غیرسرکاری قومی مکالمہ میں مرکز اور چاروں صوبوں کا فعال اور متحرک مقامی حکومتوں کے لئے یکساں قانون پر اتفاق

انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن نے مقامی حکومتوں کو لاوارث چھوڑ دیا ہے د*حکمران جماعت کی طرف سے آگاہ کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں ضلعی حکومتیں نہیں ہوں گی،تحصیل اور ویلج کونسلوں کے براہ راست انتخابات ہوں گے۔ تحصیل ناظم کو براہ راست منتخب کیا جائے گا،مقررین

جمعرات مارچ 22:37

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مارچ2019ء) وفاقی دارالحکومت میں غیرسرکاری قومی مکالمہ میں مرکز اور چاروں صوبوں نے فعال اور متحرک مقامی حکومتوں کے لئے یکساں قانون پر اتفاق کر لیا، شرکا ء نے کہا ہے کہ انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن نے مقامی حکومتوں کو لاوارث چھوڑ دیا ہے،حکمران جماعت کی طرف سے آگاہ کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں ضلعی حکومتیں نہیں ہوں گی۔

تحصیل اور ویلج کونسلوں کے براہ راست انتخابات ہوں گے۔ تحصیل ناظم کو براہ راست منتخب کیا جائے گا۔ مشترکہ قانون کے لئے وزارت بین الصوبائی رابطہ میں مشاورتی اجلاس کے لئے تیار ہیں۔ پاکستان میں مقامی حکومتوں کے قوانین کے تقابلی جائزے کے معاملے پر جمعرات کو پلڈاٹ کے تحت اسلام آباد میں قومی مکالمہ ہوا۔

(جاری ہے)

خیبرپختونخوا کے وزیر بلدیات شہرام خان تراکئی نے اپنے صوبے اور پنجاب کی نمائندگی کی اور بتایا کہ دونوں صوبوں میں ضلعی حکومتیں نہیں ہوں گی۔

تحصیل ناظمین اور ویلج کونسلوں کے براہ راست انتخابات کی تجویز ہے۔ ویلج کونسلوں کے غیرجماعتی بنیادوں پر جبکہ تحصیل ناظمین کے اور ارکان کے براہ راست انتخابات ہونگے۔ قومی مکالمے میں پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور قوم پرست جماعتوں کی نمائندگی تھی۔ ان جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے اپنی تجاویز سے آگاہ کیا۔

سندھ اور بلوچستان کی نمائندگی سیکرٹریز بلدیات جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی نمائندگی جوائنٹ سیکرٹری نے کی۔ مرکز اور چاروں صوبوں کے بلدیاتی قوانین کا تقابلی جائزہ، ڈھانچہ، انتخابی عمل، مقامی حکومتوں کے اختیارات پر شرکا نے کھل کر اظہار خیال کیا۔ مقامی حکومت کے قوانین کا موازنہ پیش کیا۔ قومی مکالمے میں قرار دیا گیا ہے کہ جمہوریت کو مقامی حکومتوں کے ذریعے مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

جمہوریت کی بنیاد ہی مقامی حکومتیں ہیں اگر جمہوریت کی ان نرسریوں کو مضبوط نہیں کیا گیا تو جمہوریت کے استحکام کا چیلنج درپیش رہے گا۔ شرکا نے واضح کیا کہ صوبائی، قومی اور سینیٹ کے گیارہ سو 74 ارکان کا مطلب جمہوریت نہیں ہے اور نہ ہی یہ 1174 ارکان جمہوریت کی نگہبانی کر سکتی ہیں بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں دو لاکھ نمائندے جمہوریت کے بہترین نگہبان ثابت ہو سکتے ہیں۔

صوبائی حکومتوں کا مقامی حکومتوں پر زیادہ کنٹرول نہیں ہونا چاہئے اس سے بلدیاتی ادارے کمزور ہوں گے۔ صحت، تعلیم، آبنوشی، صفائی جیسی بنیادی سہولیات کی دستیابی مقامی حکومتوں کی ذمہ داری ہے اس میں مداخلت نہیں ہونی چاہئے۔ نوجوانوں، مزدور، کسان، خواتین،محنت کشوں اور محروم طبقات کو سیاسی طور پر بااختیار بنانے کے لئے مقامی حکومتوں کو فعال کرنا ہو گا۔

یہ بھی قرار دیا گیا کہ مقامی حکومتوں کے نافذ قوانین میں اہم مسئلہ کمزور مالی اختیارات ہیں۔ صوبائی حکومتیں اپنا محتاج بناتی ہیں۔ متعلقہ صوبائی مالیاتی کمیشن اور ترقیاتی کمیٹیوں میں بھی مقامی حکومتوں کی نمائندگی بہت کم ہے جبکہ بلوچستان میں گرانٹس کمیٹی کے اختیارات صوبائی وزرا اور بیورو کریسی کے پاس ہیں۔ واضح کیا گیا ہے کہ مالی اختیارات کے بغیر مقامی حکومتیں موثر نہیں ہو سکتیں۔

قومی مکالمے میں مقامی حکومتوں کی مدت سیاسی بنیادوں پر انتخابات کا انعقاد اور مختلف مراحل اور مالیاتی، سیاسی اور انتظامی اختیارات کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔ وزیر بلدیات خیبرپختونخوا شہرام خان نے کہا کہ یکساں قانون پر ہم بھی متفق ہیں اسے ہونا چاہئے قوانین میں بہتری کی گنجائش ہر وقت رہتی ہے۔ خیبرپختونخوا کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ ہم نے گاں کی سطح تک انتخابات کرائے۔

ہمارے صوبے میں مدت چار سال ہے اور اسی کو برقرار رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اور سینیٹرز کا کوئی کام نہیں ہے کہ وہ گلی کوچے بنائیں۔ یہ کام نچلی سطح پر منتخب ہونے والے نمائندوں کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں 30 فیصد ترقیاتی بجٹ مقامی حکومتوں کے لئے رکھے گئے۔ سکول، ڈسپنسریاں، ٹیوب اور تالاب بنانا ان ہی نمائندوں کا کام ہے۔

بڑی بڑی بریفنگز ہوتی ہیں۔ منصوبہ بندی پر مشتمل کتابیں بن جاتی ہیں۔ بھاری بھرکم دستاویزات کی فائلیں ہوتی ہیں مگر زمینی حقائق برعکس ہوتے ہیں۔ اصل مسئلہ بلدیاتی قوانین پر عملدرآمد کا ہے۔ اختیارات کی منتقلی کا ہے۔ سیاسی جماعتوں نے کبھی بلدیاتی انتخابات پر توجہ نہیں دی۔ آمریت نے بھی اپنے مفاد کے لئے انہیں استعمال کیا جبکہ درحقیقت بلدیاتی انتخابات جمہوریت کی نرسریاں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں 20 ارکان قومی و صوبائی اسمبلی پہلے بلدیاتی نمائندے رہ چکے ہیں اور ان کا تعلق تحریک انصاف سے ہے۔ مقامی حکومتوں سے نئی لیڈر شپ ملتی ہے پیسے کا صحیح استعمال ہوتا ہے۔ فنڈز لیپس نہیں ہوتے۔ اگر اختیارات دیدیئے جائیں تو آپ کو نچلی سطح پر عوام کے مسائل حل ہوتے نظر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب بنیادی سہولتیں دے رہے ہیں تو ٹیکس بھی ملنا چاہئے۔

اس کا طریقہ کار وضع کیا جا سکتا ہے کہ یہ کام بینکوں کو دیا جائے یا کوئی اور نظام وضع کیا جائے۔ خیبرپختونخوا میں تحصیل کونسلوں کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر براہ راست ہوں گے۔ ویلج کونسلوں کے انتخابات غیرجماعتی ہوں گے اور یہی نظام پنجاب میں وضع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ترامیم پر مشاورت ہو رہی ہے۔ قبائلی اضلاع میں بھی اسی طرز پر انتخابات ہوں گے۔

قبائلی عوام گاں کی سطح پر بااختیار ہوں گے۔ قبائلی اضلاع کو براہ راست فنڈز ملیں گے اور ان کے منتخب بلدیاتی نمائندے اپنی مرضی سے استعمال کر سکیں گے۔ بلوچستان کے سیکرٹری بلدیاتی خادم حسین نے بتایا کہ بجٹ کی منظوری کے حوالے سے اضلاع کی سطح پر چیلنجز کا سامنا رہا کیونکہ ضلعی ترقیاتی کمیٹیوں کے اجلاس کم ہوئے ہیں بلکہ سال کے اواخر میں اجلاس ہوئے۔

سندھ کے سپیشل سیکرٹری بلدیاتی اسحاق مہر نے صوبے کے بلدیاتی نظام پر زیادہ گفتگو نہیں کی اور تعارف کے بعد اپنا اظہار خیال ختم کر دیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل اعزاز آصف ملک نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنا سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔ یکساں نظام ہونا چاہئے۔ پنجاب میں بھی دو سطح پر ویلج و تحصیل حکومتوں کے براہ راست انتخابات ہوں گے۔

مقامی حکومتوں کے یکساں نظام پر بات ہو رہی ہے۔ آئیں! وزارت بین الصوبائی رابطہ میں مشترکہ حکمت عملی طے کرتے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے سندھ کے سابق وزیر بلدیاتی محمد حسین نے کہا کہ سندھ میں مقامی حکومتوں کا نظام ناکام ہو چکا ہے۔ عوام ناراض اور مایوس ہو رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کو بالادستی حاصل ہے اور سارے اختیارات صوبائی حکومت کے پاس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی سندھ میں مقامی حکومتوں کو انتخابات کے بعد لاوارث چھوڑ دیا ہے۔ کوئی انتظامی، سیاسی اور مالی اختیار نہیں ہے۔ قانون میں کہا گیا ہے کہ ترقیاتی فنڈز مقامی حکومتیں خرچ کریں گی مگر چالیس ارب روپے سے زائد کے اس بجٹ کو استعمال کرنے کے لئے ترقیاتی کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ جس میں کراچی کی حکومتوں کو پوچھا ہی نہیں گیا اور میئر کراچی کو صرف دو کروڑ لاگت کے منصوبوں کا اختیار ہے۔

کراچی کے میئر کے پاس تو صفائی اور سینیٹیشن کا اختیار بھی نہیں ہے۔ 23 سبجیکٹ کی سندھ بلدیاتی قانون میں اندراج کیا گیا۔ 12 کے قواعد و ضوابط ہی نہ بن سکے۔ 11 کے حوالے سے بھی متعلقہ شعبے غیرفعال ہیں۔ لوکل فنانس کمیشن آپریشنل ہی نہیں ہو سکے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ آئین کے تحت ہر صوبے کا اختیار ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات کا قانون بنائے۔

الیکشن کمیشن کے نمائندے کا یہ بیان قابل تشویش ہے کہ انتخابی ایکٹ 2017 سب بلدیاتی قوانین پر بالادست ہے۔ ایسا کہنا صوبوں کے آئینی اختیارات کے حوالے سے سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ یہ بھی تو ضروری ہے کہ اگر قانون بنا تھا تو قواعد و ضوابط بھی بنائے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس بات پر اتفاق کرتا ہوں کہ مقامی حکومتوں کے مکمل مالی انتطامی اور سیاسی اختیارات مالی وسائل کی براہ راست منتقلی کے لئے قانون پر نظرثانی ہونی چاہئے یہ صوبوں کا اختیار ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی کرتے ہوئے رکن پنجاب اسمبلی مہوش سلطانہ نے کہا کہ یقینا یکساں قانون ہونا چاہئے مگر کہا جا رہا ہے کہ ویلج کونسلوں کے غیرجماعتی اور تحصیل کونسلوں کے جماعتی بنیادوں پر انتخابات ہوں گے۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر والی بات نہیں ہونی چاہئے۔ عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر حسین بابک نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کی طرح یکساں بلدیاتی قانون کے لئے پارلیمنٹ کے ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔

طریقہ کار وضع کر سکتے ہیں۔ جماعتی بنیادوں پر انتخابات ہونے چاہئیں اور تمام ترقیاتی بجٹ مقامی حکومتوں کے ذریعے استعمال میں لائے جائیں جب قومی، صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے ارکان کی کوئی اہلیت نہیں ہے تو پھر مقامی حکومتوں کے نمائندوں کے لئے بھی کوئی اہلیت نہیں ہونی چاہئے۔ نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر میر کبیر شاہی نے کہا کہ تالاب بنانا، گیس، بجلی، صحت، تعلیم، پینے کے پانی کی دستیابی ارکان پارلیمنٹ کی نہیں بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری ہے۔

مقامی حکومتوں کو مضبوط ہونا چاہئے انہیں زبوں حالی کا شکار نہ ہونے دیں۔ سیاسی جماعتوں سے یکساں بلدیاتی قانون پر تحریری تجاویز طلب کی جائیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے بھی اپنی تجاویز پیش کیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جوائنٹ سیکرٹری نے بتایا کہ بلدیاتی انتخابات کے لئے تیاری شروع کر دی ہے کیونکہ سب سے پہلے بلوچستان میں انتخابات ہونے ہیں اس لئے صوبائی حکومت نے رابطہ کیا گیا ہے تاہم بلوچستان حکومت نے بتایا کہ قانون میں ترمیم کر رہے ہیں اس لئے حلقہ بندیوں کا کام شروع نہیں کیا جا سکتا جس پر ہم نے بلوچستان میں یہ کام روک دیا ہی.