فیڈرل پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی میں ای پروکیورمنٹ کا کامیاب اطلاق، سرکاری اخراجات میں کمی اور شفافیت کی طرف اہم پیش رفت

پیر 15 جولائی 2024 21:30

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 15 جولائی2024ء) فیڈرل پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) نے ورلڈ بنک کی معاونت سے تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے ای پروکیورمنٹ سسٹم (ای پاک ایکیوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم) کا آغاز کر دیا ہے جو سرکاری اخراجات میں کمی ، خریداری کے دوران کرپشن اور ٹیکس چوری کی روک تھام شفافیت کی طرف اہم پیش رفت ہے، یہ نظام 27 وفاقی وزارتوں اور 280 سرکاری اداروں کے اندر کامیابی سے نافذ ہو چکا ہے ۔

پیپرا کی طرف سے جاری بیان کے مطابق فیڈرل پیپرا نے پروکیورمنٹ کے طریقہ کار کو آسان اور موثر بنانے کے لئے پروکیورمنٹ رولز 2004 کے اندر 25 ترامیم کی ہیں، پروکیورمنٹ ایجنسیزاور سپلائرز کی سہولت کیلئے معیاری بڈنگ ڈاکومنٹس اور پروکیورمنٹ ریگولیشنز بھی شائع کر دیئے ہیں اور ہیلپ ڈیسک بھی قائم کر دیا گیا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر محکموں اور سپلائرز کو تکنیکی معاونت فراہم کر رہے ہیں ۔

(جاری ہے)

ای پروکیورمنٹ سسٹم کو بہتر طریقہ سے چلانے کے لئے مارچ 2023 سے لے کر اب تک مختلف سرکاری محکموں کے 8500 سرکاری افسران اور سپلائرز کوتر بیت فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 13000 سپلائرز اور کاروباری فرمز کامیابی سے بغیر کسی فیس کے ای پروکیورمنٹ سٹم پر رجسٹرڈ ہو چکے ہیں جو کہ فیڈرل گورنمنٹ کی پروکیورمنٹ میں حصہ لینے کے لئے اہل ہو گئے ہیں۔

ای پروکیورمنٹ سسٹم اب تک 27 وفاقی وزارتوں اور 280 سرکاری اداروں کے اندر کامیابی سے نافذ ہو چکا ہے اور اس کے فوائد واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں۔اس کے علاوہ فیڈرل پیپرا نے ای پروکیورمنٹ سسٹم پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخواہ کے حوالے کر دیا ہےجس کی وجہ سے صوبے اب موثر اور شفاف طریقے سے پروکیورمنٹ کر سکیں گے۔ حکومت پنجاب نے یکم جولائی سےموثر طریقے سے ای پروکیورمنٹ سسٹم کو پورے صوبے میں لاگو کر دیا جوشفافیت کی طرف ایک احسن قدم ہے۔

مینجنگ ڈائریکٹر فیڈرل پیپرا حسنات احمد قریشی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں حکومتی اخراجات میں شفافیت لانے اور اخراجات کو کم کرنے کیلئے ای پروکیورمنٹ سسٹم کا آغاز کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایات کے مطابق نظام کو جلد پورے ملک بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں نافذ کیا جائیگا تا کہ حکومتی اخراجات میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید برآں سپلائرز اور پر کیورمنٹ ایجنسیز کی سہولت کیلئے نادرا ، ایف بی آر ، ایس بی پی ، اے جی پی آر اور دیگر اداروں کے ساتھ ملکر ایک مربوط نظام بنایا جا رہا ہے جس سے نہ صرف ای پروکیورمنٹ ون ونڈو آپریشن کے تحت ہو سکے گی ۔ای پروکیورمنٹ سسٹم کی کامیابی میں وزارت خزانہ اور کیبنٹ ڈویژن کا اہم کردار ہے جو وز یر اعظم شہباز شریف کی ہدایات کی روشنی میں ای پروکیورمنٹ سسٹم کو نافذ کرنے کےلئے بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں۔