مقبوضہ کشمیر:لداخ کو ڈویژن کا درجہ دینے کا گورنر کا اقدام عوام کی اجتماعی خواہش پر حملہ ہے، کے سی ایس ڈی ایس

پیر فروری 16:33

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 فروری2019ء) مقبوضہ کشمیر میں سول سوسائٹی ارکان پر مشتمل تنظیم کشمیر سینٹر فار سوشل اینڈ ڈیولپمنٹ سٹڈیز نے بھارتی گورنر ستیاپال ملک کی طرف سے آمرانہ اور غیر آئینی طریقے سے اختیارات کے استعمال پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے جس سے وہ جموںوکشمیر میں جمہوری اقدارکو تباہ کرکے نوآبادیاتی قبضے کے نئے ریکارڈ قائم کررہے ہیں۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ان خیالات کا اظہار سرینگر میں منعقدہ ایک ہنگامی اجلاس میں کیا گیا جس میں گورنر کی قیادت میں قابض انتظامیہ کی طرف سے لداخ اور کرگل اضلاع کو ڈویژن کا درجہ دینے کی مذمت کی گئی۔سول سوسائٹی ارکان نے اسے عوام کی اجتماعی خواہش پر حملہ قراردیتے ہوئے ایک غیر ریاستی گورنر کے اختیارات پر سوال اٹھایاجس کی معاونت غیر ریاستی باشندوں پر مشتمل بیرو کریٹوں کا ایک گروپ کررہا ہے اور جنہوں نے دوررس اثرات کا حامل فیصلہ کیا ہے۔

(جاری ہے)

ارکان نے کہاکہ لداخ سمیت کسی بھی علاقے کو الگ دویژن کادرجہ دینے کا اختیار صرف علاقے کے حقیقی نمائندوں کو حاصل ہے جو اضلاع کی زرعی ترقی ، سماجی ترقی اور اقتصادی پر دستیاب اشاریوں کو مدنظررکھ کرسنجیدہ اور مسلسل بحث وتمحیص کے بعدہی ایسا فیصلہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کیا گورنر اور اس کے منتخب مشیر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے نام نہاد پیکیج کے تحت صرف تین اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کے پیچھے منطق اور دلیل کی وضاحت کرسکتے ہیں جبکہ خطے کے دیگر سات اضلاع کو یکسر نظرانداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کے تمام 22اضلاع میں کیوں جموںترقیاتی اشاریوں میں سب سے آگے ہے جبکہ اسی خطے میں پونچھ، ڈوڈہ ، رام بن ،کشتواڑ اور راجوری سب سے پیچھے ہیں