پی ٹی آئی کے درجنوں ایم این ایز کا شہباز شریف سے رابطہ

کل میری شہبازشریف سے ملاقات ہوئی تو مجھے پتہ چلا کہ تحریک انصاف کے درجنوں ایم این ایز ن لیگ میں شامل ہونے کے لیے رابطہ کر رہے ہیں۔سینئر صحافی سلیم صافی کا دعویٰ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ 14 جنوری 2022 17:02

پی ٹی آئی کے درجنوں ایم این ایز کا شہباز شریف سے رابطہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 جنوری 2022ء) : سینئر صحافی سلیم صافی کا شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کے لوگوں نے بلدیاتی انتخابات میں اپنا غصہ دکھایا۔پرویز خٹک جیسے لوگوں کی بہت تذلیل کی گئی اور وہ لوگ جن کی پہلے کوئی حیثیت نہیں تھی،ان کو لا کر سروں پر بٹھا دیا گیا۔گذشتہ انتخابات میں پرویز خٹک نے اچھی کارگردگی دکھائی،خیبرپختونخوا کی روایات کے برعکس سیٹوں کی تعداد ڈبل کر دی تھی لیکن ان کو وزیراعلیٰ نہیں بنایا گیا،ان کی جگہ مراد سعید کی سفارش پر محمود خان کو وزارت اعلیٰ کے عہدے پر لایا گیا۔

پرنسپل سیکرٹری کے ذریعے بھی ان کی تذلیل کی گئی۔حالات خراب ہوئے تو انہیں پارٹی کو منظم کرنے کے لیے بھیجا گیا۔

(جاری ہے)

جب وہ ایبٹ آباد گئے تو لوگوں کے ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا۔سلیم صافی نے مزید کہا کہ میری گذشتہ روز شہباز شریف سے ملاقات ہوئی تھی انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے درجنوں ایم این ایز رابطہ کر رہے ہیں کہ اگر انہیں ن لیگ کا ٹکٹ مل جائے تو وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔

لیکن بدقسمتی تو یہ ہے کہ جس طرح حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں اسی طرح اپوزیشن کے پاس بھی نہیں ہے۔علاوہ ازیں سلیم صافی نے وزیر دفاع پرویز خٹک کی وزیراعظم عمران خان سے دوران اجلاس تلخ کلامی کے معاملے پر کہا کہ خیبرپختونخوا میں پرویز خٹک سے زیادہ وزارت اعلیٰ کا مستحق کون تھا ؟ انہوں نے آنے والے دنوں سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ کئی وزرا کے انکشافات خلوتوں میں احمد جواد اور محسن بیگ سے بھی بڑے بڑے ہیں۔

سلیم صافی نے کہا کہ جب زلفی بخاری اور عون چودھری جیسے لوگ وعدہ معاف گواہ بن کر بولیں گے تو پھر دنیا دیکھے گی ۔ دوسری جانب منی بجٹ پر بات کرتے ہوئے پروگرام میں شامل ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہا کہ منی بجٹ سے عام آدمی متاثر نہیں ہو گا، اس کا مقصد ٹیکس نیٹ کو بڑھانا ہے، اس کو دستاویزی شکل دی جائے، پہلے ان پٹس پر سیلز ٹیکس نہیں لگا کرتا تھا ، بہت ساری چیزیں ٹیکس سے نکال دیں، اخراجات بڑھنے میں بھی آئی ایم ایف پروگرام کا پورا پورا حصہ ہے۔
>