مقبوضہ کشمیر کا مسلسل محاصرہ،ایمنسٹی انٹرنیشنل کی بھارت پر کڑی تنقید

بھارتی فوجیوں کی بڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں

بدھ اپریل 22:49

لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 اپریل2021ء) لندن میں قائم انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘‘نے بھارت کے زیر قبضہ جموںو کشمیر میں شہری آزادیاں سلب کرنے اورکورونا وبا کی آڑ میں سخت لاک ڈائون پر بھارت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں 149 ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مودی حکومت کی طرف سے مقبوضہ جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے ایک برس بعد بھی بھارتی حکومت احتساب کا مطالبہ کرنے والوں کو خاموش کرا رہی ہے اور اس نے علاقے میں میڈیا پر بھی سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی پولیس نے کم از کم اٹھارہ صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا یا انہیں پوچھ گچھ کیلئے تھانوں میں طلب کیا ۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں کہاگیا کہ حکومت کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں ایک نئی میڈیا پالیسی متعارف کرائے جانے کے بعد سے اختلاف رائے کو دبانے کی مزید کوششیں کی گئیں تاکہ میڈیا پر حکومتی کارکردگی کے حق میں ایک مقبول بیانیہ پیش کیا جاسکے۔بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں فوجیوں نے سرینگر ، پلوامہ اور شوپیاں کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

فوجیوں نے اندر، مڈورہ، ملہوروچی ، چھترا گام اور گلاب باغ کے علاقوں کا محاصرہ کر کے گھر گھر تلاشی کی کارروائیاں کیں۔ غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموںوکشمیر میںحریت رہنماؤں اور تنظیموں کی طرف سے حق خودارادیت کے حصول کے لئے کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کی مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی کوششوں کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما غلام نبی سمجھی نے تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں پاکستان ، بھارت اور حریت قیادت کے درمیان سہہ فریقی بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

محمد یوسف نقاش، ایڈوکیٹ دیویندر سنگھ بہل، جموں و کشمیرسالویشن مومنٹ اور تحریک وحدت اسلامی نے اپنے بیانات میں کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ بھارت مقبوضہ جموںوکشمیر کی سنگین صورت حال کا ادراک کرے اورتنازعہ کشمیر کے پائیدار حل کے لئے راہیں تلاش کرے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی طرف سے کئے گئے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات نے علاقے کی سالمیت اور لوگوں کی منفرد شناخت کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ادھرانسانی حقوق کے کارکن محمد احسن انتونے ایک خط میں بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکرپرزوردیا ہے کہ وہ پاکستان کی یونیورسٹوں اور کالجوں میںزیر تعلیم سینکڑوں کشمیری طلباء کے مستقبل کو بچانے کے لئے مداخلت کریں۔ انہوںنے کہاکہ بھارتی حکام کشمیری طلباء کو پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے سے روکنے کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بھارتی سکیورٹی حکام نے مارچ میں30 کے قریب کشمیری طلباء کوتمام سفری دستاویزات کے باوجود پاکستان جانے سے روک دیا تھا اور اب حال ہی میں جب طلباء نے دبئی کے راستے پاکستان جانے کی کوشش کی تو انہیں پھر دستاویزات کی تصدیق کے بہانے دہلی کے ہوائی اڈے پر روک دیا گیا۔