Live Updates

ضلع جہلم کے سرکاری اداروں میں سیاسی مداخلت عروج پرپہنچ گئی

کارکردگی صرف فوٹو سیشن تک محدود ،مسائل جوں کے توں ،فنڈز کی عدم دستیابی کا رونا رونے والے سیاسی تبادلے کے ڈر سے خاموش تماشائی بن گئے

بدھ اگست 17:20

جہلم (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،28 اگست 2019ء، نمائندہ خصوصی، احسن وحید) تفصیلات کے مطابق ضلع جہلم میں سرکاری اداروں میں سیاسی مداخلت نے سابقہ ادوار کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ پٹواری اور سپاہی سے کے کر اعلی افسران تک ہر محکمے میں مداخلت اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ سیاسی مداخلت کے باعث صرف فوٹو سیشن سے ہی کارکردگی رپورٹس وزیر اعلی پنجاب کے واٹس ایپ گروپ تک محدود ہو گئی۔

جب کہ عملی طور پر سائلین سرکاری دفاتر میں ایک مخصوص سیاسی ڈیرے کی منظور نظر درخواست کے بغیر داد رسی ایک خواب ہی بن گئی۔ سپاہی ہو یا محکمہ مال کا پٹواری ٹرانسفر کے خوف سے حکم عدولی کرنے سے قاصرہیں جبکہ اعلی افسران کے بھی سیاسی ڈیرے سے تعلقات پر ماتحت عملہ بھی حکم ماننے پر مجبوہیں۔ ر اس سے قبل ضلع جہلم میں بھی اس ڈیرے پر محکمہ مال سمیت مختلف سرکاری اداروں سے ماہانہ وصولی کے الزامات سامنے آ چکے لیکن تبدیلی کے دعویداروں نے بھی اس سنگین مسئلہ کر آنکھیں بندکر لیں اور ضلع جہلم میں سیاسی مداخلت نے سابقہ ادوار کے بھی تمام ریکارڈ توڑ دیے۔

(جاری ہے)

سائلین کی طرف سے وزیر اعظم کی سیٹیزن پورٹل پر شکایات کے باوجود ضلع جہلم کے تمام سرکاری اداروں میں فنڈز کی عدم دستیابی پر شکایات داخل دفتر ہونے لگیں۔ کالجز میں اساتذہ کی کمی ہو یا سڑکوں کی خستہ حالی عوام پانی کی بوند بوند کو ترسیں یا ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان ہو ہر شکایت پر فنڈ کی عدم فراہمی اور نومولود حکومت کا رونا رو کر شکایات کو لولی پاپ دے دیا جاتا ہے جبکہ ایک سال گزرنے کے باوجود ضلع جہلم میں سرکاری ادارے عوامی سہولیات کے لیے بنیادی ضروریات اور سہولیات دینے سے بھی قاصر ہیں۔

پچھلے چند ماہ میں شجرکاری مہم کا لالی پاپ مختلف ناموں سے بیچا جا رہا ہے جبکہ عام عوام کو تھانے کچہری میں فوری انصاف اور سرکاری اداروں میں ہونے والی کرپشن کی روک تھام کے لیے کوئی عملی کام کرنے کی زحمت تک نہ کی گئی ۔عوامی حلقوں اور بالخصوص تھانے کچہری اور سرکاری اداروں میں تبدیلی حکومت سے امیدیں لگانے والوں نے جہلم میں سیاسی مداخلت سے مفلوج ہوتے اداروں پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ بڑی کرپشن کے کیس سابقہ حکومتوں کے اپنے بنائے ہوئے ہیں جو کہ عدالتوں میں ٹرائل پر ہیں اور ان کی پیروی پر بھی لاکھوں کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ تحصیل اور ضلع کی سطح پر سیاسی مداخلت کے خاتمے اور کرپشن کی روک تھام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے تاکہ انصاف اور اداروں کو کرپشن سے پاک کرنے کی امید لگانے والوں کی امید ٹوٹنے سے بچ جائے۔
وزیراعظم کااقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں خطاب سے متعلق تازہ ترین معلومات