آزاد کشمیر انتخابات، تحریک انصاف کو 22 نشستیں ملنے کا امکان

ماضی کے مقابلے میں اس مرتبہ حکمراں جماعت کیلئے فتح حاصل کرنا قدرے مشکل ٹاسک، پی ٹی آئی کی 12 نشستوں پر پوزیشن مضبوط، 10 نشستوں پر تھوڑی محنت سے کامیابی حاصل ہو سکتی ہے: سینئر صحافی کا تجزیہ

muhammad ali محمد علی جمعہ 23 جولائی 2021 23:30

آزاد کشمیر انتخابات، تحریک انصاف کو 22 نشستیں ملنے کا امکان
مظفرآباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔23 جولائی2021ء) آزاد کشمیر انتخابات، تحریک انصاف کو 22 نشستیں ملنے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر انتخابات کے انعقاد کے میں صرف 2 دن باقی ہیں۔ چند گھنٹوں بعد آزاد کشمیر میں انتخابی مہم چلانے کا وقت ختم ہو جائے گا۔ انتخابات کے انعقاد سے قبل ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں بھرپور انداز میں انتخابی مہم چلا رہی ہے۔

جبکہ انتخابات میں پارٹی پوزیشن کے حوالے سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی حبیب اکرم کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اس مرتبہ حکمراں جماعت کیلئے فتح حاصل کرنا قدرے مشکل ٹاسک ہے۔ آزاد کشمیر کی کل 33 نشستوں میں سے پی ٹی آئی کی 12 نشستوں پر پوزیشن مضبوط ہے، جبکہ 10 نشستوں پر تھوڑی محنت سے کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔

(جاری ہے)

10 میں سے 4 نشستیں ایسی ہیں جہاں تحریک انصاف کو صرف تھوڑی سی توجہ دینے کی ضرورت ہے، جبکہ باقی 6 نشستوں پر مقابلہ سخت ہے، یہاں اگر تحریک انصاف کچھ زیادہ محنت کرے تو اسے ان نشستوں پر بھی فتح حاصل ہو سکتی ہے، یوں حکمراں جماعت کیلئے 33 میں سے 22 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کا امکان ہے، تاہم تینوں بڑی جماعتوں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہو گا۔

دوسری جانب انتخابات سے قبل گیلپ پاکستان کی جانب سے ایک سروے کروایا گیا ہے جس میں آزاد کشمیر کی عوام سے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی گئی۔ سروے کے دوران آزاد کشمیر کی عوام سے سوال کیا گیا کہ وہ وزیراعظم عمران خان، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو، شہباز شریف اور مریم نواز میں سے کسے اپنا پسندیدہ ترین لیڈر مانتے ہیں۔ جواب میں عمران خان تقریباً 70 فیصد کشمیریوں کے پسندیدہ ترین لیڈر قرار پائے جبکہ مریم نواز آزاد کشمیر میں مقبولیت حاصل کرنے میں ناکام رہیں، بلاول دوسرے مقبول ترین لیڈر قرار پائے۔

سروے نتائج کے مطابق آزاد کشمیر کی 67 فیصد عوام نے وزیراعظم عمران خان کو اپنا پسندیدہ لیڈر قرار دیا، جبکہ بلاول بھٹو 49 اور شہباز شریف 48 فیصد حمایت حاصل کر سکے۔ سروے نتائج کے مطابق نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز آزاد کشمیر کی عوام میں مقبولیت حاصل کرنے میں ناکام رہیں، انہیں صرف 44 فیصد لوگوں کی حمایت حاصل ہوئی۔ سروے کے دوران آزاد کشمیر کی عوام نے انتخابات کی شفافیت کے حوالے سے بھی رائے کا اظہار کیا، کشمیری عوام کی اکثریت کی رائے میں 25 جولائی کے انتخابات صاف اور شفاف ہوں گے۔

53 فیصد کشمیری عوام کے مطابق 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات شفاف ہوں گے۔ اس کے علاوہ سروے کے دوران آزاد کشمیر کی عوام سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ وہ تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں سے کس سیاسی جماعت کی حمایت کرتے ہیں۔ سروے کے دوران پاکستان تحریک انصاف واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ سروے نتائج کے مطابق آزاد کشمیر کے 44 فیصد عوام نے انتخابات کے دوران تحریک انصاف کو ووٹ دینے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ عوام کی حمایت حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہیں۔

سروے نتائج کے مطابق 12 فیصد عوام ن لیگ جبکہ صرف 9 فیصد لوگ پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے کے حامی ہیں۔ یوں یہ دونوں جماعتیں مشترکہ طور پر صرف 21 فیصد عوام کی حمایت حاصل کر سکیں، جبکہ پاکستان تحریک انصاف تنہاء 44 فیصد حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔