بجٹ حکومتی اعلانات اور کاروباری توقعات کے مطابق ہے،میاں زاہد حسین

خام مال پر کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ خوش آئند ہے، ایکسپورٹ بڑھے گی،چیئرمین نیشنل بزنس گروپ

ہفتہ جون 18:04

بجٹ حکومتی اعلانات اور کاروباری توقعات کے مطابق ہے،میاں زاہد حسین
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 جون2021ء) نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ بجٹ مجموعی طور پر حکومتی اعلانات اور کاروباری برادری کی توقعات کے عین مطابق ہے۔ بجٹ ڈاکومنٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اب حکومت ہر قیمت پر اقتصادی ترقی چاہتی ہے اور اسکے لئے بھاری اخراجات کرنے کو تیار ہے۔

میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے 8478 ارب روپے کے بجٹ کا اعلان کر دیا ہے جس میں ٹیکس آمدنی کا ہدف 5829ارب روپے ہے جو سابقہ ٹارگٹ سے 20 فیصد زیادہ ہے جس کا حصول چیلنجنگ ہوگا۔ اگلے سال دو سو ستر ارب روپے تک کے موبائل فون درآمد کئے جائیں گے جن پر سولہ ارب روپے کی ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کر دی گئی ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وباء کی وجہ سے موبائل فونز اور انٹرنیٹ کی اہمیت میں بہت اضافہ ہوا ہے اس لئے ٹیلی مواصلات کے آلات اور خدمات پر ٹیکس کم کرنے کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

وزیراعظم نے فون کال، انٹرنیٹ پیکج اور ایس ایم ایس پر ٹیکس میں اضافے کو مسترد کر دیا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ جبکہ آن لائن شاپنگ پر بھی گیارہ ارب روپے کے ٹیکس عائد کئے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ گاڑیوں کی صنعت کے فروغ کے لئے 850 سی سی تک کی مقامی تیار شدہ کاروں پر سیلز ٹیکس 17 فیصد سے کم کر کے 12.5 فیصد کر دیا گیا ہے جبکہ فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے جس سے انکی قیمت کچھ کم ہو جائے گی جبکہ مقامی سطح پر الیکٹرک کاربنانے پر سیلز ٹیکس کو سترہ فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کر دیا گیا ہے جس سے صنعتکاری کے عمل کو فروغ ملنے کا امکان ہے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ درآمد شدہ سامان تعیش پر کسٹم ڈیوٹی بڑھا دی گئی ہے جس سے میک اپ، شیمپو، اشیاء خورد و نوش اور پرفیوم وغیرہ مزید مہنگے ہو جائیں گے اور اس سے حکومت کی آمدنی میں گیارہ ارب روپے کا اضافہ ہو گا تاہم ان اشیا کی سمگلنگ میں اضافے کا امکان ہے چینی پر ایک روپے فی کلو ٹیکس میں اضافہ اور ملک بھر میں زبردست لوڈ شیڈنگ کے دوران بیٹریاں مہنگی کرنے کے فیصلے غلط ہیں جنھیں فوری واپس لیا جائے۔

خام مال اور کیمیکلز کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی کی معافی یا کمی کا بھی اعلان کیا گیا ہے جس سے کاروباری لاگت میں کمی ہوگی اور صنعت ترقی کرے گی، ایف بی آر کے صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ اور پوائنٹ آف سیلز اچھے اقدامات ہیں اس سے اعتماد، ریونیو اور ڈاکومنٹیشن میں اضافہ ہوگا جسکی حمایت کرتے ہیں۔ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے ذریعے 600 ارب روپے حاصل کیے جائیں گے جس کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 25 سے 30 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے جبکہ حکومت نے آئی ایم ایف سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے لیے بھی فی الحال مہلت حاصل کی ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں مہنگائی کی ایک نئی لہر آنے کا امکان ہے۔