Live Updates

پیپلز پارٹی سول نا فرمانی میں مولانا کی حمایت نہیں کریگی ،بلاول بھٹو زر داری

مولانا نے پلان بی اور سی سے متعلق ہمیں نہیں بتایا، تفصیلات جانے بغیر ان کی حمایت پر بات نہیں کرسکتا، آزادی مارچ کامیاب رہا، سلیکٹڈ وزیراعظم کے ہٹنے کے امکانات بڑھے ہیں، کم نہیں ہوئے،یقین سے کہتا ہوں کہ وزیر اعظم نہیں رہے گا، اگلے سال تک وزیراعظم کو جانا ہوگا،آصف زرداری ضمانت کیلئے درخواست نہیں دے رہے، چھ مہینے سے آصف زرداری کو اپنے ڈاکٹر سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی، ایک سابق صدر جس کا ٹرائل بھی شروع نہیں ہوا ان کی قید میں ہے، کشمیر کے حوالے سے ہمارا موقف واضح ہے ،، پیپلزپارٹی یوم تاسیس پر اپنا آئندہ کا لائحہ عمل رکھے گی، میڈیا سے گفتگو

ہفتہ نومبر 00:02

پیپلز پارٹی سول نا فرمانی میں مولانا کی حمایت نہیں کریگی ،بلاول بھٹو ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 نومبر2019ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زر داری نے وراضح کیا ہے کہ پیپلز پارٹی سول نا فرمانی میں مولانا کی حمایت نہیں کریگی ،مولانا نے پلان بی اور سی سے متعلق ہمیں نہیں بتایا، تفصیلات جانے بغیر ان کی حمایت پر بات نہیں کرسکتا، آزادی مارچ کامیاب رہا، سلیکٹڈ وزیراعظم کے ہٹنے کے امکانات بڑھے ہیں، کم نہیں ہوئے،یقین سے کہتا ہوں کہ وزیر اعظم نہیں رہے گا، اگلے سال تک وزیراعظم کو جانا ہوگا،آصف زرداری ضمانت کیلئے درخواست نہیں دے رہے، چھ مہینے سے آصف زرداری کو اپنے ڈاکٹر سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی، ایک سابق صدر جس کا ٹرائل بھی شروع نہیں ہوا ان کی قید میں ہے، کشمیر کے حوالے سے ہمارا موقف واضح ہے ،، پیپلزپارٹی یوم تاسیس پر اپنا آئندہ کا لائحہ عمل رکھے گی۔

(جاری ہے)

جمعہ کو بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پاکستان پیپلزپارٹی کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی صورتحال پر مشاورت اور آزادی مارچ کی صورتحال اور پیپلز پارٹی کے کردار پر گفتگو کی گئی ۔ ذرائع کے مطابق سابق صدر آصف زرداری اور نواز شریف کی صحت کا معاملہ بھی زیر غور آیا ۔اجلاس میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ،شیری رحمان ،چوہدری منظور ، مولا بخش چانڈیو، فرحت اللہ بابر ,قمر زمان کائرہ ، سہیل انور سیال ، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والہ اور مصطفی نواز کھوکھر بھی اجلاس میں شریک ہوئے ۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ کور کمیٹی کا اجلاس ہوا، کور کمیٹی نے پیپلز پارٹی کے رہبر کمیٹی ممبران کی کاوشوں کو سراہا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے جو مولانا فضل الرحمان سے وعدے کیے تھے ہم اس پر پورے اترے، کراچی سے آزادی مارچ شروع ہوا تو پیپلز پارٹی کے رہنماء ساتھ تھے۔ انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں بھی پیپلز پارٹی نے آزادی مارچ میں شرکت کی۔

انہوکںنے کہاکہ پلان بی میں بھی پیپلز پارٹی ساتھ ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس اس بار آزاد کشمیر میں ہوگا، مقبوضہ کشمیر پر ایک تاریخی حملہ ہوا ہے۔ انہوںنے کہاکہ مقبوضہ کشمیر پر حکومت نے جو قدم اٹھائے وہ سب کے سامنے ہیں، پیپلز پارٹی کا مقبوضہ کشمیر پر مؤقف بڑا واضح ہے۔ انہوںنے کہاکہ پیپلز پارٹی کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

انہوںنے کہاکہ کور کمیٹی اجلاس میں ملکی معیشت پر بھی بات چیت کی گئی، حکومت آئی ایم ایف کے سامنے سرنڈر کر چکی ہے۔ انہوںنے کہاکہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عام آدمی کے حقوق کی جنگ لڑی ہے، ملک کے عام آدمی کے بارے میں حکومت اور دائیں بازو کے سیاست دان خاموش ہیں۔بلاول بھٹو نے کہاکہ غریب پر کم اور طاقتور طبقے پر زیادہ بوجھ ہونا چاہئے۔انہوںنے کہاکہ پیپلز پارٹی عوامی حکومت بنائے گی، بلاول بھٹو نے کہاکہ پارٹی کی تنظیم سازی سے متعلق بھی کور کمیٹی میں بات چیت کی گئی۔

انہوںنے کہاکہ پیپلز پارٹی سول نافرمانی کا قدم نہیں اٹھا سکتی۔انہوںنے کہاکہ پلان بی اور سی رہبر کمیٹی ممبران کو نہیں بتایا گیا۔ انہوںنے کہاکہ آزادی مارچ کافی حد تک کامیاب رہا، وزیر اعظم کے ہٹنے کے چانسز بڑھ گئے ہیں کم نہیں ہوئے۔بلاول بھٹو نے کہاکہ وزیر اعظم کی سلیکٹڈ سپورٹ اتر چکی ہے، آزادی مارچ سے میڈیا سنسرشپ توڑی گئی ہے۔

انہوںنے کہاکہ کانفی ڈینس سے کہہ رہا ہوں یہ وزیر اعظم نہیں رہے گا۔ انہوںنے کہاکہ سلیکٹڈ وزیر اعظم کو جانا پڑے گا، اگلے سال تک یہ وزیر اعظم نہیں رہے گا۔بلاول بھٹو نے کہاکہ صدر زرادری کے ساتھ نا انصافی کی جارہی ہے۔انہوںنے کہاکہ عوام کے سامنے صدر زرادری کے ساتھ دوغلا سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ چھ مہینے سے صدر زرداری سے ڈاکٹر کو نہیں ملنے دیا گیا،آصف زرداری کو پرائیویٹ ڈاکٹر کا حق نہیں دیا جا رہا ۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ قوانین کے مطابق ٹرائل کرائم کی جگہ ہوتا ہے، سندھ کا ٹرائل پنڈی میں ہو رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کے ادارے اس نا انصافی کو نہیں روک سکے، وفاقی پر سوال اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہاکہ کل کو دیگر صوبوں کے ٹرائل بھی ہنڈی میں ہونگے، ہم کوئی فیورٹزم نہیں چاہتے۔بلاول بھٹو نے کہاکہ ہم احتساب چاہتے ہیں انصاف چاہتے ہیں،تیس نومبر کو آزاد کشمیر میں جلسہ ہوگا، جلسے کے بعد اگلا لائحہ عمل بھی بتایا جائے گا۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فارن پالیسی اس وقت تاریخی بحران سے گزر رہی ہے، پاکستان سلیکٹڈ تو سلیکٹڈ نظام نہیں چاہتی ۔ انہوںنے کہاکہ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ ملک میں نئے انتخابات ہونے چاہئیں۔ صحافی نے سوال کیا کہ آرمی چیف نے کہا ہے کہ معیشت درست سمت پر چل رہی ہے۔ بلاول بھٹو زر داری نے جواب دیا کہ جن کا معیشت میں کوئی کردار نہیں انہیں ملوث نہ کیا جائے۔

انہوںنے کہاکہ معیشت کا پوچھنا ہے تو عام آدمی سے پوچھیں ، حکومت کی معاشی پالیسی کی وجہ سے بے روز گاری ہے۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان کی سلیکشن کا سلوگن یہ تھا کہ دو نہیں ایک پاکستان بنائیں گے لیکن لگتا ہے کہ آج ایک نہیں دو پاکستان ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ایک وہ پاکستان جس میں عام آدمی ٹماٹر نہیں خرید سکتا۔ انہوںنے کہاکہ دوسرا وہ پاکستان جس میں وزیر مزے کر رہے ہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آصف زرداری ضمانت کے لیے درخواست نہیں دے رہے، چھ مہینے سے آصف زرداری کو اپنے ڈاکٹر سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی، ایک سابق صدر جس کا ٹرائل بھی شروع نہیں ہوا ان کی قید میں ہے۔
ڈیجیٹل پاکستان کی بنیاد سے متعلق تازہ ترین معلومات