کشمیری بہادر قوم ہے، ستر سال سے ڈنڈوں، پتھروں سے بھارتی جنگی مشین سے لڑ رہے ہیں، سردار مسعود خان

بھارت کے ساتھ برابری کی سطح پر بات چیت کر کے مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں، علی امین گنڈا پور دنیا میں کشمیر کے بارے میں نئی سوچ ابھر رہی ہے، اب مسئلہ کو سرد خانے کی نذر نہیں کیا جا سکتا، رحمن ملک، اعزاز چوہدری، غلام محمد صفی، ڈاکٹر نذیر گیلانی، ڈاکٹر امتیاز اور دیگر کا کشمیر کانفرنس سے خطاب

جمعرات دسمبر 22:17

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 دسمبر2018ء) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت وہ بزدل دشمن ہے جو دوسو پچاس ایسے حریت پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لئے سات لاکھ فوج کے ساتھ مقبوضہ کشمیر پر حملہ آور ہوا ہے جن کے پاس جدید ہتھیار ہیں اور نہ ہی کوئی سپلائی لائن ہے۔ کشمیری اللہ کے بھروسے پر اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور تاریخ کی بے مثال قربانیاں دیکر مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام محصور اور مجبور ضرور ہیں لیکن ان کا تعلق ایسی بہادر قوم سے ہے جو ستر سال سے تن تنہا ایک جنگی مشن کے ساتھ پتھروں اور ڈنڈوں کے ساتھ لڑ رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں تنازعہ کشمیر اور انسانی حقوق کے عنوان سے منعقدہ کشمیر کانفرنس سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

کانفرنس سے وزیر امور کشمیر علی امین گنڈ پور ، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سنیٹر رحمن ملک ، جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے رہنما غلام محمد صفی، کشمیر امریکن کونسل کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر امتیاز، لندن میں قائم جموں وکشمیر انسانی حقوق کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر نذیر گیلانی ، سابق سیکرٹری خارجہ ڈاکٹر اعزاز چوہدری ، کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنونیئر سید فیض نقشبندی، کشمیر میڈیا سروس کے ڈائریکٹر تجمل الاسلام، ڈاکٹر ظفر بنگش ، یونس نبی بیگ، عبد الحمید لون اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان دنیا میں واحد ملک ہے جو انتہائی مشکل اور کٹھن حالات میں بھی کشمیریوں کے ساتھ ایک اصولی موقف کے ساتھ کھڑا ہے جس پر اہل جموں وکشمیر احسان مندی اور تحسین کی نگاہ سے پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام مایوس ہیں اور نہ ہی وہ اپنی طویل جدوجہد آزادی سے تھک کر بیٹھنے والے ہیں ۔ کشمیریوں نے یہ پختہ عزم کر رکھا ہے کہ وہ منزل کے حصول تک اپنی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھیں گے اور اس عظیم مقصد کے حصول کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت کی فوج کشمیریوں کے آہنی عزم کو توڑنے کے لئے ان کے بچوں کو پیلٹ گنوں سے نشانہ بنا کر ساری عمر کے لئے بینائی سے محروم کر رہی اور کشمیر کی عفت ماب بہنوں اور بیٹیوں کے خلاف جنسی تشدد کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے انسانیت کے خلاف جرم کے مرتکب ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کشمیر کے حوالے سے ایک نئی سوچ ابھر رہی ہے جس کا ثبوت اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ ، برطانوی پارلیمنٹ میں قائم 70سے زیادہ پارلیمنٹرین پر مشتمل کل جماعتی پارلیمانی کشمیر گروپ کی رپورٹ اور الجزیرہ اور نیو یارک ٹائمز میں چھپنے والے وہ مضامین ہیں جن میں بھارت کی فوج کے کشمیریوں کے خلاف مظالم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو بے نقاب کر کے بھارت کو مجرموں کے کٹہرے میں لا کھڑا کر دیا گیا ہے۔

صدر آزادکشمیر نے کہا کہ الجزیرہ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ بھارتی فوج نے پیلٹ گنوں سے چھ ہزار سے زیادہ کشمیریوں جن میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ کو بینائی سے محروم کر دیا ہے جبکہ ایسی ہی ایک رپورٹ میں نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ انسانی تاریخ میں دنیا کی کسی حکومت نے اتنی بڑی تعداد میں انسانوں کو دانستہ طور پر بینائی سے محروم نہیں کیا جتنی تعداد میں بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کو بینائی سے محروم کیا گیا۔

بھارت کو ایک سامراج قرار دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے خبردار کیا کہ بھارت کو جان لینا چاہیے کہ اس سے قبل بھی کئی سامراج تاریخ میں ابھرے ہیں جن کا آج کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے پاکستان کی حکومت کی طرف سے کرتار پور راہداری کھولنے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو بھی چاہیے کہ وہ پاکستان کے اس یکطرفہ اقدام کا مثبت جواب دے اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری فوجی آپریشنز ختم کر کے جیلوں میں بند تمام محصورین اور مقید کشمیری قائدین کو رہا کرے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر اور بھارت کی جیلوں میں قید سید شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، یاسین ملک اور دیگر ہزاروں سیاسی قیدیوں کو فی الفور رہا کیا جائے۔ انہوں نے دنیا کے مختلف ملکوں میں کشمیر کاز کے لئے کام کرنے والے کشمیریوں کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج دنیا کا کشمیر کی جدوجہد آزادی کی طرف متوجہ ہونا ان کی محنت و ریاضت کا نتیجہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے مختلف ممالک کے انسانی حقوق کے ادارے، غیر حکومتی تنظیمیں اور ذرائع ابلاغ کشمیریوں کے حق میں اس لئے آواز بلند کر رہے ہیں کیونکہ ان تک ہم نے اپنی آواز پہنچائی ہے لیکن بد قسمتی سے دنیا کے حکومتی ایوانوں میں ابھی تک خاموشی اور سکوت ہے جسے حکومتی سطح پر اقدامات کے ذریعے توڑنے کی ضرورت ہے۔ صدر آزادکشمیر نے مزید کہا کہ دنیا کے بعض بڑے اور اور بااثر ممالک اپنے معاشی اور سیاسی مفادات کے پیش نظر بھارت کے خلاف آواز نہیں بلند کر رہے ہیں لیکن ان کی یہ خاموشی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی۔

کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور نے کہا کہ کشمیر کے غیور اور بہادر عوام نہتے اور کمزور ہونے کے باوجود بھارت جیسے ملک کے خلاف بڑی بہادری سے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت مسئلہ کشمیر کے حوالے سے واضح اور دوٹوک موقف رکھتی ہے اور بھارت کے ساتھ برابری کی سطح پر بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل چاہتی ہے۔

کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما غلام محمد صفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی سطح پر کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے حوالے سے ناموافق حالات کا تقاضا ہے کہ پاکستان، مقبوضہ جموں وکشمیر، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام ایک پیج پر ہوں اور ایک ہی بات کریں یورپ میں کشمیر کاز کے لئے سرگرم سید علی رضا نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ نہایت اہمیت کی حامل ہے لیکن خطرہ ہے کہ سلامتی کونسل کی کشمیر کے بارے میں قراردادوں کی طرح یہ رپورٹ بھی سرد خانے کی نظر نہ ہو جاے۔

کشمیر میڈیا سروس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر شیخ تجمل الاسلام نے بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانیت کے خلاف گھناؤنے جرائم میں ملوث ہے۔ بھارت کے ان جرائم کو موثر انداز میں بے نقاب کر کے اسے عالمی برادری کے سامنے مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لئے مزید جدوجہد اور محنت کرنا ہو گی۔