مقبوضہ جموںوکشمیرمیں قتل عام کے بیسیوں دلخراش واقعات پیش آچکے ہیں، حریت کانفرنس

دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوںکی جدوجہد آزادی کو شکست نہیں دے سکتی جسے کشمیری شہداء نے اپنے خون سے سینچا ہے،ترجمان کا بیان جموںوکشمیرمسلم کانفرنس کے چیئرمین شبیر احمد ڈاراور جموںوکشمیر نیشنل فرنٹ کاشہدائے چوٹہ بازار کو زبردست خراج عقیدت

جمعرات جون 23:02

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 جون2021ء) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہاہے کہ بھارت کی تاریخ میں جلیانوالہ باغ قتل عام کا صرف ایک واقعہ پیش آیا ہے جبکہ جدوجہد آزادی کشمیر کے دوران بھارتی قابض فوجیوں کے ہاتھوں ایسے بیسیوں دلخراش واقعات پیش آچکے ہیں۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان اور دیگر حریت رہنمائوں اور تنظیموںنے شہدائے چوٹہ بازار سرینگر کو انکی شہادت کی برسی کے موقع پر شاندار خراج عقیدت پیش کیاہے۔

11جون 1991کو سرینگر کے علاقے چوٹہ بازار میںبھارتی پیراملٹری سینٹر ل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں نے اشتعال میںآتے ہوئے سید منصور میں واقع اپنے فوجی کیمپ سے لیکر ڈائون ٹائون سرینگر کے علاقے چوٹہ بازار تک خود کار ہتھیاروں سے اندھادھند فائرنگ کرتے ہوئی32بے گناہ شہریوں کو شہید اور 22کو شدید زخمی کر دیا تھا۔

(جاری ہے)

حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہاکہ دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوںکی جدوجہد آزادی کو شکست نہیں دے سکتی جسے کشمیری شہداء نے اپنے خون سے سینچا ہے ۔

انہوںنے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس پر زور دیا کہ وہ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں جاری نہتے کشمیریوں کی نسل کشیُ کا فوری نوٹس لیں۔جموںوکشمیرمسلم کانفرنس کے چیئرمین شبیر احمد ڈاراور جموںوکشمیر نیشنل فرنٹ نے اپنے بیانات میں شہدائے چوٹہ بازار کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ کشمیری شہداء کی قربانیوںکو ہرگز فراموش نہیں کیا جائے گا۔

ادھرکشمیر میڈیاسروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ سانحہ چوٹہ بازارمقبوضہ جموںوکشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں نہتے کشمیریوںکے قتل عام کے اندوہناک واقعات میں سے ایک ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اس سانحہ کی تلخ یادیں اب بھی بیسیوںمتاثرہ خاندانوں کے زخموںکو تازہ کردیتی ہیں جن کے پیارو ںکو بھارتی فوجیوں نے شہید کردیاتھا۔

رپور ٹ کے مطابق اس سانحے کو 30برس کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی اس کی تلخ یادیں اب بھی کشمیریوں کے ذہنوںمیں تازہ ہیںاور متاثرہ خاندان آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ تحریک مزاحمت کے چیئرمین بلال صدیقی نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں طفیل متو اور 2010کے انتفادہ کے تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ 17سالہ طفیل احمد متو 11جون 2010کو بھارتی پولیس کی طرف سے سرینگر کے علاقے راجوری کدل میں چلایا جانے والا آنسو گیس کا گولہ لگنے کے باعث اس وقت شہید ہوا تھا جب وہ ٹیوشن کے بعد واپس گھر جا رہا تھا۔

طفیل متو کی شہادت پر مقبوضہ علاقے میںمسلسل کئی ماہ تک بڑے پیمانے پر بھارت مخالف احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمااور جموںوکشمیر سوشل پیس فورم کے چیئرمین ایڈووکیٹ دیویندر سنگھ بہل نے جموں خطے کے علاقے نوشہرہ میں ٹاپ رجل باری کے مقام پر ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے افسوس ظاہر کیا کہ بھارت حق خود ارادیت کے حصول کی حق پر مبنی کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کیلئے فوجی طاقت کا بے دریغ استعمال کر رہا ہے۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کے رہنماء محمد یوسف تاریگامی نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں مقبوضہ جموںوکشمیر کی 5اگست2019سے قبل والی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ جموںو کشمیر Reorganisationایکٹ 2019جس کے تحت مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر کے اسے دو یونین ٹیریٹریوں میںتقسیم کیاگیا تھا غیر آئینی ، جبری اور مقبوضہ علاقے کے عوام کے مفادات کے خلاف ہے۔

جموں کے علاقے شکتی نگر میں خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے رہائشی علاقے میں شراب کی دکانیں کھولنے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ جموںوکشمیر انجمن شرعی شیعیان کے رہنما آغا منتظرمہدی نے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آبادکے زیر اہتمام منعقدہ ایک ویبنار سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کی سول سوسائٹیوں پر زور دیا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کو قریب لانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔