عمرے کی ادائیگی کے لیے جانے والی خاتون سعودی عرب میں قید

سفر کے دوران مجھے بتایا گیا کہ میرے بیگ میں منشیات ہیں اور اگر اسکے بارے میں کسی کو بتایا تو میرے بیٹے کو قتل کردیا جائیگا: مذکورہ خاتون زہرہ کا بیان

Usama Ch اسامہ چوہدری منگل فروری 00:03

عمرے کی ادائیگی کے لیے جانے والی خاتون سعودی عرب میں قید
اسلام آباد (اردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین 17 فروری 2020) : عمرے کی ادائیگی کے لیے جانے والی خاتون سعودی عرب میں قید، تفصیلات کے مطابق ایک سال قبل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی جیلوں سے اکیس سو پاکستانیوں کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اصل میں کتنے افراد کو لوٹا گیا گیا تھا۔ سعودی عرب میں قید ایک خاتون کے بیٹے محمد سعید نے بتایا کہ اسکی ماں کو عمرہ کرنے کا بہت زیادہ شوق تھا لیکن وہ اسکی استعطاعت نہیں رکھتی تھی۔

ایک دن وہ مقامی کپڑے کی دکان میں گئیں، وہاں ایک پومی نامی ایک خاتون نے ان سے کہا کہ زہرہ کو عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب لے جائیگی۔ زہرہ کے بیٹے سعید کا کہنا تھا کہ وہ ایک بہت اچھی خاتون تھی اور بہت اچھی طرح سے بات کرتی تھی اور جب اس نے یہ پیش کش کی تو ہم دونوں ہی اس کی باتوں میں آ گئے اور فوری طور پر رضا مندی ظاہر کردی۔

(جاری ہے)

بومی سے متعلق زہرہ کی ایک ہمسائی رفعت نے کہا کہ یہ ایک دھوکے باز خاتون ہے اور اس سے دور ہی رہا جائے لیکن خدا تعالیٰ کے گھر کی زیارت کے خواب نے ایسا سوچنے نہ دیا۔

بعد ازاں زاہرہ نے سعودی عرب میں ایم ای ای کو بیان دیتے ہوئے بتایا کہ جب وہ سعودی عرب کے سفر کے لیے ہوائی جہاز پر سوار ہوئی تو مجھے بتایا گیا کہ میرے بیگ میں منشیات ہیں اور اگر میں نے اس بات پرشور مچانے کی کوشش کی تو اسکے بیٹے سعید کو قتل کردیا جائیگا جو کہ پومی کے قبضے میں ہے۔ زاہرہ نے مزید بتایا کہ اسے اسلام آباد ایئرپورٹ پر اسے کلیئر قرار دے کر آگے بھیج دیا گیا تھا لیکن سعودی عرب میں اسکو حراست میں لے لیا گیا۔

پاکستان کی وزارت خارجہ امور کی تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اس وقت سعودی جیلوں میں قید تین ہزار چار سو چالیس پاکستانی قیدی موجود ہیں جن میں نوین بھی شامل ہیں۔ انسانی حقوق کے مہم چلانے والے بہت سے افراد کہتے ہیں کہ نوین جیسے لوگ جو مذہبی فرائض کی انجام دہی کے لئے یا نوکریوں کے حصول کے لئے سعودی عرب گئے تھے ان میں اکثرپر منشیات کی سمگلنگ کرنے کے الزام میں جیلوں میں قید ہیں۔