پاکستان تحریک انصاف کے نامزد گورنر سندھ عمران اسماعیل صوبہ کے 33 ویں گورنر کی حیثیت سے آج (پیر) حلف اٹھائیں گے

سندھ میں تعینات ہونے والے تمام 32 گورنرز کی تقرری کے بارے میں ایک جائزہ رپورٹ

اتوار اگست 17:50

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 اگست2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے نامزد گورنر سندھ عمران اسماعیل صوبہ کے 33 ویں گورنر کی حیثیت سے آج (پیر) حلف اٹھائیں گے۔ نئے گورنرسندھ سے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ حلف لیں گے۔ تقریب حلف برداری آج شام6بجے گورنر ہائوس میں منعقد ہوگی۔نئے گورنرسندھ کی تقریب حلف برداری کے لیے گورنرہائوس میں تمام انتظامات کرلیے گئے ہیں جبکہ تقریب میں شرکت کے لیے حکومت سندھ کے صوبائی وزراء کے علاوہ تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ اورپارٹی رہنمائوں سیاسی وسماجی شخصیات کودعوت نامے بھی ارسال کردیے گئے ہیں ۔

نئے گورنرسندھ کی خواہش پرگورنرہائوس میں ہونے والی تقریب پروقارمگرسادہ ہوگی اورمہمانوں کی تواضع صرف چائے اوربسکٹ سے کی جائے گی۔

(جاری ہے)

عمران اسماعیل گورنر کی حیثیت سے حلف لینے کے بعد منگل کی صبح مزار قائد پر حاضری دینگے۔عمران اسماعیل سے قبل صوبہ سندھ میں 32 گورنرز اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں سندھ کے 30 ویں گورنر ڈاکٹرعشرت العباد خان 27 دسمبر 2002 سے 9 نومبر 2016 تک ریکارڈ مدت تک سندھ کے گورنر رہ چکے ہیں۔

صوبہ سندھ میں تعینات سابقہ 32 گورنروں کے بارے میں مختصر ساجائز ہ لیا جائے تو معلوم ہو تاہے کہ شیخ غلام حسین ہدایت اللہ(14اگست1947تا 4اکتو بر1948)،شیخ دین محمد( 7اکتوبر1948تا19نومبر1949)،میاں امین الدین(19نومبر1949تایکم مئی1953، )جارج بکسنڈال کو نسٹنٹین(2مئی1953تا12اگست1953، )حبیب ابراہیم رحمت اللہ( 12اگست 1953تا 23جون 1954،)نواب افتخار حسین( 24جون 1954تا14اکتوبر 1955)، صوبہ مغربی پاکستان کا حصہ (ون یونٹ)14(اکتوبر1955تا یکم جولائی 1970،) رحمان گل (یکم جولائی 1970تا 20دسمبر1971)،ممتاز بھٹو(22دسمبر1971تا 20اپریل 1972،)میر رسول بخش ٹالپر( یکم جون 1972تا 14فروری 1973،)بیگم رعنا لیاقت علی خان( 15فروری1973تا 28فروری1976)،محمد دلاور خانجی (یکم مارچ 1976تا 5جولائی 1977،) عبدالقادر شیخ (6جولائی1977تا17ستمبر 1978)، ایس ایم عباسی(18ستمبر1978تا6اپریل 1984،)جہاندار خان( 7اپریل 1984تا 4جنوری 1987)، اشرف ڈبلیو تابانی( 5جنوری1987تا 23جون 1988)،رحیم الدین خان(، 24جون 1988تا 12ستمبر1988)، قدیر الدین احمد(12ستمبر1988تا 18اپریل 1989، )فخر الدین جی ابراہم( 19اپریل 1989تا 6اگست 1990،)محمود ہارون ( پہلی مرتبہ)( 6اگست 1990تا 18جولائی 1993، )حکیم محمد سعید( 19جولائی 1993تا 23جنوری 1994)، محمد ہارون (دوسری مرتبہ )( 23جنوری 1994تا 21مئی 1995)، کمال الدین اظفر( 22مئی 1995تا 16مارچ 1997،)معین الدین حیدر( 17مارچ 1997تا 17جون 1999، )ممنون حسین( 19جون 1999تا 12اکتوبر 1999،)عظیم داود پوتہ(25اکتو بر 1999تا 24مئی 2000، )محمد میاں سومرو(25مئی 2000تا 26دسمبر 2002) تیسویں گورنرسندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان 27 دسمبر، 2002 سے 9 نومبر 2016 تک سندھ کے گورنر رہے ان کے بعد جسٹس ریٹائرڈ سعید الزماں صدیقی 11 نومبر2016سے 12 جنوری 2017 تک گورنررہے اور32 ویں گورنرسندھ محمد زبیرعمرنے 2 فروری 2017 کو گورنرسندھ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں اور28 جولائی 2018 کو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ان کے بعد 33ویں گورنرسندھ کی حیثیت سے عمران اسماعیل کے ذمہ داریاں سنبھالنے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

سابق گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العباد خان 27 دسمبر 2002 سے 9 نومبر 2016 تک سندھ کے گورنر رہے جو ایک ریکارڈ مدت ہے، یہ مدت 13 سال 10ماہ اور13دن یا 5161دن پر محیط ہے ۔ ڈاکٹرعشرت العباد نے چارپاکستانی صدورپرویز مشرف، میاں محمد سومرو، آصف علی زرداری اور ممنون حسین کے ماتحت کام کیا، وہ جب گورنر بنے تو پاکستان کے سب سے کم عمر گورنر تھے۔