اسلام آباد کے ہوٹلوں سمیت دیگر شہروں میں شراب کی فروخت پر مکمل پابندی لگائی جائے،ڈاکٹراسعد تھانوی

بدھ 20 اگست 2025 21:29

سکھر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 اگست2025ء)جامعہ اشرفیہ سکھر کے مہتمم و صدر نامور مذہبی اسکالر مولانا ڈاکٹر محمد اسعد تھانوی نے وفاقی دارالحکومت کے ہوٹلوں میں شراب کی فروخت کی اجازت پر شراب تمام مذاہب میں حرام اور ناجائز ہے لہٰذا اسلام آباد کے ہوٹلوں سمیت دیگر شہروں میں شراب کی فروخت پر مکمل پابندی لگائی جائے۔انتہائی افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسلام آباد میں چار ہوٹلوں کو شراب فروخت کرنے کی قانونی اجازت دی گئی ہے جن میں میریٹ، سیرینا، بیسٹ ویسٹرن اور موو اینڈ پک ہوٹلز شامل ہیں۔

جامعہ اشرفیہ سکھر کے شعبہ نشر و اشاعت کے جاری کردہ بیان میں حضرت مولانا ڈاکٹر محمد اسعد تھانوی نے مزید کہا کہ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے، جس کا آئین اور قانون قرآن و سنت کو ملک کا بالادست قانون قرار دیتا ہے۔

(جاری ہے)

اسلام میں شراب کی خرید و فروخت، پینا اور پلانا صریحاً حرام ہے اور اس پر سخت وعید سنائی گئی ہے۔ ایسے میں حکومتِ وقت کی جانب سے ہوٹلوں یا کسی بھی ادارے کو شراب فروخت کرنے کی اجازت دینا نہ صرف آئینِ پاکستان کی روح کے منافی ہے بلکہ یہ ملک کی اسلامی شناخت پر بھی کاری ضرب ہے۔

یہ افسوسناک امر ہے کہ ریاست کی طرف سے کھلے عام ایسے لائسنس جاری کیے جا رہے ہیں جن کے تحت شراب کی فروخت کی اجازت ملتی ہے۔ ایسی پالیسی سے نہ صرف معاشرے میں فحاشی، بے راہ روی اور جرائم میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ نوجوان نسل کے اخلاق و کردار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ شراب نوشی صرف ایک شخص کا ذاتی معاملہ نہیں بلکہ یہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔

لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ فوری طور پر اس پالیسی کو ختم کیا جائے، شراب کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور ہوٹلوں اور و ریسٹورانٹس میں اس حوالے سے سخت نگرانی کی جائے، تاکہ پاکستان نہ صرف اپنے آئینی و دینی تقاضوں پر پورا اترے بلکہ ایک حقیقی اسلامی ریاست کا عملی نمونہ پیش کرے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عوام مخصوص تمدن، ثقافت،تاریخی ورثہ، فلسفہحیات، اخلاقیات، سیاسیات اور اقتصادیات کی حامل ہے، کیونکہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا۔

اس کا مملکتی مذہب اسلام ہے، اس کا دستور قرآن وسنت کے تابع ہے اور ان تمام اٴْمور کی بنیاد اسلامی تعلیمات پر رکھی گئی ہے، اس لیے ضروریاتِ دین کا علم و عقیدہ اور ان پر عمل ہر کلمہ گو مسلمان پر فرض ہے، مثلاً: شہادتین کے بعد نماز، روزہ، زکاة اور حج جس طرح دین اسلام کے بنیادی مسائل ہیں، جن کا جاننا بھی فرض اور عمل کرنا بھی فرض ہے، اسی طرح شراب، جوا، سود، زنا، چوری وغیرہ کی حرمت بھی یقینی اور قطعی ہے۔ ہر مسلمان کو اس کا علم ہونا اور اس کی حرمت کا قطعی عقیدہ رکھنا بھی فرض ہے اور ان سے بچنا واجب ہے۔انہوںنے حکومت وقت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فی الفور ہوٹلوں کو شراب فروخت کی دی گئی اجازت منسوخ کریں بصورت دیگر انہیں عوامی رد عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔