سردار عتیق کی شوپیاں میں مزید5 کشمیری نوجوانوں کی شہادت ،این آئی اے کی مختلف علاقوں میں بلاجواز چھاپوںکی مذمت

کشمیر کے اندر بھارتی غاصب افواج نوجوانوں پر گولیاں برسا کر ان کو شہید کررہی ہے،عالمی برادری آنکھوں پر پٹی باند کر خاموش بیٹھی ہے ، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر

بدھ 13 اکتوبر 2021 19:10

مظفرآباد/راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 اکتوبر2021ء) آل جموں وکشمیرمسلم کانفرنس کے قائد وسابق وزیراعظم سردارعتیق احمدخان نے نے گزشتہ روز ضلع شوپیاں میں مزید5 اور کشمیری نوجوانوں کی شہادت اوربھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی جموں وکشمیر کے مختلف علاقوں میں بلاجواز چھاپے مارنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے اندر بھارتی غاصب افواج نوجوانوں پر گولیاں برسا کر ان کو شہید کررہی ہے۔

سرعام گھروں کی تلاشی اور خواتین کی عصمت دری کی جارہی ہے اور عالمی برادری آنکھوں پر پٹی باند کر خاموش بیٹھی ہے ۔ہندوستان کی اس کھلی اور منظم دہشتگردی پر اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، او آئی سی، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کااظہارانہوں نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ قابض ہندوستانی حکومت پوری ریاست کو جیل میں بدل کر ہزاروں نہتے شہریوں کو جیلوں میں قید بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو قتل اور حق خودارادیت مانگنے والے کشمیری عوام کی زبان بندی کرنا چاہتی ہے مگرہندوستان اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوگا۔

کشمیری آزاد ی کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیرمیںعوام کی شہادتیں ،گھر گھر تلاشی بھارت حکومت کا سفاک چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہونے کے باوجود بھی اقوام متحدہ کی طرف مسئلہ کشمیر پر عدم دلچسپی مزید بدامنی اور ظلم وتشدد کی وجہ بن رہی ہے۔ تمام انسانی حقوق کی تنظیموں کو چاہیے کہ کشمیریوں کا بنیادی حق حق خودارادیت دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

قائدمسلم کانفرنس نے عالمی اداروں، انصاف پسند ممالک، امن پسند اقوام سے مطالبہ کیا کے وہ ہندوستان کو ہر طرح کی دہشتگردی سے روکنے، غیر قانونی طور پر ہندوستان کی جیلوں میں قید کشمیری اسیران کی رہائی، مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی سازشوں کو بند کروانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان جان لے آزادی کے حصول تک کشمیری عوام جدوجہد جاری رکھے گی۔ہندوستان کو کشمیریوں کا بنیادی حق حق خودارادیت دینا ہوگا ورنہ جنوبی ایشیاء کا امن خطرے میں پڑھ سکتا ہے۔