خالد مقبول صدیقی نے سانحہ 12 مئی میں ایم کیو ایم کے ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا

سانحہ 12 مئی صرف چند لوگوں کی غلطی کی وجہ سے ہوا تھا، پارٹی قیادت اور 99 فیصد کارکنان اس کے حق میں نہیں تھے، کنوینئرایم کیو ایم

Shehryar Abbasi شہریار عباسی بدھ نومبر 00:23

خالد مقبول صدیقی نے سانحہ 12 مئی میں ایم کیو ایم کے ملوث ہونے کا اعتراف ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 نومبر2020ء) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے سانحہ 12 مئی کے بارے میں کہا ہے کہ اس دن کچھ لوگ مسلح ہوکر نکلے۔ ایم کیو ایم کے ننانوے فیصد کارکنان اور لیڈرشپ اپنے ’رول‘ کیخلاف تھے۔ کراچی میں سول کورٹ میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ چندے اور بھتے میں فرق ہے۔

سانحہ 12 مئی صرف چند لوگوں کی غلطی کی وجہ سے ہوا تھا، پارٹی قیادت اور 99 فیصد کارکنان اس کے حق میں نہیں تھے ۔ اسے آپ میرا اقرار جرم سمجھیں یا میرا دفاع، یہ آپ کی مرضی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھتے اور چندے میں کوئی خاص فرق نہیں، کارکنان اپنے طور پر بھتہ لیتے رہے ہوں گے، پارٹی کی ایسی پالیسی ہوتی تو ایوان میں اس کی گونج ہوتی ۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ 20 کروڑ روپے بھتہ نہ دینے پر بلدیہ فیکٹری کو آگ لگا دی گئی تھی ۔

اس حوالے سے کچھ عرصہ قبل جے آئی ٹی رپورٹ سامنے آئی تھی، رپورٹ کے مطابق بلدیہ فیکٹری کیس کو روز اول سے اس طرح چلایا گیا جس سے ملوث گروہ کو فائدہ ہو اور دہشتگردی کے واقعے کو ایف آئی آر میں ایسے پیش کیا گیا جیسے کوئی عام قتل کا واقعہ ہو، دباؤ کے زیر اثر پولیس نے بلدیہ فیکٹری سانحے کے کیس کو جانبدارانہ انداز میں چلایا۔ جے آئی ٹی نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کی نئی ایف آئی آر درج کرنے کی سفارش کی تھی۔