پاکستان نے ثالثی عدالت میں ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن تنازعہ کی پیروی کے لیے امریکی فرمز کی خدمات حاصل کر لیں
لا فرمز کی خدمات گیس پائپ لائن معاہدے کو مکمل کرنے یا بھاری جرمانہ ادا کرنے کی ایرانی کوششوں کا مقابلہ کرنے کے لیے حاصل کی گئی ہیں.رپورٹ
میاں محمد ندیم
جمعرات 31 اکتوبر 2024
15:28
(جاری ہے)
تاہم پاکستان نے امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے اپنی سر زمین پر پائپ لائن کی تعمیر شروع نہیں کی رواں سال اگست میں پاکستانی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا تھا کہ تہران نے پیرس میں قائم ثالثی عدالت سے رجوع کرنے سے قبل اسلام آباد کو حتمی نوٹس دیا ہے.
امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق پاکستان میں اٹارنی جنرل کے دفتر کے ایک اعلیٰ ترین ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے قانونی فرمز کی خدمات حاصل کر لی ہیں اطلاعات ہیں کہ اس منصوبے میں تاخیر پر اسلام آباد کو 18 ارب ڈالر تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے سال 2011 میں ایران نے اعلان کیا تھا کہ اس نے اپنی طرف 900 کلومیٹر طویل پائپ لائن کی تعمیر مکمل کر لی ہے. اس اعلان کے دو سال بعد اس وقت کے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد اور پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے ایرانی سر زمین پر سات ارب ڈالر کے منصوبے کا افتتاح کیا تھا بعد ازاں 2014 میں پاکستان نے آئندہ سال یعنی 2015 سے شروع ہونے والے یومیہ 10 لاکھ ڈالر تک کے جرمانے کی ادائیگی سے بچنے کے لیے اس منصوبے میں 10 سال کی توسیع کا مطالبہ کیا. جس کے بعد مارچ 2024 میں جب توسیع کی مدت اختتام کو پہنچنے کے قریب تھی تو اس وقت کی پاکستان کی نگراں حکومت نے صوبہ بلوچستان کے شہر گوادر میں ایران کے ساتھ اپنی سرحد سے پائپ لائن کے 80 کلومیٹر طویل حصے کی تعمیر کی منظوری دی تاہم اس تعمیر کا آغاز ابھی ہونا باقی ہے گزشتہ ماہ پاکستان کے وزیرِ پیٹرولیم مصدق ملک نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ بین الاقوامی پابندیاں پائپ لائن کے آگے بڑھنے کی راہ میں حائل ہیں. انہوں نے کہا تھا کہ یہ انتہائی پیچیدہ معاملہ ہے اور اس میں بین الاقوامی پابندیاں شامل ہیں مصدق ملک نے ان رپورٹس کو مسترد کردیا تھا کہ ملک کو 18 ارب ڈالر تک کے جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن انہوں نے اس بارے میں کوئی اعداد و شمار نہیں بتائے تھے وزیرِ پیٹرولیم کے اس بیان کے کچھ گھنٹوں بعد امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے تہران کے ساتھ کاروبار کرنے کے خلاف واشنگٹن کی وارننگ کو دہرایا تھا. انہوں نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ ہم ایران کے خلاف اپنی پابندیاں جاری رکھیں گے ہم ایران کے ساتھ تجارتی معاہدے پر غور کرنے والے کو مشورہ دیتے ہیں کہ اس کے ممکنہ اثرات سے باخبر رہے واضح رہے کہ ایران اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرامز کی وجہ سے امریکی پابندیوں کی زد میں ہے پاکستان کی جانب سے بھی بعض اوقات یہ اشارہ دیا گیا کہ وہ امریکی وارننگ کی خلاف ورزی کرے گا لیکن اس حوالے سے کوئی عملی اقدام سامنے نہیں آیا اگرچہ پاکستان اپنی سرحد کے اندر پائپ لائن تعمیر کر سکتا ہے لیکن ایران سے گیس خریدنے کے لیے اسے واشنگٹن سے پابندیوں میں چھوٹ حاصل کرنا ہوگی اور اب تک اسلام آباد نے یہ چھوٹ حاصل نہیں کی ہے.مزید اہم خبریں
-
رجب بٹ اپنی دوسری شادی سسٹرولوجی کے خاندان میں کریں گے، ماہر نجوم کی پیشگوئی
-
سہیل آفریدی اڈیالہ پہنچے تو پولیس نے راستہ روک لیا، ملاقات نہ ہونے پر کارکنوں کیلئے اہم اعلان
-
بلوچستان کے طلبہ ملکی جامعات میں تعلیم حاصل کرکے ملک و صوبے کی ترقی میں کردار ادا کریں، وزیراعلیٰ
-
نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت گندم سے متعلق امور کی سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس
-
فیلڈ مارشل سید عاصم منیرسے ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایرڈے کی ملاقات
-
مبینہ ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کی درخواست منظور، عدالت نے ایک مقدمے میں بری کردیا
-
وزیراعلیٰ مریم نواز کا سپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی کے بیٹے کے انتقال پر اظہارافسوس
-
پنجاب ’’اینڈ ٹو اینڈ‘‘پیپرلیس اینڈ آٹو میشن ٹیکنالوجی دورمیں داخل
-
6،6 لاکھ پر سینیٹ کے آزاد امیدواروں کو ووٹ ملا ہے، فواد چوہدری کا دعویٰ
-
یوم آزادی ہمیں اپنی تاریخ سے وابستگی، قومی ذمہ داریوں کے احساس اور مستقبل کے لیے اجتماعی عزم کی تجدید کا درس دیتا ہے، سپیکر قومی اسمبلی
-
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی گلبہار پشاور میں جاوید آفریدی کے گھر آمد، والدہ کے انتقال پر تعزیت کی
-
میر رضا قتل؛ تفتیشی ٹیم کے این سی سی آئی اے کو خطوط، اہم مطالبات سامنے آگئے
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.