عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ سے مسئلہ کشمیر پر بات کیوں نہیں کی؟

وزیراعظم نے امریکی صدر سے کشمیر کی بجائے افغانستان کو کیوں پہلی ترجیح دی، سینیٹرشیری رحمان کا سینیٹ میں مطالبہ

Khurram Aniq خُرم انیق جمعہ جنوری 15:48

عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ سے مسئلہ کشمیر پر بات کیوں نہیں کی؟
اسلام آباد(اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار-24جنوری2020ء) سینیٹر شیری رحمان کی جانب سے سینیٹ میں بات کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ عمران خان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کشمیر کے موضوع پر بات کیوں نہیں کی گئی؟ افغانستان کو ترجیح کیوں دی گئی؟ صحافی ارشدوحید چوہدری کی جانب سے ٹویٹر پر یہ خبر دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سینیٹ میں بات کرتے ہوئے شیری رحمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کشمیر پر کوئی بات نہیں کی گئی، امریکہ نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ہمارے وزیراعظم جا کر ان سے بات کرتے ہیں تو افغانستان کو پہلی ترجیح د ی گئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز صحافی سمیع ابراہیم کی جانب سے بھی خبر دی گئی تھی کہ امیریکی صدر ڈونلڈ ٹرمیپ فروری میں پاکستا ن کا دورہ کر سکتے ہیں کیونکہ فروری میں وہ افغانستان آئیں گے۔

(جاری ہے)

صحافی کی جانب سے مزید بتایا گیا تھا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ایک معاہدے ہونے کے امکان ہیں، اگر ایسا ہوا تو صدر ڈونلڈ ٹرمیپ افغانستان آئیں گے اور رتب ہی وہ پاکستان کا دورہ کریں گے۔

اسی موضوع پر سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے شیری رحمان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کشمیر کی بجائے افغانستان کے معاملات کو ترجیح دی، کیا وہ مسئلہ کشمیر کو بھول گئے ہیں؟ سوالیہ نشان ڈالتے ہوئے ا ن کا کہنا تھا کہ امریکہ نے پاکستان سے مسئلہ کشمیر کو حل کروانے کے لئے ثالثی بننے کا کردار ادا کرنے کا کہا تھا لیکن اس کے بعد کسی قسم کی کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی اور اب اگر دونوں ممالک کے لیڈران کی ملاقات ہوئی بھی تو کشمیر کے موضوع کو بھلا کر افغانستان کو ترجیح د ی گئی ۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عندیہ دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کا دورہ کریں گے اور یہ دورہ رواں سال فروری میں ممکن ہیں۔