نواز شریف سیاست سے کنارہ کشی اختیار نہیں کررہے، خرم دستگیر
کھل کر تنقید ہم نے برداشت کی ہے، 126 دن کا دھرنا بھی سہا تھا اور ہم معاملے میں بہت تجربہ کار ہیں امید ہے اس مرتبہ حلف اٹھانے کے بعد شہباز شریف قوم کو تلخ معاشی حقائق سے آگاہ کریں گے اور ایوان سے سخت فیصلوں کا مطالبہ کریں گے، انٹرویو
اتوار 25 فروری 2024 14:15
(جاری ہے)
انہوںنے کہاکہ سیاست میں ہم دلبرداشتہ نہیں ہوتے اور عوام نے جو بھی فیصلہ دیا ہے اس کی بنیاد پر ہی آگے بڑھنا ہے ، نواز شریف یہ سمجھتے ہیں کہ شہباز شریف کو حال ہی میں 15 جماعتی حکومت چلانے کا تجربہ ہے اور وہ غالبا اس وقت ملک کو زیادہ بہتر طریقے سے آگے لے کر چل سکتے ہیں۔
مسلم لیگ(ن)کے رہنما نے کہا کہ کھل کر تنقید ہم نے برداشت کی ہے، 126 دن کا دھرنا بھی سہا تھا اور ہم معاملے میں بہت تجربہ کار ہیں لیکن اس مرتبہ مجھے توقع ہے کہ اس مرتبہ حلف اٹھانے کے بعد شہباز شریف قوم کو تلخ معاشی حقائق سے آگاہ کریں گے اور اسی بنیاد پر ایوان سے سخت فیصلوں کا مطالبہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد سے مستقل زرمبادلہ کا بحران ہے، اس سے نمٹنے اور مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے بڑے سخت فیصلے کرنے پڑیں گے، حکومت کے اخراجات اور قرضوں میں کمی کرنی پڑے گی، تو مجھے توقع ہے کہ شہباز شریف قوم کے سامنے کڑوا سچ رکھیں گے۔مولانا فضل الرحمن کو اتحاد سے مائنس کرنے کے سوال پر خرم دستگیر نے کہا کہ مولانا کو خیبر پختونخوا کے نتائج پر تحفظات ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کے حق میں صوبے میں دھاندلی کی گئی اور حیران کن بات یہ ہے کہ وہ جس کے سبب بیمار ہوئے تھے انہی کے پاس دوا لینے چلے گئے ہیں لیکن یہ ان کا سیاسی فیصلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی قومی اسمبلی میں کم نشستیں ہیں لیکن ہماری خواہش ہے کہ وہ اب بھی حکومت کا حصہ بنیں اور ان کے تجربے کا فائدہ پاکستان اور اس اتحاد کو ہونا چاہیے۔انہوںنے کہاکہ حکومت بننے کے بعد ہم مولانا فضل الرحمن کو دعوت دیں گے، اس لیے نہیں کہ ہمیں نمبرز چاہئیں بلکہ اس لیے تاکہ ہم ان کے تجربے سے حکومت کو تقویت بخش سکیں، انہوں نے جذبات میں آ کر فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایک جماعت کے ساتھ جا کر بیٹھ رہے ہیں لیکن ہم انہیں پھر دعوت دیں گے کیونکہ وہ ہم سے زیادہ جانتے ہیں کہ اس جماعت سے ملنا فاشزم کو تقویت دینا ہے۔سنی اتحاد کونسل سے مستقبل میں رابطے کے حوالے سے سوال پر مسلم لیگ(ن)کے رہنما نے کہا کہ پارلیمان کے وجود میں آنے کے بعد وہاں موجود کسی سے بھی بات کرنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بننی چاہیے، یہ رکاوٹیں پی ٹی آئی نے خود ڈالی تھیں اور جب ہم اپوزیشن میں تھے تو ان کے بانی چیئرمین کا اصرار تھا وہ ہم سے ہاتھ نہیں ملائیں گے۔انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی ان کے بانی کا مستقل وطیرہ یہ ہے کہ اپنے علاوہ وہ سب کو غدار اور ڈاکو سمجھتے ہیں تو رویہ سنی اتحاد کونسل نے بدلنا ہے۔مزید قومی خبریں
-
ٌساحل اور وسائل کے استحصال کے علاوہ بلوچستان کے ساتھ کیا انصاف کیا گیا ہے، سردار اخترمینگل
-
eاوگرا قیمتوں کے برعکس، ایل پی جی کی بلیک میں فروخت
-
میر رضا قتل کیس، مقتول کی بہن کا مشکوک گاڑیوں سے پیچھا اور سیکیورٹی واپس لینے کا دعویٰ
-
ٹک ٹاکر عائشہ شمسو کے قتل کا معمہ حل ،باپ،بھائی، کزن نے غیرت کے نام پر قتل کیا
-
جن مقامات پر رسولِ اکرم ﷺکے قدمِ مبارک لگے ان سے محبت بھی ایمان کا حصہ ہے۔ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
-
پنجاب بھر میں 1329 ٹریفک حادثات میں 13افراد جاں بحق، 1540 زخمی
-
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے پاکستان میں جرمنی کی سفیر اینا لیپل کی ملاقات
-
کوئی بھی مذہب تشدد کرنے کی تر غیب اور اجازت نہیں دیتا ‘مریم نواز
-
مریم نواز سے ملتان ارکان صوبائی اسمبلی کی ملاقات،سیاسی صورتحال، عوامی پراجیکٹس اور حلقے کے مسائل پر بات چیت
-
افغان میڈیکل یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل پاکستانی طلبہ کو درپیش مشکلات کے حل کے لئے بھرپور تعاون فراہم کیا جائے گا،فیصل کنڈی
-
ایک سال میں تمام ٹرینیں اپ گریڈ نہیں ہوسکتیں، محمد حنیف عباسی
-
صوبوں کی تشکیل کے لیے آئینی طریقہ کار کے علاوہ کوئی راستہ قبول نہیں، شرجیل میمن
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.