جنوبی ایشیا کی ہیلتھ کمیونٹی ورکرز کے چارٹر کے اجرا پر سیمینار

پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کی لیڈی ہیلتھ ورکرزاپنے حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی ، عزم کا اظہار

پیر دسمبر 23:53

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 دسمبر2020ء) کراچی میں آل سندھ لیڈیز ہیلتھ ورکرز اینڈ ایمپلائیز یونین نے پبلک سروسز انٹرنیشنل اور ورکرز ایجوکشن اینڈ ریسرچ آرگنائزیشن کے تعاون سے ہونے والے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی جدوجہد کو سراھاتے ہوئے کہا کہ ہیلتھ کے شعبے میں خدمات کے دوران جانیں قربان کرنے والی ورکرز کو شہید کادرجہ دیا جائے انکا کہنا تھا خواتین کو پولیو کے قطرے پلانا ہو یا کوویڈ 19 میں کام کے دوران بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے انھوں نے یقین دھانی کرائی کہ وہ پارلیمنٹ میں اور سندھ حکومت تک ان کے مسائل کو اجاگر کریں گی۔

سندھ کمیشن اسٹیٹس آف وومن کی چیئرپرسن نذہت شریں نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کے چارٹر آف ڈیمانڈ کی حمایت کرتے ہوئے کہا لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ہراسیگی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ہم ان کے ایشوز کو سامنے لائیں گے اور ہر طرح کا تعاون کریں گے۔

(جاری ہے)

کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر حسن عباس نے کہا کہ خواتین کا ہمارے معاشرے میں انتہائی اہم رول ہے اور کسی بھی تحریک میں ان کا کردار اہمیت رکھتاہے ہم ان کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں۔

زہرہ خان نے کہا کہ عورت کے بغیر کوئی انقلاب مکمل نہیں ہوتا ۔حکومت ڈیفنس کا بجٹ کم نہیں کرسکتی تو تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ کریے۔منیزہ انعام نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کے چارٹر آف ڈیمانڈ کو ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوویڈ 19 کے دوران ہیلتھ ورکرز کو بہت مشکلات کا سامنا ہے انھیں مناسب سہولتیں فراہم کی جائیں۔ ڈاکٹر توصیف خان نے کہا کہ نوبل انعام یافتہ سائنس دان کا کہنا ہے کہ پاکستان سائینس سے دور ہورہا ہیاس سے سب سے زیادہ نقصان خواتین کو ہوتا ہے۔

پولیو کے قطرے پلانے والی جن خواتین کو قتل کیا گیا انھیں شہید قراردیا جائے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آل سندھ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی مرکزی صدر حلیمہ ذوالقرنین نے چارٹر آف ڈیمانڈ کے مطالبات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نیپال اور بھارت کی ہیلتھ کمیونٹی ورکرزاپنی پہچان پبلک ہیلتھ ورکرز کے طور پر چاہتے ہیں ۔ فیصلہ سازی کے عمل میں ہماری اجتماعی آواز کو شامل کیا جائے اور عوامی خواہشات کے مطابق صحت کی نگہداشت کا نظام مرتب کیا جائے۔ ورکرز ایجوکشن اینڈ ریسرچ آرگنائزیشن کے ایگزیٹیو ڈائریکٹر میر ذوالفقار علی اور یونین کی جنرل سیکریٹری شمع گلانی نے مقررین کا شکریہ ادا کرتے ہوے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ حقوق اور آگاہی کی اس مہم میں بھر پور ساتھ دیں گے۔