ملکہ کوہسار مری میں سیاحوں پر پھر سے حملہ ہوگیا

سیاحوں اور ہوٹل انتظامیہ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جھگڑے میں سیاحوں پر تشدد: میڈیا رپورٹس

Hassan Shabbir حسن شبیر اتوار ستمبر 13:59

ملکہ کوہسار مری میں سیاحوں پر پھر سے حملہ ہوگیا
مری(اردو پوائنٹ- اخبارتازہ ترین 13 ستمبر2020ء) مری میں سیاحوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہونے لگا ، مری کے نجی ہوٹل نے سیاحوں کے ساتھ تلخ کلامی پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کا سامان بھی چھین لیا گیا،میڈیا رپورٹس کے مطابق مری میں دوبارہ پر تشدد واقعات کی وجہ سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے واقع کا نوٹس لےلیا اور پولیس کو ہدایت کی ہے کہ جلد ملزمان کے بارے میں تحقیقات کی جائیں اور کیفردار تک پہنچایا ہے،خیال رہے کہ مری سیاحوں کے ساتھ بدتمزی اور تشدد کوئی نئی بات نہیں ہے ، مری میں ہوٹل انتظامیہ اور بروکر انتہائی غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں اور سیاحوں کے ساتھ ہوٹل انتظامیہ بھی کوئی خاص سلوک روا نہیں رکھتی ہے۔

2018 میں مری میں سیاحوں کے ساتھ بدتمیزی اور تشدد کے واقعات میں انتہائی غیرمتوقع طورپر بڑھ گئے تھے، جبکہ سیاحوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ مری میں بےجا مہنگائی بھی کی گئی ہے دس روپےکی چیز 50 روپے میں فروخت کی جاتی ہے،جس کے بعد مری میں سیاحوں اور لوگوں نے جانے سے انکار کیا تھا اور ایک مہم ‘‘بائیکاٹ مری ’’ کا بھی آغاز کیا تھا جس کے بعد تشدد اور بدتمیزی کے واقعات میں کمی آئی تھی ،تاہم مری میں دوبارہ ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں ۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے اعداد و شمار کے مطابق گرمیوں اور سردیوں کی تعطیلات کے دوران روزانہ کم و بیش 10 ہزار سیاح مری کا رُخ کرتے ہیں۔ سالانہ یہ تعداد ایک کروڑ تک بتائی جاتی ہے۔  مری کی معیشت کا تمام تر دارومدار سیاحت پر ہے مگر عمومی طور پر سیاحوں کا مؤقف یہی ہے کہ یہاں کے لوگ مہمان نواز نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاحوں کے ساتھ ہوٹل مالکان کا ناروا سلوک، کمروں کا زائد کرایہ اور مصنوعی مہنگائی یہاں کے اہم مسائل ہیں۔تاہم ہوٹل ما لکان کا کہنا ہے کہ مری کے شہریوں کی طرف سے آج تک ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا جس میں کسی فیملی کی مار پیٹ کی گئی ہو۔