نیوزی لینڈ میں مقیم مسلمان خوف و ہراس کا شکار

سانحہ کرائسٹ چرچ میں نشانہ بننے والی دونوں مساجد پر دوبارہ حملہ کرنے کی دھمکی

muhammad ali محمد علی جمعرات مارچ 22:11

نیوزی لینڈ میں مقیم مسلمان خوف و ہراس کا شکار
کرائسٹ چرچ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مارچ2021ء) نیوزی لینڈ میں مقیم مسلمان خوف و ہراس کا شکار، سانحہ کرائسٹ چرچ میں نشانہ بننے والی دونوں مساجد پر دوبارہ حملہ کرنے کی دھمکی۔ تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 2 سال قبل مساجد پر ہوئے حملے کی بھیانک یادیں وہاں مقیم مسلمان آج بھی بھلانے سے قاصر ہیں۔ ایسے میں نیوزی لینڈ میں مقیم مسلمانوں کو دوبارہ قتل و غارت کی دھمکی دی گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیوزی لینڈ میں ایک 27 سالہ شدت پسند کی جانب سے 2 سال قبل دہشت گردی کا نشانہ بننے والی کرائسٹ چرچ کی مساجد پر دوبارہ حملہ کرنے اور قتل و غارت کی دھمکیاں دی گئیں۔ شدت پسند نے آن لائن دھمکیاں دیں جس کے بعد پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے شدت پسند کو گرفتار کر لیا۔

(جاری ہے)

تاہم پولیس نے گرفتار ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

پولیس کے مطابق سفید فارم شدت پسندوں کی ایک ویب سائٹ کے ذریعے نیوزی لینڈ کے مسلمانوں کو دھمکیاں دی گئیں۔ اس حوالے سے شکایات موصول ہونے کے بعد کرائسٹ چرچ سے 2 مشکوک افراد کو گرفتار کیا گیا۔ تاہم ایک گرفتار شخص کیخلاف کوئی شواہد نہ ملنے پر اسے رہا کر دیا گیا، جبکہ دوسرے شخص کو جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ پولیس کے مطابق قتل و غارت کی دھمکیاں دینے کا جرم ثابت ہونے پر گرفتار شدت پسند کو 7 سال جیل کی سزا ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ 15 مارچ کو سانحہ کرائسٹ چرچ کو 2 سال مکمل ہو جائیں گے۔ 2 سال قبل ایک سفید شدت پسند کے دہشت گرد حملے کے دوران 51 نمازی شہید ہو گئے تھے۔