بلاول بھٹو زر داری پر چی کی بنیاد پر بننے والے حادثاتی سیاستدان ہیں جو بھارت کا مقدمہ لڑ رہے ہیں، مراد سعید کی بلاول پر پھر تنقید

آکسفورڈ میں تعلیم کے دوران فیس بھی پاکستانی قوم کی جیبوں سے گئی ہے وہ فیس ہم واپس لیں گے،یہ جتنی مرضی شور مچائیں ان کی جیبوں سے قوم کا پیسہ واپس نکالیں گے، قومی اسمبلی میں اظہار خیال

منگل اپریل 16:17

بلاول بھٹو زر داری پر چی کی بنیاد پر بننے والے حادثاتی سیاستدان ہیں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 اپریل2019ء) وزیر مواصلات مراد سعید نے کہاہے کہ بلاول بھٹو زر داری پر چی کی بنیاد پر بننے والے حادثاتی سیاستدان ہیں جو بھارت کا مقدمہ لڑ رہے ہیں، آکسفورڈ میں تعلیم کے دوران فیس بھی پاکستانی قوم کی جیبوں سے گئی ہے ،ہم واپس لیں گے، آکسفورڈ میں تعلیم کے دوران فیس بھی پاکستانی قوم کی جیبوں سے گئی ہے وہ فیس ہم واپس لیں گے،یہ جتنی مرضی شور مچائیں ان کی جیبوں سے قوم کا پیسہ واپس نکالیں گے۔

منگل کو حنا ربانی کھر کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے عالمی سطح پر ملک کا وقار بلند کیا، کل تک امریکہ ڈو مور کا مطالبہ کر رہا تھا آج امریکہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ عمران خان نے امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پاکستان کا مقدمہ لڑا ہے۔

انہوںنے کہاکہ بھارت نے ہمارے دو درخت اکھاڑے ہم نے ان کے دو طیارے مار گرائے۔ مراد سعید نے کہا کہ جب مسلح افواج اور قوم پاکستان کا دفاع کر رہی تھیں تو اس وقت بلاول بھٹو زرداری بھارت کا مقدمہ لڑ رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جو مودی کو اپنی نواسی کی شادی میں بلاتے ہیں، سجن جندال کو بغیر ویزے کے مری لے جایا جاتا ہے۔

انہوںنے کہاکہ جب بھارت جاتے ہیں تو حریت رہنمائوں سے ملاقات نہیں کرتے۔ انہوںنے کہاکہ حسین حقانی آج بھی پاکستان کے خلاف زہر اگل رہا ہے،پیپلز پارٹی کی حکومت نے انہیں امریکہ میں سفیر مقرر کیا۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو پرچی کی بنیاد پر بننے والا حادثاتی سیاستدان ہے جو پاکستان میں بھارت کا مقدمہ لڑ رہا ہے، جب پاکستان بھارت کے دو طیارے مار گرا رہا تھا تو اس وقت بلاول بھٹو زرداری کہہ رہا تھا کہ پاکستان دہشتگردوں کو پناہ دے رہا ہے۔

انہوںنے کہاکہ خرم دستگیر اور حنا ربانی کھر نے آج ایوان میں بات کی ہے‘ ہم ان کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ جب کلبھوشن یادیو کو سیکیورٹی اداروں نے گرفتار کرلیا تو اس وقت انہیں کلبھوشن کا نام لینے میں شرم محسوس ہوتی تھی۔ انہوںنے کہاکہ خواجہ آصف جب امریکہ جاتے تھے تو کہتے تھے کہ پاکستان دہشتگردوں اور کالعدم تنظیموں کو پناہ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بلاول سے سوال کیا جاتا ہے کہ ایک سال کی عمر میں وہ ایک کمپنی کے ڈائریکٹر کیسے بن جاتے ہیں ان کے پاس جواب نہیں ہوتا۔

انہوںنے کہاکہ آکسفورڈ میں تعلیم کے دوران فیس بھی پاکستانی قوم کی جیبوں سے گئی ہے وہ فیس ہم واپس لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب فالودے والے اور ریڑھی والوں کے اکائونٹ سے اربوں روپے ملتے ہیں تو بلاول کو غصہ آتا ہے‘ کل انہوں نے ایوان میں عمران خان کے والد کو نشانہ بنایا لیکن وہ بھول گئے کہ وہ اس وقت ابو بچائو تحریک چلا رہے ہیں،ان کے والد دنیا میں مسٹر 10 پرسنٹ کے نام سے مشہور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے وزیراعظم بننے سے دنیا میں پاکستان کی عزت و وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ملائیشیا‘ ایران‘ متحدہ عرب امارات‘ سعودی عرب اور جہاں بھی عمران خان جاتے ہیں وہاں پاکستان کی عزت ہوتی ہے۔انہوںنے کہاکہ عمران خان نے بے گھروں کے لئے پناہ گاہیں بنائیں لیکن تھر میں دو سال کے عرصے میں 15سو بچے مر گئے۔ سندھ ہائی کورٹ میں ان کے آئی جی خود رپورٹ جمع کراتے ہوئے اعتراف کرتے ہیں کہ پولیس اہلکار بھتہ خوری میں ملوث ہیں۔

مراد علی شاہ کے حلقے میں جب دھماکہ ہوتا ہے تو زخمیوں کو لے جانے کے لئے ایمبولینس موجود نہیں ہوتی۔ انہوںنے کہاکہ کل کراچی میں غلط انجکشن لگنے سے ایک معصوم بچی بلک بلک کر انتقال کر گئی، یہ سب ان کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ سٹیٹ بنک کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں سب سے زیادہ غربت ہے۔ جو لوگ آج نعرے لگا رہے ہیں ان سے میں یہ کہتا ہوں کہ شرم و حیا بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔

پیپلز پارٹی کا چیئرمین وصیت اور پرچی کی بنیاد پر آگے آیا ہے جو ایک لفظ بھی پرچی کے بغیر نہیں بول سکتا،ان کے ایک ایک نوالے میں بھی ان کی ذاتی محنت شامل نہیں ہے۔ ان کی جیبوں میں سندھ کے غریبوں کا پیسہ ہے۔ سندھ میں تعلیم‘ علاج‘ پولیس‘ سڑکیں سب کچھ تباہ ہوگیا ہے اور ان کا پیسہ زرداری اور ان کے خاندان کی جیب میں ہے۔ انہوںنے کہاکہ ان کا منشور یہی ہے کہ ہر سڑک اور ہر منصوبہ بے دھڑک کھائو ۔

انہوں نے کہا کہ بلاول سن لیں کہ ان کی چوری پکڑی جا چکی ہے‘ احتساب شروع ہو چکا ہے۔ یہ جتنی مرضی شور مچائیں ان کی جیبوں سے قوم کا پیسہ واپس نکالیں گے۔ نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رکن عطاء اللہ نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری پاکستان کا مقدمہ کیا لڑیں گے وہ تو سندھ کا مقدمہ ہار چکے ہیں‘ کراچی پر توجہ اور کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے یہاں سے صوبے کی بات سامنے آرہی ہے‘ کراچی میں ہسپتال ٹھیکوں پر دیئے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں غلط انجکشن لگانے سے اموات کی تعداد بڑھ رہی ہے، تھر میں 47 بچے بھوک سے مر گئے‘ بتایا جائے کہ وہاں کس کی حکومت ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں پینے کا پانی نہیں۔