بیرون ممالک جیلوں میں مجموعی طور پر 17ہزار 236پاکستانی مختلف جرائم کی بناء پر قید ہیں‘سینیٹ کی اوورسیز کمیٹی کوبریفنگ دی

پیر 11 اگست 2025 22:09

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 11 اگست2025ء) سینیٹ کی اوورسیز کمیٹی کو بتایا گیا کہ بیرون ممالک جیلوں میں مجموعی طور پر 17ہزار 236پاکستانی مختلف جرائم کی بناء پر قید ہیں جبکہ قیدیوں کے تبادلوں کے معاہدوں کی بدولت اب تک 24ہزار سے زائد قیدیوں کو واپس لایا گیا ہے۔سوموار کو سینیٹر ذیشان خانزادہ کے سربراہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ وزارت اورسیز پاکستان اور وزارت داخلہ کے حکام نے شرکت کی ۔اجلاس کو وزرات داخلہ کے حکام نے بتایا کہ رولز کے تحت ٹریٹی کرنا ہماری ذمہ داری ہے جبکہ قیدیوں سے متعلق ڈیٹا جمع کرنا کمیونٹی ویلفیئر کا کام ہے انہوں نے کہاکہ مختلف ممالک میں قید پاکستانیوں کوقونصلر رسائی دیتے ہیں۔

(جاری ہے)

حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت17ہزار236 پاکستانی مختلف ممالک قید ہے جس میں مشرق وسطیٰ میں15ہزار 238 پاکستانی قید ہے جبکہ2023،24 میں سری لنکا، برطانیہ سے قیدیوں کو واپس لایا گیا ہے چین سے پانچ قیدی جلد وطن واپس آئیں گے حکام نے بتایا کہ ڈیٹا جمع کرنا وزارات خارجہ اور وزارات اوور سیز کی ذمہ داری ہے اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے بریفنگ دستاویزات جمع نہ کرانے پر اراکین کمیٹی برہم رکن کمیٹی سینیٹر شہادت اعوان نے کہاکہ کئی مرتبہ کہا ہے مناسب طرقے سے بریف پیپر دیے جائیں انہوں نے کہاکہ زارت داخلہ حکام کی بریفنگ سے لگ رہا ہے کہ حکومتی محکموں میں تعاون نہیں ہے انہوں نے کہاکہ وفاقی وزیر اوورسیز اور سیکٹری اوورسیز بھی نہیں آے ہیں اس موقع پر وفاقی وزیر اور سیکٹری اوورسیز کی عدم موجودگی پر اراکین نے اجلاس ملتوی کرنے کی سفارش کردی اس موقع پر وزارت اورسیز کے حکام نے بتایا کہ ہماری وزیر مملکت اوورسیز آن لائن دستیاب ہیں جس پر چیرمین کمیٹی نے کہاکہ اگر آئندہ سیکٹری یا وفاقی وزیر نہ ہوئے تو اجلاس نہیں کریں گئے اور معاملے پر چیئرمین سینیٹ اور وزیراعظم کو خط لکھیں گے۔

۔۔۔۔اعجاز خان