قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، قومی ورثہ و ثقافت کا اجلاس

جمعہ 25 جولائی 2025 21:20

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 جولائی2025ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، قومی ورثہ و ثقافت کا پندرہواں اجلاس پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین ڈاکٹر عظیم الدین زاہد لاکھوی نے کی۔ اجلاس میں قومی ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک) کی جانب سے مختلف اداروں کو دی جانے والی منظوری پر سخت تنقید کی گئی۔

کمیٹی کے ارکان نے موقف اختیار کیا کہ منظوری کے تجدید، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام میں واضح خامیاں موجود ہیں جنہیں فوری طور پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ارکان نے زور دیا کہ منظور شدہ اداروں کی سخت جانچ پڑتال ضروری ہے تاکہ تعلیمی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔

(جاری ہے)

کمیٹی نے ملازمین کی مستقلی کے مسئلے پر بھی واضح موقف اپنایا کہ کسی بھی اہل ملازم کو مستقل ہونے کے عمل سے محروم نہیں رکھا جانا چاہیے۔

اس میں پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے 15 سال سے خدمات انجام دینے والے کنٹریکٹ ملازمین، اسلام آباد ماڈل کالجز کے ڈیلی ویجز اساتذہ اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن/نیشنل سکلز یونیورسٹی کے وہ ملازمین شامل ہیں جو مستقل ہونے یا بحالی کے منتظر ہیں۔ کمیٹی کی مسلسل کاوشوں سے اب کابینہ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور اس مسئلے کو پارلیمان کو قانون سازی کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔

دوران اجلاس محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر نے کمیٹی کو اپنے دائرہ کار سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ ملک بھر میں 407 قومی سطح پر محفوظ آثار و مقامات کی نگرانی کر رہا ہے جن میں سے چھ مقامات اسلام آباد کی حدود میں واقع ہیں۔ ادارہ ملک میں 14 عجائب گھروں کو چلا رہا ہے اور یونیسکو اور آئی سی او ایم سمیت عالمی اداروں کے ساتھ شراکت داری قائم ہے۔

محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر نے بتایا کہ ان کی کوششوں سے امریکہ، برطانیہ، فرانس اور اٹلی سے 1,125 غیر قانونی طور پر سمگل شدہ نوادرات واپس لائے جا چکے ہیں۔ ادارے نے روات قلعہ اور شاہ اللہ دتہ غاروں کی بحالی میں بھی قابل ذکر پیش رفت کی ہے۔ کمیٹی نے ان کاوشوں کو سراہا اور عجائب گھروں کی جدید کاری اور عملے کی کمی جیسے مسائل حل کرنے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

ارکان نے کہا کہ قومی ورثے کا تحفظ ہماری تہذیبی شناخت کے تحفظ اور پاکستان کے روشن ثقافتی تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ مزید برآں اجلاس میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن (پائی) کے کردار پر بھی بریفنگ دی گئی۔ پائی کو آئینی ترمیم اٹھارہویں کے بعد قائم کیا گیا تھا اور یہ ادارہ قومی تعلیمی اعداد و شمار کے انتظام، صوبائی ڈیٹا کے ہم آہنگی، ملک گیر تعلیمی جائزوں اور پالیسی سازی کے لیے تحقیق فراہم کرنے کا کام انجام دیتا ہے۔

پائی کا مقصد تعلیم کے شعبے میں ڈیٹا کی درستگی، ایس ڈی جی-4 کی نگرانی اور سکول نہ جانے والے بچوں کی نشاندہی کو بہتر بنانا ہے۔ پائی اس ضمن میں یونیسکو، لمز اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ اجلاس میں رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عظیم الدین زاہد لاکھوی، انجم عقیل خان، سیدہ نوشین افتخار، ذوالفقار علی بھٹی، فرح ناز اکبر (پارلیمانی سیکریٹری)، مسرت آصف خواجہ، ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو، مہتاب اکبر راشدی، مسرت رفیق مہیسر، عبدالعلیم خان، سبین غوری، داور خان کنڈی، فیاض حسین، محمد اسلم گھمن، وجیہہ قمر اور محمد معین عامر پیرزادہ نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران بھی موجود تھے۔