Live Updates

پیپلزپارٹی نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو جلسے میں تقریر کی دعوت دے دی

پیپلزپارٹی کیلئے آج کا جلسہ بڑا امتحان ہوگا کہ نوازشریف کے ساتھ ہے یا نہیں، آج نوازشریف کی تقریر اور پیپلزپارٹی کے بیانیئے دونوں کا فیصلہ آج ہو جائے گا،صابر شاکر کا تبصرہ، نوازشریف آج جلسے میں خطاب نہیں کریں گے۔ سینئر صحافی نجم سیٹھی

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار اکتوبر 18:10

پیپلزپارٹی نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو جلسے میں تقریر کی دعوت دے دی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اکتوبر2020ء) پیپلزپارٹی نے سابق وزیر اعظم نوازشریف کو جلسے میں تقریر کی دعوت دے دی ہے، پیپلزپارٹی کیلئے آج کا جلسہ بڑا امتحان ہوگا کہ نوازشریف کے ساتھ ہے یا نہیں، آج نوازشریف کی تقریر اور پیپلزپارٹی کے بیانیئے دونوں کا فیصلہ آج ہوجائے گا۔ سینئر تجزیہ کار صابر شاکر نے اپنے اپنے ذرائع کی معلومات پر تبصرے میں کہاکہ پیپلزپارٹی کی جانب سے سابق وزیر اعظم نوازشریف کو کراچی جلسے میں تقریر کی دعوت دی گئی ہے۔

اگر وہ تقریر کرتے ہیں، تواس کے نتائج کیا ہوں ۔ پیپلزپارٹی کے اجلاسوں میں جو مشاورت ہوئی ہے، آصف زرداری بھی میٹنگ مشاورت میں شامل تھے۔نوازشریف کیا چاہتے ہیں؟ پیپلزپارٹی کے لیے آج کے جلسے میں بڑا امتحان ہوگا کہ وہ اُدھر ہیں یا ادھر ہیں؟ کہ نوازشریف کے ساتھ ہے یا نہیں ہے، دونوں باتوں کا فیصلہ آج ہوجائے گا، ابھی تک اطلاعات ہیں کہ بلاول بھٹو ان کو پیغام دے چکے ہیں کہ ہم اس جگہ نہیں جانا چاہتے جو آپ چاہتے ہیں۔

(جاری ہے)

پیپلزپارٹی آج کے دن کو یوم شہداء کے طور مناتی ہے، جب بے نظیر جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئیں، تو ان پر کراچی میں ایک دہشتگرد حملہ ہوا تھا، اس میں بڑی شہادتیں ہوئی تھیں، لیکن محترمہ بے نظیراس دہشتگرد حملے میں محفوظ رہیں، لیکن بعد میں ان کو راولپنڈی میں شہید کردیا گیا۔دوسری جانب نوازشریف چاہتے ہیں ان کے تمام مخالفین کی وکٹیں گر جائیں، اگر وکٹیں نہ گری، تو ان کی گردنیں اڑ جائیں گی۔

نوازشریف ایک خونی لڑائی کا آغاز کرچکے ہیں۔ نوازشریف بین الاقوامی کھلاڑیوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ نوازشریف نے اپنی تقریر میں ادارے کو کمزور کرنے کیلئے بیانات دیے، جج ارشد ملک کی چیزیں ، ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈالی جائیں گی، اداروں کے پاس اس حوالے سے ساری معلومات موجود ہیں۔ کچھ ٹیلیفونک کالز ٹریس ہوئی ہیں، نوازشریف چاہتے کیا ہیں؟ ہمارے ادارے اس سے واقف ہیں۔

نوازشریف کی تقریر کے بعد ن لیگ کیخلاف ایکشن سوچا جا رہا ہے کہ ن لیگ کو ایم کیوایم کی طرح ٹریٹ کیا جائے، اگر ویسا کیا گیا تو ن لیگ پر پابندی عائد ہوسکتی ہے۔ جب ن لیگ پر پابندی لگی تو تمام سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان نااہل ہوجائیں گے۔کیونکہ کل وزیراعظم عمران خان نے بھی کہا کہ اب ہم ن لیگ کو ایک نئے انداز میں نمٹیں گے۔یہ راستہ قانونی اور آئینی ہوگا۔

اس راستے پر جو بھی نوازشریف کے ساتھ کھڑا رہے گا، وہ نااہل ہوجائے گا۔یا پھر ن لیگ کی نئی قیادت اور نئی جماعت بنے گی۔نوازشریف کی تقریر کے بعد مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو نے خود کو بے زاری محسوس کیا۔کیونکہ ان کو لگتا ہے اس سے مسائل پیدا ہوں گے۔ دوسری جانب ایک سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آج کراچی جلسے میں خطاب نہیں کریں گے۔
اپوزیشن اتحاد کی تحریک سے متعلق تازہ ترین معلومات