیٹی نے افسران کو اگلے اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے ذاتی گاڑیو ں پرسبزسرکاری نمبر پلیٹ گاڑی کے آگے نیلی اور سرخ بتیاں اور سائرن لگانے پرپولیس کوان کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت بھی جاری کردی ۔ گذشتہ روز ہونے والی ریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سندھ میں1ہزار اہلکاراور50 پولیس گاڑیاں واپس ہوئیں، اسلام آباد میں کسی کوبھی سکیورٹی دینے کا فیصلہ کمیٹی کرتی ہے ۔

سینیٹ کمیٹی نے تمام صوبوں سے سکیورٹی کی فراہمی کے طریقہ کار اور فراہم کردہ سکیورٹی کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ میڈیا ذرائع کے مطابق انتخابات 2018ء کے دوران ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت بھی دہشتگردوں کے نشانے پر ہونے کی اطلاعات ہیں، دہشتگرد اور شدت پسند الیکشن کے عمل کو تباہ کرنے کے لیے کسی سیاسی اُمیدوار یا معروف سیاسی شخصیت کو نشانہ بنا سکتے ہیں جبکہ الیکشن کے دوران خود کُش حملوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

نیکٹا کی جانب سے متعلقہ محکموں اور صوبائی حکومتوں کو جاری کیے جانے والے انتباہ میں ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ الیکشن کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے ہر ممکن سکیورٹی انتظامات کیے جائیں تاکہ الیکشن پُر امن طریقے سے عمل میں لائے جا سکیں۔