خواجہ برادران کو نیب نے ہیپی برتھ ڈے منانے کے لیے گرفتار نہیں کیا ، صوبائی وزیر فیاض الحسن

چوہانخواجہ برادران یہ سمجھ رہے ہیں وہ شالامار باغ کی سیر کو آئے ہیں جہاں ان کو مکمل پروٹوکول دیا جائے گا فیاض الحسن چوہان کا خواجہ سعد رفیق کے نیب میں کھانا نہ ملنے اور رہن سہن پر پابندی کے شکوے پر ردعمل

جمعرات دسمبر 21:42

خواجہ برادران کو نیب نے ہیپی برتھ ڈے منانے کے لیے گرفتار نہیں کیا ، ..
لاہور۔13 دسمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 دسمبر2018ء) صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ خواجہ برادران کو نیب نے ہیپی برتھ ڈے منانے کے لیے گرفتار نہیں کیا کہ ان کے لیے انواع و اقسام کے کھانے تیار کیے جائیں۔جیل اور نیب حکام ملزموں اور مجرموں کو اپنے قوانین کے تحت ڈیل کرتے ہیں نا کہ ان کی مہمان نوازیوں میں مصروف رہتے ہیں۔

وہ یہاں اپنے ایک بیان میںخواجہ سعد رفیق کی طرف سے نیب حکام پر گھر سے آنے والے کھانے اور رہن سہن پر گلہ کرنے کے حوالے سے ردعمل دے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعد رفیق عرف لوہے کے چنے والی سرکار نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر ملکی خزانے کو اربو ں کا ٹیکہ لگایا ہے۔ اب اگر نیب یا تحقیقاتی ادارے ان سے حساب مانگ رہے ہیں تو ان کو تکلیف ہو رہی ہے۔

(جاری ہے)

خواجہ برادران کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ وہ کرپشن کے الزامات اور ان کی تحقیقات کے لیے نیب کی زیر حراست ہیں۔ جبکہ وہ شائد یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ شالامار باغ کی سیر کو آئے ہیں کہ نیب حکام ان کو مکمل پروٹوکول دیں گے۔ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے ملکی خزانے کی لوٹ مار کرنے والے اب احتساب سے بچ نہیں پائیں گے۔ جب بھی سعد رفیق اور سلمان رفیق جیسے بد عنوان عناصر سے ان کی کرپشن کی طویل تاریخ کا حساب مانگا جاتا ہے تو بقول ان کے جمہوریت کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

اب سے پہلے خواجہ برادران کا خیال تھا کہ ہم گندم کھاتے ہیں جبکہ عوام اور تحقیقاتی ادارے گھاس چرتے ہیں جنہیں ان کی چالاکیوں، مکاریوں اور عیاریوں کے بارے میں پتا نہیں چلے گا۔ اب تو خواجہ برادران کے خلاف سینکڑوں حساب کتاب نکل رہے ہیں جو انہی کے کھاتے میں جانے ہیں۔ اور ان سے مکمل پوچھ گچھ ہونی ہے۔ تحقیقاتی ادارے آزاد حیثیت میں کام کر رہے ہیں اور بد دیانت اور کرپٹ لوگوں کا چہرہ بے نقاب کریں گے۔

کرپشن کا جھنڈا گاڑنے والوں کی چیخیں تو نکلیں گی کیونکہ اب وہ جان چکے ہیں کہ احتساب سے بچ نہیں سکتے۔ وزیر اعظم عمران خان، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور پی ٹی آئی کے پاس لوٹ مار کرنے والوں کے خلاف احتساب کا مینڈیٹ ہے لیکن یہ احتساب سپریم کورٹ، نیب اور آزاد عدلیہ کریں گے۔