بینک سسٹم میں ہیکنگ ، 6 ہزار اکاونٹس ہیک ، 6 ملین ڈالرز کی رقوم نکالی گئیں، گورنر اسٹیٹ بینک

یہ رقم کسی بھی اکاونٹ میں ٹرانسفر نہیں ہوئیں، اکائو نٹس ہیکنگ سے کسی ایک بھی صارف کا نقصان نہیں ہوا، بینکوں کو خرابی دور کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں، کارڈ ہولڈرز کمپنی اور بینکوں کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے،سینٹ قائمہ کمیٹی خزانہ کوبریفنگ

جمعرات دسمبر 22:10

بینک سسٹم میں ہیکنگ ، 6 ہزار اکاونٹس ہیک ، 6 ملین ڈالرز کی رقوم نکالی ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 13 دسمبر2018ء) سینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک نے بینکنگ ریکارڈ ہیک کرنے پر کمیٹی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بینکوں کے سسٹم میں ہیکنگ کی گئی 6 ہزار اکاونٹس ہیک کئے گئے تھے جن میں سے 6 ملین ڈالرز کی رقوم نکالی گئیں ی،یہ رقم کسی بھی اکاونٹ میں ٹرانسفر نہیں ہوئیں، گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا اکائو نٹس ہیکنگ سے کسی ایک بھی صارف کا نقصان نہیں ہوا اور ہم نے بینکوں کو خرابی دور کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں کارڈ ہولڈرز کمپنی اور بینکوں کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے ۔

کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو چئیرمین کمیٹی فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا حماد اظہر نے کمیٹی سے کہا کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے ملکی قرضوں پر کوئی اثر نہیں پڑیگا حماد اظہر کے جواب پر کمیٹی اراکین نیاظہار برہمی کیا اور کہا کہآپ کمیٹی کیساتھ مذاق کررہے ہیں اور عوام کیساتھ مذاق کررہے ہیں یہ کیسے ممکن ہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھے اور قرضوں پر بوجھ نہ بڑھے وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر کا کہنا تھا کہاگر روپے کی ایڈجسمنٹ نہیں کریں گے تو ہمارے ریزورز ختم ہوجائیں گے جن 700 آئیٹمز پر آر ڈی لگائی ہے ان کی امپورٹ دو ارب ڈالر سے سینٹر طلحہ محمود کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے ملک میں ڈالر کے کاروبار میں اضافہ ہورہا ہے سیٹر میاں شیخ عتیق کا۔

(جاری ہے)

کہان تھا کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے بینکوں نے پیسہ بنایا ہے جس پر حماد اظہر کا کہنا تھا کہ جس نے بھی پیسہ بنایا ہے اس کے ثبوت دیں حماد اظہر نے کمیٹی کو بتایا کہ ہماری امپورٹ اکانومی جی ڈی پی کا 15 سی20 فیصد ہے گزشتہ برس امپورٹ میں سالانہ 25 فیصد اضافہ ہورہا تھا اب امپورٹ کم ہورہی ہیں جاری کھاتوں میں خسارہ کم ہورہا ہے ا یکسپورٹ میں اضافہ ہورہا ہے معیشت کو مستحکم کرنے کی جانب اقدامات کررہے ہیں طلحہ محمود کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے 1600 ارب روپے قرض میں اضافہ ہوا ہے کمیٹی اداکین کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے قرضوں پر بوجھ نہیں پڑتا والا بیان ہمارے لئے باعث شرمندگی ہے سینٹر میاں شیخ عتیق کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تین بڑے ائیرپورٹ سے کیش ڈالر فلائی ہورہا ہے پشاور میں 400 سے زائد منی چینجرز ہیں جہاں سے پیسہ باہر جارہا ہے سینیٹر شیریں رحمان کا کہنا تھا کہ اسد عمر نے پبلک میں کہا ہے کہ مانیٹری کمیٹی میں روپے کی قدر کے حوالے سے ڈسکس ہوا ایکسچینج ریٹ مینجمنٹ کرنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے حماد اظہرنے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کا چین کیساتھ 250 ارب روپے کا ڈیکلیریشن ہے ڈبل ڈیجٹ گروتھ پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیارواں سال 1200 سے 1300 ارب روپے کی امپورٹ بڑھانیکا ٹارگٹ ہے حماد اظہرکا کہنا تھا کہ پاکستان بزنس کونسل نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ موجودہ حکومت نے اسٹیٹ بینک کو خودمختاری دی ہے ہمارا روپیہ بہت زیادہ پریشر میں ہے چارسال میں 320 ملیں بند ہوگئیں اور مل مالکان نے خودکشیاں کیںہماری کافی انڈسٹری بنگلہ دیش شفٹ ہوگئی انہوں نے کہا کہ ڈسکاونٹ ریٹ 10 فیصد پہ ہے جب ڈالر 106 پہ تھا تو ڈسکاونٹ ریٹ 6 فیصد تھا جس پر سینیٹر محمود کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے پاکستان کی انڈسٹری کا زیادہ تر رامیٹریل امپورٹ ہوتا ہے اس سے انڈسٹری پہ اثر پڑیگاڈالر کی قیمت بڑھنے اور روپے کی بے قدری کے حوالے سے گورنر اسٹیٹ بینک نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ڈالر والے ایجنڈے پر ان کیمرہ بریفنگ لی جائے پہلے بھی عرض کیا تھا جس پر شیریان رحمان کا کہنا تھا کہ یہ پوری قوم کا مسئلہ ہے اور عوام سے مہنگائی کی وجہ بھی چھپالیں یہ کیسا مذاق ہے گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ گزشتہ بر س جاری کھاتوں میں خسارہ 19 ارب ڈالر تھاڈیمانڈ اور سپلائی میں توازن برقرار رکھ کر روپوں کی قدر کو مستحکم کیا جاتا ہے گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ترکی میں لیرا ڈالر کے مقابلے گزشتہ کچھ برسوں میں کم ہوا ہے گورنر اسٹیٹ بینک نے کمیٹی کو بتایا کہ وقتا فوقتا روپے کی قیمت میں اتار چڑھاو کیا جاتا ہیمارکیٹ میں جیسے ہی دباو بڑھتا ہے روپے کی ایڈجسمنٹ کی ہے لکی ایکسپورٹ 24 ارب ڈالر اور امپورٹ 60 ارب ڈالر ہیں گورنراگر امپورٹ پر چلتے رہے تو ڈالر کی قیمت مزید بڑھ جائیگی گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ گزشتہ مالی سال کے پہلے چند ماہ میں امپورٹ 24 فیصد بڑھی تھیں رواں مالی سال میں امپورٹ میں کمی ہوئی ہیانڈسٹری ٹو جی ڈی پی کی شرح میں کمی ہورہی ہیاگرجاری کھاتوں میں خسارہ یہی رہا تو پھر روپے کی قدر کو مستحکم نہیں ہوسکتی گورنر اسٹیٹ بینک نے مزید بتایا کہ جولائی میں روہے کی قدر میں اضافہ ہوا تھا اورسعودیہ سے پیکج کے اعلان کے بعد مارکیٹ میں بہتری آئی ہے۔

۔۔