ایس ای سی پی اور پی بی سی نے کاروباری سہولت اور ریگولیٹری اصلاحات کے لیے جاری تعاون کی توثیق کر دی

منگل 19 اگست 2025 21:10

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 اگست2025ء) سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرپرسن عاکف سعید کی قیادت میں پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) کے ساتھ ایک ملاقات ہوئی جس میں حالیہ اصلاحات کا جائزہ لیا گیا اور پاکستان کے کارپوریٹ سیکٹر اور کیپٹل مارکیٹس کو مضبوط بنانے کے لیے مستقبل کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

منگل کے روز یہاں سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اس ملاقات نے کاروباری برادری کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے مطابق ریگولیٹری اقدامات کو ہم آہنگ کرنے کے ایس ای سی پی کے وژن اور ایک اہم سٹیک ہولڈر کے طور پر پی بی سی کے کردار کی توثیق کی۔ایس ای سی پی نے کارپوریٹائزیشن کی حوصلہ افزائی کے لیے کی گئی اہم اصلاحات کا خاکہ پیش کیا، جس میں کمپنی کے قیام کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن اور تعمیل کی ضروریات میں کمی شامل ہے۔

(جاری ہے)

ان اقدامات کی بدولت2025 - 2024 میں 35,000 سے زائد نئی کمپنیوں کی ریکارڈ رجسٹریشن ہوئی۔ شفافیت اور کارکردگی کو بڑھانے کے لیے فنانشل انسٹی ٹیوشنز پورٹل، الیکٹرانک مارگیج رجسٹر اور الٹیمیٹ بینیفیشل اونرشپ (یو بی او) رجسٹری جیسے اقدامات کو اجاگر کیا گیا۔ اپنی کیپٹل مارکیٹ اصلاحات کے ایجنڈے کے تحت، اہم کامیابیوں میں پی ایس ایکس پر حکومتی قرض سیکورٹیز کی فہرست، ایک سادہ آئی پی او نظام اور صرف آن لائن، شریعہ کے مطابق اور زرعی اجناس کے فیوچرز بروکرز کے لیے نئے فریم ورک شامل ہیں۔

مزید برآں ڈیجیٹل نان بینکنگ فنانشل کمپنیز (این بی ایف سیز)، میوچل فنڈز اور ایک ڈیجیٹل ڈسٹری بیوشن پلیٹ فارم کے فریم ورک سے مالیات تک وسیع رسائی کو فروغ دینے کی توقع ہے۔ایس ای سی پی کے چیئرپرسن نے پائیداری کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں پی بی سی کے فعال تعاون کو سراہا ،انہوں نے ای ایس جی ڈسکلوزر گائیڈ لائنز کے تحت رپورٹنگ کو فروغ دینے اور سٹیک ہولڈرز کے لیے صلاحیت سازی کے اقدامات کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

پی بی سی کے سی ای او جاوید قریشی نے کاروبار میں آسانی کو فروغ دینے اور ایک سازگار کاروباری ماحول پیدا کرنے کے لیے ایس ای سی پی کی فعال کوششوں کا اعتراف کیا۔ پی بی سی کے اراکین نے سی ایس آر بل پر ایس ای سی پی کے مشاورتی نقطہ نظر کو بھی سراہا، اس بات پر زور دیا کہ سی ایس آر کو رضاکارانہ رہنا چاہیے، ای ایس جی ) اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے، اور موجودہ میکانزم میں اصلاحات اور بہتر شفافیت سے اس کی حمایت کی جانی چاہیے۔

فریقین نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، اس مقصد کے لیے سہ ماہی رابطہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔ انہوں نے متوازن ریگولیشن اور کاروباری سہولت کو یقینی بنانے کے لیے کلیدی ریگولیٹری اور مارکیٹ اصلاحات پر مسلسل بات چیت جاری رکھنے کے اپنے عزم کی توثیق کی۔