وفاقی وزیر علی زیدی نے عزیر بلوچ ، نثار موارئی اور سانحہ بلدی فیکٹری کی جے آئی ٹی رپورٹس پبلک نہ کرنے پر حکومت سندھ کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی

جمعہ مئی 19:43

وفاقی وزیر علی زیدی نے عزیر بلوچ ، نثار موارئی اور سانحہ بلدی فیکٹری ..
کراچی۔29 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 مئی2020ء) وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے کہا ہے کہ عزیر بلوچ ، نثار موارائی اور سانحہ بلدیہ فیکٹری کی جے آئی ٹی رپورٹ پبلک کرنے کے لئے انہوں نے اکتوبر 2017 کو سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی اور28 جنوری 2020کو عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹس پبلک کرنے کا فیصلہ سنایا تھا لیکن آج تک جے آئی ٹی رپورٹس کو پبلک نہ کرنے پر سندھ ہائی کورٹ میں حکومت سندھ کیخلاف توہین عدالت کی درخواست جمع کرائی ہے ۔

جمعہ کو سندھ ہائی کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2017 میں سندھ ہاء کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی تھی کہ شہر کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئی ہیں اور اس پر بنے والی جے آئی ٹی رپورٹس کو پبلک کیا جائے کیونکہ شہر میں لوگ قتل ہوئے ہیں اور لواحقین انصاف مانگ رہے ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ میں نے عدالت سے عزیر بلوچ ، نثار مورائی اور سانحہ بلدیہ فیکٹری کی جے آئی ٹی رپورٹس پبلک کرنے کی استدعاء کی تھی کیونکہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر ان جے آئی ٹی کی غیر مصدقہ حصے گردش میں ہیں اس میں ایسے لوگوں کے نام بھی ہیں جو آج بھی سیاست کررہے ہیں اور اسمبلیوں میں بیھٹے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلئے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اصل جے آئی ٹی پبلک کی جائیں تاکہ عوام حقائق جان سکیں کیونکہ جو جے آئی ٹی سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہیں وہ سچی ہے کہ نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 10 اکتوبر 2017 کو جو پٹیشن دائر کی تھی 28 جنوری 2020 کو اس کا فیصلہ آیا اور اس پر میں سندھ ہاء کورٹ کا شکرگزار ہوں جس نے جے آئی ٹی رپورٹس پبلک کرنے کا فیصلہ سنایا۔

انہوں نے کہا کہ فیصلہ آنے کے بعد چیف سیکریٹری سندھ کو خط لکھ دیا جے آئی ٹی کو پبلک کرنے کے لئے لیکن مجھے خط کا جواب موصول نہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سندھ حکومت کو موقع دیا دو ماہ سے زائد کا وقت گزر گیا اور حکومت سندھ نے چیلنج بھی نہیں کیا اسلئے آج میں نے حکومت سندھ کے خلاف توہین عدالت کے لئے درخواست جمع کی ہے کیونکہ عدالت کا یہ حکم ہے کہ جے آئی ٹی پبلک کی جائے لیکن حکومت سندھ جے آئی ٹی نہیں دے رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ آج بھی آفیشل اسٹیمپ اور دستخط ہوئی جے آئی ٹی دے دیں تو وکیل سے مشاورت کے بعد اپنی درخواست واپس لے سکتا ہوں۔ انہوں نے کہا جب میں نے عز یر بلوچ اور نثار موارائی کی جے آئی ٹی مانگی تھی تو اس وقت لوگ میرے گاڑی میں نہیں بیھٹا کرتے تھے کہ علی زیدی خود پر خودکش حملہ کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، اللہ پر ایمان ہونا چاہئے اور اگر کوئی سچ کی راہ میں قتل کیا جاتا ہے تو انہیں شہید کہا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹس کو پبلک نہ کرنے سے میرا ذاتی کوئی مسئلہ نہیں ہے ، میں بس یہ چاہتا ہوں کہ شہر کے ساتھ جو ظلم ہوا ہے وہ آئیندہ نہ ہو اور جو لوگ جرائم پیشہ افراد کے پشت پر تھے ان کے نام سامنے آنے چاہیئں تاکہ عوام کو بھی پتہ چل جائے کہ ان جرائم پیشہ افراد کے پشت پر کون لوگ تھے اور ان لوگوں کو کیفرکردار تک پہنچنا چاہئے اور ان کو ملکی سیاست سے الگ کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ بلدیہ فیکٹری کا سانحہ حادثہ نہیں بلکہ دہشت گردی کا واقعہ تھا اور اس میں جاں بحق لواحقین کا حق بنتا ہے کہ وہ حقائق جان سکیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے اور اس شہر کے ساتھ سالوں زیادتیاں ہوتی رہی ہیں ، یہاں میڈیا کے ساتھ کھول کر بات کرنا بھی مشکل تھا ۔ انہوں نے کہاکہ جہاں جہاں علط ہوا اس کے کیخلاف ہم سب کو ملکر کھڑا ہونا ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف نے سات سال حکومت کی ہے میڈیا دیکھائے وہاں اگر اسپتال ٹھیک ہوئے تو اس کا کریڈٹ تحریک انصاف کو دیں اور اگر خرابی ہے تو اس پر ہم سے سوال پوچھیں، پنجاب میں ہمیں ابھی 18 ماہ ہوئے ہیں اگر وہاں حالات کی بہتری کا کریڈٹ ماضی کے حکمرانوں کو جاتاہے تو وہاں کی خراب صورتحال کے ذمہ دار بھی ماضی کے حکمران ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کو حکومت کرتے ہوئے دہائیاں گزرگئیں اور اب مسلسل 12 سال سے حکومت میں ہیں اب ان کے پاس کوئی بہانہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ کے جس شعبہ میں خرابی ہے اس کی ذمہ دار پیپلزپارٹی ہے ۔انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ پیپلزپارٹی کا گڑھ ہے لیکن وہاں کے ہسپتالوں کی یہ صورتحال ہے کہ وہاں یہ لوگ اپنے جانوروں کو بھی علاج کے لئے نہیں لے کر جائیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے احساس پروگرام کے تحت ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں میں شفاف طریقے سے 144 ارب روپے تقسیم کئے ہیں جس میں صوبہ سندھ کے لوگوں کو بھی بڑا حصہ ملا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں عید سے قبل پی آئی اے طیارہ کو حادثہ پیش آیا تھا ، میں شہداء کے لواحقین کے پاس گیا ہوں ان کا مطالبہ ہے کہ ان کی پیاروں کی لاشیں ان کے حوالے کی جائیں اور حادثہ کی تحقیقات کرکے رپورٹ پبلک کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں لواحقین کے مطالبہ سے متفق ہوں حادثہ کی تحقیقاتی رپورٹ پبلک ہونی چاہیئے۔