تیل تنصیبات حملے میں ایران ثابت ہوا توبھرپورجواب دیں گے، سعودی عرب

حملے میں ایرانی ہتھیاراستعمال ہوئے ہیں اس لیے ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے، تیل تنصیبات پر حملے سے 80 ریاستیں متاثر ہوئی ہیں۔ سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر کا بیان

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ ستمبر 20:44

تیل تنصیبات حملے میں ایران ثابت ہوا توبھرپورجواب دیں گے، سعودی عرب
ریاض (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔21 ستمبر2019ء) سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیرنے کہا ہے کہ تیل تنصیبات حملے میں ایران ثابت ہوا توبھرپورجواب دیں گے، حملے میں ایرانی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں اس لیے ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے، تیل تنصیبات پر حملے سے 80 ریاستیں متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ تیل تنصیبات حملے کی تحقیقات کیلئے اقوام متحدہ سے بھی ماہرین بھجوانے کی درخواست کی ہے۔

تیل تنصیبات پرحملے میں ایرانی ہاتھ ثابت ہوا توبھرپورجواب دیں گے۔ حملے میں ایرانی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں اس لیے ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ حملے یمن کی طرف سے نہیں شمال کی جانب سے کیے گئے تھے۔ آرامکو کی تنصیبات پر حملوں کے ذریعے عالمی توانائی سکیورٹی کو نشانہ بنایا گیا۔

(جاری ہے)

ہم اپنے اتحادیوں سے مشاورت کررہے ہیں،تحقیقات کے نتائج کے منتظر ہیں۔

تیل تنصیبات پر حملے سے 80 ریاستیں متاثر ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے کبھی بھی ایران کی جانب نہ کوئی ڈرون داغا اور نہ میزائل بھیجا۔بلکہ ایران کی طرف کبھی ایک گولی تک نہیں چلائی۔سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے کہا کہ ایران خطے میں موجود ممالک کے شہریوں کو ان کے اپنے ممالک کیخلاف بھی استعمال کرتا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے تیل پلانٹوں پر ہونے والے حملے کے بعد ریاض میں فوج کی اضافی فورسز کی تعیناتی کے فیصلہ کی منظوری دے دی ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی سیکرٹری دفاع نارک ایسبر نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب کے تیل پلانٹ آرامکو پر ہونے والے حملہ کے بعد ٹرمپ نے سعودی تیل تنصیبات پرکسی بھی طرح کے حملہ کو روکنے کے لئے فوج اور ضروری ہتھیاروں کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے ۔ امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ نے اگرچہ کہا ہے کہ محکمہ دفاع کے فی الحال سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کا فیصلہ نہیں لیا اور ایسبر کو جلد ہی اس سلسلہ میں معلومات دی جائیں گی۔

اس کے علاوہ امریکا نے متحدہ عرب امارات میں بھی فوجیں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکا نے فوجی بھیجنے کا فیصلہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر کیا ہے۔ ان فوجوں کی تعیناتی دفاعی نوعیت کی ہو گی۔