پاک افغان دوطرفہ تجارت بڑھانے کی غرض سے سیکرٹری انڈسٹری کی زیرصدارت اجلاس

ہفتہ مئی 18:01

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 مئی2020ء) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے خیبرپختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع میں سرمایہ کاری ، افغانستان کے ساتھ باہمی دوطرفہ تجارت بڑھانے اور بارڈبازار بنانے کو عملی جامعہ پہنانے کی غرض سے سیکرٹری انڈسٹری خیبرپختونخواعامر لطیف سے اجلاس منعقد کی۔اجلاس میں پی سی سی آئی ریجنل آف پشاور کے کوارڈینیٹر سرتاج احمد خان ، چیف ایگزیکٹیو خیبرپختونخوا انوسمنٹ اینڈ ٹریڈز کمپنی (ازمک ) کے چیف ایگزیکٹیو جاوید خٹک،ایم ای اوکے پی ازمک فیض محمد، ڈائریکٹر انڈسٹری جوہرعلی شاہ، ایف پی سی سی آئی کنونیئر پاک افغان ٹریڈز شاہد شنواری، خیبرچیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدرکرنل (ر) محمد صدیق،ڈائریکٹر خیبرچیمبر سید جواد کاظمی،جنرل سیکرٹری خیبرچیمبر علی فیصل اورجوہر علی شاہ ڈائریکٹر انڈسٹری سمیت دیگرنے شرکت کی۔

(جاری ہے)

خیبرپختونخوا کے سیکرٹری انڈسٹری عامر لطیف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے پاک افغان بارڈ فنسنگ مکمل ہونے کے بعد مقامی لوگوں کو روزگار کی عرض سے چترال شاہ سلیم وارندو، طورخم خیبر، غلام خان شمالی وزیرستان اور کلاچی کرم میں بارڈ بازار بنانے کافیصلہ کرلیاہے جس پر کام جاری ہے جبکہ تمام ضم اضلاع میں نئے انڈسٹریل اسٹیٹ اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے اقدامات شروع کردی ہے تاکہ مقامی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع مل سکیں۔

ایف پی سی سی آئی وفد نے سیکرٹری انڈسٹری کوضم شدہ اضلاع میں اکنامک زون کے قیام ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لئے سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیاہے جبکہ ضم شدہ اضلاع کے چیمبرزکی مشاورت سے صنعت وتجارت کے فروغ کے لئے ہمہ وقت جدوجہدشروع کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ ایف پی سی سی آئی کوارڈینیٹر سرتاج احمدخان نے کہاکہ ہم وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی عبدالکریم خان کے مشکور ہے جس نے نئے ضم شدہ اضلاع میں خصوصی ترقیاتی پروگرام مرتب کیا ہے اور خیبر کو بطور ماڈل ڈسٹرکٹ لیاگیا ہے جس میں ٹورازم، معدنیات، پاک افغان باہمی تجارت، اکنامک زون کے قیام کے لئے اقدامات اٹھائے ہے جبکہ نوجوانوں کو روزگار کی عرض سے ہنر پروگرامات شروع کی ہے جس سے بے روزگاری کے خاتمے میں مدد ملے گی۔