حفیظ سینٹر آتشزدگی ، آگ پر قابونہ پائے جانے سے متعلق اہم کوتاہیوں کی نشاندہی

ایمرجنسی کال پر آنے والی ٹیم نے ریسکیو آپریشن میں تاخیرکی ، ریسکیو کی طرف سے 2 گھنٹے تک آگ پر قابو پانے کی کوشش ہی نہیں کی گئی

Sajid Ali ساجد علی بدھ اکتوبر 16:54

حفیظ سینٹر آتشزدگی ، آگ پر قابونہ پائے جانے سے متعلق اہم کوتاہیوں کی ..
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اکتوبر2020ء) صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں واقع موبائل فون اور کمپیوٹر کے حوالے سے اہم تجارتی مرکز حفیظ سینٹر میں لگنے والی آگ پر بروقت قابو نہ پائے جانے کے حوالے سے اہم کوتاہیوں کی نشاندہی کردی گئی۔ اس حوالے سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق لاہور کے حفیظ سینٹر میں ہونے والے آتشزدگی کے واقعے میں ریسکیو کی طرف سے 2 گھنٹوں تک آگ پر قابو پانے کی کوشش ہی نہیں کی گئی ، ریسکیو ٹیم کے حفیظ سینٹر آنے اور اس کے بعد بجلی بند ہونے میں 2 گھنٹے تک کوئی حکمت عملی ہی نہ اپنائی گئی ، جب کہ موقع پر پہنچنے والی ریسکیو ٹیم کی طرف سے بجلی بند کروانے کے لئے لیسکو حکام سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ، دوسری طرف بجلی کی سپلائی میں آگ پر قابو پانے کا آپریشن بھی شروع نہیں کیا گیا ، کیوں کہ بجلی کی سپلائی کے دوران ریسکیو آپریشن کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا تھا ، تاہم 2 گھنٹوں کی تاخیر کی وجہ سے آگ کی شدت میں اضافہ ہو گیا ، جس نے اس وقت تک عمارت کی 3 منزلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ اس سے قبل واقعے کی اطلاع ملنے پر ایمرجنسی کال پر حفیظ سینٹر پہنچنے والی ٹیم نے ریسکیو آپریشن میں تاخیرکی ، حالاں کہ ریسکیو حکام کو حفیظ سینٹر میں لگنے والی آگ کی اطلاع صبح 6 بجکر11 منٹ پر ملی، جب کہ لیسکو کو بجلی بند کروانے کے حوالے سے کی پہلی کال صبح 7 بج کر57 منٹ پر کی گئی ، جو ریسکیو ٹیم کی طرف سے نہیں کی گئی بلکہ اس کے لیے بھی صدر حفیظ سینٹر کی جانب سے 7 بجکر57 منٹ پر لیسکو حکام سے رابطہ کیا گیا ، تاہم اس رابطے کے بعد لیسکو حکام کی طرف سے 8 بج کر8 منٹ پر حفیظ سینٹر کے صرف ایک حصے کی بجلی بند کی گئی ، جس کے بعد 8 بج کر19 منٹ پر دوسرے حصے کی بجلی بند ہوئی۔