باجوڑ میں خفیہ اطلاعات پر کارروائی ہورہی ہے لارج سکیل آپریشن نہیں، چیف سیکرٹری کی وضاحت

علاقے میں سڑک کے آس پاس موجود گھروں کو کلیئر کیا جا رہا ہے اور امید ہے کہ جلد ہی علاقہ مکمل طور پر محفوظ قرار دے دیا جائے گا؛ شہاب علی شاہ کی میڈیا سے گفتگو

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 14 اگست 2025 12:41

پشاور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 اگست 2025ء ) چیف سیکرٹری خیبر پختونخواہ شہاب علی شاہ نے وضاحت دی ہے کہ باجوڑ میں اس وقت انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی جاری ہے اور یہ کوئی بڑے پیمانے کا آپریشن نہیں، اس کارروائی کا مقصد دہشت گردوں کو دوسرے علاقوں میں منتقل ہونے سے روکنا ہے۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باجوڑ میں سڑک کے آس پاس موجود گھروں کو کلیئر کیا جا رہا ہے اور امید ہے کہ جلد ہی علاقہ مکمل طور پر محفوظ قرار دے دیا جائے گا، جس کے بعد لوگ واپس اپنے گھروں کو جا سکیں گے، گزشتہ روز جرگہ اور انتظامیہ کے ساتھ مشاورت ہوئی ہے تاکہ معاملات کو معمول پر لانے کا طریقہ کار طے کیا جا سکے۔

صوبائی چیف سیکرٹری کا کہنا ہے کہ جو دہشت گرد اس وقت خیبر پختونخوا کے ضم اضلاع میں موجود ہیں وہ کسی مقصد کے بغیر صرف بے معنی جنگ کے لیے آئے ہیں جہاں دہشت گرد آتے ہیں وہاں نہ کاروبار چلتا ہے نہ تعلیم اور نہ ہی کوئی اور معاشرتی سرگرمی ہوتی ہے، دہشت گرد کا کام حملہ کرنا ہے جب کہ پولیس اور سکیورٹی فورسز کا کام عوام کی جان و مال کا تحفظ کرنا ہے۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ باجوڑ اور خیبر میں شدت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے، سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں مقامی عمائدین اور شدت پسندوں کے درمیان ہونے والا امن جرگہ ناکام ہونے کے بعد یہ اقدام اٹھایا گیا کیوں کہ علاقے میں 800 کے قریب دہشتگردوں کی موجودگی کی تصدیق ہوئی، جرگے نے شدت پسندوں سے علاقہ چھوڑنے سمیت تین اہم مطالبات کیے تاہم فتنۃ الخوارج ٹی ٹی پی نے علاقہ خالی کرنے سے انکار کردیا۔

سرکاری ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ باجوڑ کی تحصیل ماموند کے دو علاقوں میں تقریباً 300 دہشتگرد موجود ہیں، خیبر میں بھی 350 سے زائد شدت پسند سرگرم ہیں، ان میں سے 80 فیصد سے زیادہ افغان باشندے ہیں، ماموند کی آبادی تین لاکھ سے زائد ہے، اب تک 40 ہزار سے زیادہ لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی کرچکے ہیں، متاثرین کے لیے رہائش کا انتظام مکمل کرلیا گیا ہے، خار میں 107 سرکاری عمارتوں میں بے گھر افراد کو ٹھہرایا جا رہا ہے اور خار سپورٹس کمپلیکس میں خیمہ بستی قائم کی جا رہی ہے۔