جموں وکشمیر اور فلسطین کے تنازعات اقوام متحدہ کی دیرینہ اور واضح ترین ناکامیوں کے مظاہر ہیں ،

کشمیر ی عوام اقوام متحدہ کے وعدہ کے تحت اپنے حق کے حصول کے لیے آج بھی منتظر ہیں، اقوام متحدہ طاقت کے بہیمانہ استعمال کے سامنے بے بسی دکھائی دیتا ہے، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا اقوام متحدہ کی پچھترویں سالگرہ پر ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب

منگل ستمبر 14:39

جموں وکشمیر اور فلسطین کے تنازعات اقوام متحدہ کی دیرینہ اور واضح ترین ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 22 ستمبر2020ء) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر اور فلسطین کے تنازعات اقوام متحدہ کی دیرینہ اور واضح ترین ناکامیوں کے مظاہر ہیں۔کشمیر ی عوام اپنے حق کے حصول کے لیے آج بھی منتظر ہیں، جس کا اقوام متحدہ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ طاقت کے بہیمانہ استعمال کے سامنے بے بسی دکھائی دیتی ہے۔

دوسری جنگ عظیم کا موجب بننے والی نسل پرستی اور فسطائی قوتیں غیرملکیوں اور اسلام سے نفرت کی شکل میں دوبارہ سر اٹھارہی ہیں۔فسطائی نظریات پر کاربند دیگر ایسے ممالک بھی ہیں جو اقوام متحدہ کے اصولوں کی سرعام دھجیاں اڑاتے ہیں۔منگل کو نیو یارک میں اقوام متحدہ کی پچھترویں سالگرہ پر ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگ کی اذیت ناک سختیوں و تباہ کاریوں اورکچھ کی دیگر پر برتری کے غلط نظریات کی راکھ سے اقوام متحدہ کی امید نے جنم لیا تھا۔

(جاری ہے)

اس ادارے کے وجود نے ایک تاریخی ضروری تقاضا پورا کیا تھا۔ وہ ضروری تقاضا یہ تھا کہ ’’آنے والی نسلوں کو جنگ کے عفریت سے بچایا جائے۔‘‘ اور مرد و زن، چھوٹی بڑی اقوام ہونے سے قطع نظر ،ان کے مساوی و بنیادی حقوق کے تحفظ وآبیاری کے لئے اپنے عہد کا اعادہ کرتے ہوئے، زیادہ آزادی کے ساتھ معیار زندگی بہتر بنانے کی جستجو کی جائے۔اس ضمن میں ہمارے اقوام متحدہ نے طویل سفر طے کیا ہے۔

اس ادارے نے بنی نوع انسان کو ایک ہی نوع کے واقعات سے دوچار ہونے اور نتیجتاً تباہی سے بچانے میں مدد کی ہے۔لیکن ان خوشیوں کو مناتے ہوئے ہمیں اس کی کمزوریوں اور ناکامیوں کو نظرانداز نہیں کرنا۔ اس کی مجموعی کامیابیوں کے ساتھ ان ناکامیوں کو ملا کر دیکھنا ہوگا۔یہ تنظیم اسی حد تک اچھی ہے جس حد تک اس کی رکن ریاستیں اسے اچھا دیکھنے کی خواہاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر اور فلسطین کے تنازعات اس ادارے کی دیرینہ اور واضح ترین ناکامیوں کے مظاہر میں سے ہیں۔مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام استصواب رائے کے اپنے حق کے حصول کے لیے آج بھی منتظر ہیں، جس کا اقوام متحدہ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ پر آج ’گپ شپ کی جگہ‘ ہونے کا طنز ہورہا ہے، اس کی قراردادوں اور فیصلوں کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، باہمی تعاون خاص طورپر سلامتی کونسل کے معاملے میں کم ترین سطح پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ طاقت کے بہیمانہ استعمال کے سامنے بے بسی دکھائی دیتی ہے، عالمی ماحول کے تحفظ اور ترقی کی خاطر مرتب کردہ کلیدی معاہدے اور عہدنامے اٹھا کر پھینکے جارہے ہیں۔دوسری جنگ عظیم کا موجب بننے والی نسل پرستی اور فسطائی قوتیں غیرملکیوں اور اسلام سے نفرت کی شکل میں دوبارہ سر اٹھارہی ہیں۔اگرچہ کورونا وبا کے مقابلے کے لئے ہم، بے پناہ عالمی تعاون دیکھ چکے ہیں لیکن یہ ادارہ بنی نوع انسان کو اس طرح متحد کرنے میں ناکام رہا ہے جیسا کہ اسے کیاجاسکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے ہی کثیرالقومیتی اور اقوام متحدہ کے وجود کو ناگزیر سمجھنے والا ملک رہا ہے، ہم اس پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔رکن ریاست اور ہمارے باشندے، دونوں ہی اقوام متحدہ کے مقاصد اور اہداف کے حصول کو انسانیت کی خدمت کی نہایت عظیم روایت کے طورپر بہترین انداز میں انجام دینے میں اپنا گراںقدر حصہ ڈال رہے ہیں۔پاکستان نے 26 ممالک کے 47 مشنز میں 2 لاکھ دستے مہیا کئے ہیں جن میں سے ہمارے 157 جواںمرد شہید ہوئے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا میں سب سے بڑی تعداد میں مہاجرین کی میزبانی کرنے والا بھی ہمارا ہی ملک ہے۔میرا یہ پختہ یقین ہے کہ اپنی قدر اور ڈھانچے کے اعتبار سے اقوام متحدہ کا کوئی متبادل نہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ میں شامل ہم لوگوں کو ناامیدی ومایوسی کی لہر اور ذاتی مفادات کے گرد گھومتی ڈراونی پیش گوئیوں کو حقیقت کا روپ دھارنے سے روکنے کے لئے اٹھ کھڑا ہونا ہوگا۔اس نیک کام میں آپ ہمیشہ کی طرح پاکستان کو اپنے شانہ بہ شانہ پائیں گے۔