Live Updates

حکمرانوں کے منہ سے نکلا لفظ قانون نہیں ہوتا، حکومت مستحقین کی مدد کیلئے رمضان کے بجائے ابھی سے زکو ة کٹوتی پر غور کرے‘ لاہور ہائیکورٹ

ڈیلی ویجز اوردیہاڑی دار افراد کیلئے کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں ، صاحب حیثیت افراد اگر راشن دینا چاہتے ہیں تو اسکی کیا پالیسی ہی ایران جانیوالے زائرین اور اردن وزٹ پر گئے افراد کی واپسی کے لیے کیے گئے اقدامات کی رپورٹ پیش کی جائے ،یکساں پالیسی بنائی جائے

منگل مارچ 19:01

حکمرانوں کے منہ سے نکلا لفظ قانون نہیں ہوتا، حکومت مستحقین کی مدد کیلئے ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 مارچ2020ء) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے کہا ہے کہ حکمرانوں کے منہ سے نکلا لفظ قانون نہیں ہوتا، حکومت مستحقین کی مدد کے لئے رمضان کے بجائے ابھی سے ہی زکو ة کٹوتی پر غور کرے،کورونا وائرس کی وجہ سے متاثر ہونے والے ڈیلی ویجز اوردیہاڑی دار افراد کیلئے کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں ، صاحب حیثیت افراد اگر راشن دینا چاہتے ہیں تو اس کی کیا پالیسی ہی ،ایران جانیوالے زائرین اور اردن وزٹ پر گئے افراد کی واپسی کے لیے کیے گئے اقدامات کی رپورٹ پیش کی جائے ۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان کی سربراہی میں لارجر بنچ نے کورونا وائرس کے حوالے سے درخواستو ں پر سماعت کی ۔ عدالتی حکم پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل، قائمقام ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، سیکرٹری صحت، سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر اور آئی جی جیل پیش ہوئے۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس قاسم خان نے استفسار کیا کہ کیا وفاق اور صوبائی حکومت نے ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کیاہے ، کوئی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اگر قانون پر نہیں چلیں گے تو کچھ ٹھیک نہیں ہوگا، حکمرانوں کے منہ سے نکلا لفظ قانون نہیں، کتنے افراد بیرون ملک سے واپس آنا چاہتے ہیں اور ملک میں مستحقین کی تعداد کتنی ہے کوئی اعداد و شمار نہیں، یہ کام لوکل گورنمنٹ کا تھا لیکن لوکل گورنمنٹ کو یہاں چلنے نہیں دیا گیا۔

چیف جسٹس قاسم خان نے مزید استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کیسے قرنطینہ سینٹرز چلا رہی ہے ۔سماعت کے دوران فل بنچ نے قرنطینہ کیلئے اساتذہ کی خدمات لینے پر ناراضگی کا اظہار کیا کہا کہ ان لوگوں سے کام لیا جا رہا ہے جن کو اس کا تجربہ نہیں ہے۔فاضل بنچ کو بتایا گیا کہ اساتذہ کو صرف فرنٹ ڈیسک تک محدود رکھا گیا ہے۔ فاضل عدالت نے کہا کہ ،پنجاب حکومت کے پاس 6 ہزار میڈیکل طلبہ کی فورس موجود ہے، اساتذہ میڈیکل آفیسر کی جگہ کیسے کام کرسکتے ہیں ۔

سیکرٹری صحت نے جواب دیا کہ میڈیکل طلبہ کو تیار رہنے کی ہدایات کر دی ہیں۔جسٹس شاہد جمیل نے استفسار کیا کہ تفتان سے جو لوگ آنے تھے وہ پہنچے یا نہیں۔ سیکرٹری صحت نے بتایا کہ ہمارے پاس تفتان سے 3 بیج پہنچ چکے ہیں۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے ریمارکس دئیے کہ تفتان سے جب لوگ آئے تھے، ان کو چیک کیا جاتا تو یہ حالات نہ ہوتے، وفاقی حکومت اس کی ذمہ دار ہے۔

فاضل عدالت نے استفسار کیا کہ پنجاب میں سرکاری اور غیر سرکاری ہسپتالوں کے پاس کتنے وینٹی لیٹرز ہیں ۔قائمقام ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ مجموعی طور پر 1753 وینٹی لیٹرز موجود ہیں، چین سے ایک ہزار سے زائد وینٹی لیٹرز آ رہے ہیں۔ چیف جسٹس محمد قاسم خان نے آئی جی جیل سے استفسار کیا کہ پنجاب میں خواتین قیدیوں کی تعداد کتنی ہے آئی جی جیل نے بتایا کہ مجموعی طور پر 649 خواتین قیدی ہیں اور 42 خواتین قیدی بچوں کے ساتھ رہ رہی ہیں۔

عدالت نے ایران جانے والے زائرین اور اردن وزٹ پر گئے افراد کی واپسی کے لیے کیے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب کرلی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کورونا وائرس کی وجہ دیہاڑی دار افراد متاثر ہوئے ہیں ان کے لئے کیا اقدامات کیے ہیں۔وفاقی اورصوبائی حکومت جو فنڈ دے رہی ہے اس کا طریقہ کار کیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ رمضان سے پہلے زکوة کیسے پہلے کاٹی اور بانٹی جا سکتی ہی ،چیف جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ اگر زکوة یکم رمضان کے بجائے حکومت اب وصول کرے اس سے متعلق حکومت وضاحت دے ۔

بیت المال سے لوگ کیسے مستفید ہوسکتے ،صاحب حیثیت لوگ راشن دینا چاہتے ہیں اس حوالے سے کوئی پالیسی بنائی گئی ۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا آپ نے ڈیلی ویجز ،دیہاڑی دار افراد کا ڈیٹا اکٹھا ،جو انڈسٹری کے افراد گھروں میں بھیجے گئے کیا آپ نے یقینی بنایا کیا کہ انہیں تنخواہ ملے گی ۔فاضل بنچ نے کہا کہ بچے کرکٹ کھیل رہے ہیں لوگ اکھٹے ہوجاتے ہیں یہ کوئی طریقہ نہیں ،یہ کام لوکل گورنمنٹ کا تھا ،متعلقہ علاقوں کے بزرگوں کی مدد لیں ۔

دوران سماعت استفسار کیا گیا کہ وفاقی حکومت نے تفتان سے آنے والے زائرین کیلئے کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔ایڈیشنل جنرل نے آگاہ کیا کہ تین جگہوں پر تفتان چمن اورخیبر میں قرنطینہ سنٹرز بنائے ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس وقت ایران میں کتنے پاکستانی محصور ہیں جنہوں نے واپس آنا ہے۔ آپ کے پاس ضروری معلومات نہیں تو کیا کرینگی.۔اس وقت حکومت نے بارڈر بند کیا ہے جب کھلے گا تو وہ واپس آئیں گے ان کیلئے کیا کرینگے۔

جب لوگ تفتان سے واپس آئے تو وہاں آپ نے کچھ کیا نہیں،ان کے ٹیسٹ وہاں کرتے لیکن آپ نے سکھر بہاولپور اوردیگر شہروں میں ٹیسٹ کیا ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا وفاقی حکومت کے پاس ایران کے زائرین کا مکمل ڈیٹا ہے آپ ہمیں ڈیٹا کتنے وقت میں دیں گے ۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ آدھے گھنٹے میں ڈیٹا فراہم کردیتا ہوں ۔فاضل بنچ نے استفسار کیا کیا ہماری بین الاقوامی فضائی حدود بند ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی ہماری فضائی حدود بند ہے، پاکستانیوں کی واپسی کے لئے کچھ خصوصی پروازیں چلا رہے ہیں ۔۔ فاضل بنچ نے استفسار کیا جو بیرون ملک سے خصوصی پروازوں سے آرہے ہیں ان کیلئے قرنطینہ کہاں بنایا ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسلام آباد میں ان کے لئے قرنطینہ بنایا گیا ہے۔ عدالت نے مزید استفسار کیا جو لوگ آپ قطر سے پاکستان لائے ہیں وہ کس پالیسی کے تحت لائے ہیں،جو لوگ دیگر ملکوں میں پھنسے ہیں انہیں تو واپس نہیں لارہے۔

بیرون ملک سے آنے والوں کیلئے ایک یکساں پالیسی بنائیں۔فاضل بنچ نے کہا کہ آپ سے کہا تھا کہ ہر ضلع میں کرونا ٹیسٹ کی لیب بنائیں۔ سیکرٹری صحت نے کہا کہ کابینہ کی میٹنگ میں اس حوالے سے فیصلہ ہوگا.،پوری دنیا میں اس ٹیسٹ کے حوالے مختلف طریقے رائج ہیں،پوری دنیا میں اس ٹیسٹ کی سہولت بہت کم اور مہنگی ہے ۔۔ میں خود نجی لیبزوالوں سے ملا ہوں اس کے باوجود ہمیں ٹیسٹ مہنگا پڑ رہا ہے ۔

سیکرٹری صحت نے بتایا کہ پی کے ایل آئی سمیت دو جگہوں پر کورونا ٹیسٹ کی سہولت شروع ہوجائے گی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نجی لیبز والوں سے بات کریں اس وقت ہم ہنگامی صورتحال میں ہیں ،اس ٹیسٹ کی قیمت کم کری۔ جسٹس عائشہ اے ملک نے استفسار کیا کہ جو شخص ہیروئین سمگل کرنے کے جرم میں گرفتار ہوا اور کورونا کا مریض ہے اس شخص کو کہاں رکھا ہی ۔جیل خانہ جات کے حکام نے بتایا کہ ہم نے اسے کل رات سے آئیسولیشن میں رکھ لیاہے ۔ عدالت نے استفسار کیا وہ اتنے عرصے میں کتنے لوگوں کو ملا آپ نے انہیںچیک کیا ۔ پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا کہ ہم فوری طور پر جیل میں 100 بیڈ کاہسپتال بنا رہے ہیں۔
کرونا وائرس کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات