پاکستان میں برابری اور شمولیت یقینی بنائی جائے ،پی سی ایچ آر کی اپیل

سپریم کورٹ فیصلے پر عمل درآمد، تعلیم و روزگار میں اقلیتوں کے مساوی مواقع کی فراہمی ضروری ہے

جمعہ 22 اگست 2025 21:49

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 22 اگست2025ء)پارلیمنٹرینز کمیشن برائے انسانی حقوق (PCHR) نے ایک شمولیتی پاکستان کی تعمیر کے لیے فوری قومی اقدامات پر زور دیا ہے، جہاں تمام مذاہب اور پس منظر کے شہری برابری اور وقار کے ساتھ معاشرتی زندگی میں حصہ لے سکیں۔ میڈیا بریفنگ میں مقررین نے کہا کہ قومی ترقی اور ہم آہنگی تبھی ممکن ہے جب کسی کو پیچھے نہ چھوڑا جائے۔

خطاب کرنے والوں میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر پی سی ایچ آر مسٹر شفیق چوہدری، ڈائریکٹر نیشنل کمیشن فار جسٹس اینڈ پیس مسٹر نعیم یوسف گل اور معروف انسانی حقوق کی محافظ محترمہ تنویر جہاں شامل تھیں۔ مقررین نے قائداعظم محمد علی جناح کے 11 اگست 1947 کے خطاب کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسی وقت مضبوط اور خوشحال ہوگا جب ہر شہری مذہب و عقیدے سے بالاتر ہو کر برابر کے حقوق سے لطف اندوز ہو۔

(جاری ہے)

مقررین نے کہا کہ آئینِ پاکستان شہریوں کو برابری اور شمولیت کی ضمانت دیتا ہے مگر عملی طور پر نظامی رکاوٹیں اقلیتوں کی ترقی میں حائل ہیں۔ سپریم کورٹ کے 2014 کے تاریخی فیصلے پر مکمل عمل درآمد کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے اقلیتوں کو تحفظ، وقار اور مساوی شراکت مل سکتی ہے۔محترمہ تنویر جہاں نے کہا کہ اقلیتوں کے لیے مختص پانچ فیصد ملازمت کوٹے پر خاطر خواہ عمل نہیں ہو رہا اور زیادہ تر اسامیاں خالی رہتی ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اکثر اہل اقلیتی شہریوں کو محض صفائی کے شعبے تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں بھی اقلیتی طلباء کے ساتھ امتیاز روا رکھا جاتا ہے اور کئی کو داخلوں سے محروم رکھا جاتا ہے۔مسٹر نعیم یوسف گل نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مثبت اقدامات جیسے اقلیتی امیدواروں کے لیے خصوصی امتحانی سہولتیں خوش آئند ہیں مگر ان اقدامات کو ادارہ جاتی شکل دینا اور وسیع تر اصلاحات سے جوڑنا ضروری ہے۔

مقررین نے فیصل آباد چرچ حملے جیسے واقعات کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کے بغیر اقلیتوں کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ اقلیتوں کے مسائل کو ذمہ داری سے اجاگر کرے اور ان کی مثبت خدمات کو سامنے لائے۔آخر میں مقررین نے کہا کہ روزگار میں مساوی مواقع، شمولیتی تعلیمی پالیسی، سپریم کورٹ فیصلے پر عمل درآمد، اور بین المذاہب مکالمے کو فروغ دیے بغیر شمولیتی پاکستان کی تعمیر ممکن نہیں۔